یوم آزادی پر عام پاکستانی کے احساسات

15 اگست 2012

  یوم آزادی پر ہم اہل پاکستان اپنے اللہ کے حضور جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے کیونکہ آزادی وہ نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن یہ یوم آزادی اجتماعی طورپر ہمارے لیے خود احتسابی کا بھی دن ہے میں چونکہ خود ایک عام پاکستانی ہوں اور اپنے ہی جیسے عام پاکستانیوں میں میرا اٹھنا بیٹھنا ہے اس لیے ایک عام پاکستانی کی پاکستان کے 65ویں یوم آزادی پر کیا احساسات ہیں،ایک عام پاکستانی حکمرانوں کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے اس سے میں بخوبی آگاہ ہوں۔ یوم آزادی پر جب ملک کا صدر اور وزیراعظم قوم کے نام اپنے اپنے پیغام میں یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ جمہوریت ہی پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور بقا کی ضمانت ہے تو ایک عام پاکستانی کے ذہن میں یہ سوالات ضرور جنم لیتے ہیں کہ جمہوریت یقینا پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی و بقا کی ضمانت ہے لیکن کیا موجودہ جمہوری حکمرانوں کی سوچ اور عمل بھی پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور سلامتی سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں جن حکمرانوں کو اقتدار میں پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں لیکن وہ صرف بجلی کی خوفناک لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی پورے طور حل نہیں کر سکے کیا ان حکمرانوں کو پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا ضامن قرار دیاجاسکتا ہے۔کیا گزشتہ چار پانچ سال میں بیس بیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کے باوجود پاکستان کی ترقی و خوشحالی کا کوئی امکان باقی بچا ہے۔بجلی کی یہ بد ترین لوڈشیڈنگ ملک کی معیشت کو تباہ و برباد تو کرسکتی ہے لیکن اس لوڈشیڈنگ کو قوم کی ترقی و خوشحالی کا ضامن ہرگز قرار نہیں دیاجاسکتا۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر اور معاشی حَب ہے۔وہاں کا تاجر اور صنعت کار گزشتہ چار پانچ سالوں میں مسلسل عدم تحفظ کا شکار رہا ہے۔بھتا خوروں اور اغوا برائے تاوان کرنے والوں نے کتنے ہی بے گناہ تاجروںکو قتل کردیا ہے۔مختلف وجوہات کے باعث ٹارگٹ کلنگ کے نہ ختم ہونے والے سلسلے نے بھی ہزاروں عام شہریوں کی زندگیوں کی شمعیں گل کردی ہیں۔ وہ حکمران جو بھتا خوروں اور ٹارگٹ کلرز کے مقابلہ میں مکمل طورپر بے بس ہیں اُن حکمرانوں کو پاکستان کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار تو ٹھہرایاجاسکتا ہے لیکن انہیں پاکستان کی ” ترقی و خوشحالی“ کا ضامن قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کیونکہ جس شہر اور ملک پر قتل و غارت گری کا آسیب چار پانچ سال سے مسلسل مسلط ہو وہاں ترقی و خوشحالی کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔ جشنِ آزادی کتنا خوشگوار احساس ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کے سیا ہ کرتوتوں کے باعث جشنِ آزادی کا مفہوم تبدیل ہوگیا ہے کیا کبھی ہمارے موجودہ حکمرانوں نے قوم کو یوم آزادی کے موقع پر مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے یہ بھی سوچا ہے کہ ملک کو اربوں کھربوں روپے کی کرپشن، کمر توڑ مہنگائی،لاءاینڈ آرڈر کی بدترین صورتحال اور بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ جیسے تحفے دینے والے حکمرانوں کی طرف سے آزادی کے مبارکباد کے پیغام سے قوم کے دلوں پر کیا کیا قیامتیں گزرتی ہوں گی۔ جن حکمرانوں کی عاقبت نااندیشانہ اور منافقانہ پالیسیوں کے باعث ملک کے وفاق کو خطرہ لاحق ہوجائے، بلوچستان میں علیحدگی کی سلگنے والی آگ پر مٹی کا تیل ڈالاجارہا ہو،کبھی ڈرون حملوں اور کبھی زمینی راستوں سے پاکستان کی بین الاقوامی سرحدوں کی حرمت پامال کی جارہی ہواور اغیار کی جنگ میں ملوث ہوکر پاکستان کی سلامتی کو خطرہ میں ڈال دیاجائے کیا اُن حکمرانوں سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ہم نے 14اگست 1947ءکو مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کی بدولت جو ملک حاصل کیا تھا یہ حکمران اس ملک کی آزادی کے تحفظ کے تقاضوں کو پورا کرسکتے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ ہماری نہیں ہے لیکن اس جنگ کے خوفناک نتائج پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے بھگت رہا ہے۔ امریکہ کے ذہنی اور عملی طورپر غلام ہمارے یہ حکمران کس منہ سے قوم کو یوم آزادی پر مبارکباد کہتے ہیں۔جب تک ہمارے حکمران امریکہ کے خوف کے دباﺅ میں ہیں اور وہ پاکستان کی خارجہ بلکہ داخلہ پالیسیوں کو بھی اپنی آزادانہ مرضی اور قومی غیرت و وقار کے مطابق تشکیل نہیں دے سکتے انہیں آزادی کا نام لینے اور قوم کو یوم آزادی پر مبارکباد دینے کا حق حاصل نہیں۔ کاش ہمیں تاریخ کے اس موڑ پر کوئی قائداعظم جیسی مدبر اور مخلص قیادت میسر آجائے جو برطانوی زنجیروں کی طرح امریکی زنجیروں کو توڑ ڈالے اور ہمیں یوم آزادی کی حقیقی خوشیوں سے ہمکنار کردے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...