عمران خان بنام خواجہ محمد آصف

15 اگست 2012

پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم شروع کررکھی ہے ۔ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان جناب راجہ پرویز اشرف نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اعلان کردیا ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں گے اور صاف شفاف ہوں گے اگر موجودہ حکمرانوں نے یہ وعدہ پورا کردکھایا تو ان کا نام انتخابی تاریخ میں سنہری حروف میں لکھاجائے گا۔انتخابی مہم کا آغاز جماعتوں کے منشور اور پروگرام سے ہونا چاہیئے تھا۔ پارٹی لیڈر عوام کو اعتماد میں لیتے کہ وہ کس طرح ان کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات دلائیں گے مگر افسوس انہوں نے الزام تراشی کی سیاست شروع کردی اور رمضان المبارک کے تقدس اور احترام کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کے نیک نام اور اصولی و نظریاتی سیاست دانوں کی فہرست تیار کی جائے تو اس میں جناب خواجہ محمد صفدر مرحوم کا نام آئے گا۔ ان کے فرزند ارجمند خواجہ محمد آصف کا شمار بھی تعلیم یافتہ اور مہذب اراکین اسمبلی میں ہوتا ہے۔ افسوس انہوں نے جماعتی سیاسی مفادات کے لیے رمضان کے مبارک مہینے میں عمران خان کو نشانہ بنانے کی خاطر پاکستان کے کامیاب مثالی ماڈل شوکت خانم میموریل کے فنڈز کی بے ضابطگیوںکے بارے میں سوال کھڑے کردئیے حالانکہ شوکت خانم کے لیے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے بھی تعاون کیا ۔ خواجہ آصف کے علم میں اگر کوئی مالی بے ضابطگی لائی بھی گئی تھی تو وہ یہ معاملہ رمضان المبارک کے بعد اُٹھالیتے۔ افسوس انہوں نے اپنی شاندار خاندانی روایات کو بھی نظر انداز کردیا اور ایک مثالی قومی ادارے کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پیدا کردئیے ہیں۔جناب عمران خان جو نیک نامی، دیانت اور بے داغ ماضی کے حوالے سے انتخابی مہم چلارہے ہیں خواجہ آصف کے الزامات ہضم نہیں کرسکتے تھے لہذا وہ خود میڈیا کے سامنے آئے اور نہ صرف اپنے خلاف الزامات کا جواب دیا بلکہ انہوں نے جناب میاں نواز شریف کے کاروبار اور جائیداد کے بارے میں گیارہ سوال اُٹھادئیے۔ الزامات اور جوابی الزامات کے بعد میچ ڈرا ہوجاتا تو بہتر ہوتا مگر جناب عمران خان نے جناب خواجہ آصف کو عدالت لے کرجانے کا اعلان کردیاہے۔ گویا الفاظ کی جنگ اب قانونی جنگ میں تبدیل ہونے والی ہے۔ جناب عمران خان نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال ہر سال کینسر کے غریب مریضوں پر دوارب روپے خرچ کرتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے رمضان کے مہینے میں اس لیے ہسپتال پر الزامات لگائے ہیں تاکہ اس ادارے کی مالی امداد کی مہم متاثر ہو اور مالی تعاون کرنے والے افراد کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کردئیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف منی لانڈرنگ الزامات اس لیے درست نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے شوکت خانم کے حسابات آڈت کرارکھے ہیں۔ جناب خواجہ آصف نے جناب عمران خان کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔سیاستدان عدالتوں پر اس قدر بوجھ ڈال رہے ہیں کہ عام آدمی کے مقدمات غیر معمولی التواءمیں چلے گئے ہیں۔ پاکستان کی بزرگ نسل جس نے پاکستان کو بنتے دیکھا اور سہانے خواب وابستہ کئے الزام تراشی کی سیاست سے سخت دل گیر ہے۔ شوکت خانم کا معاملہ اگر عدالت میں جائے گا تو انجام کار ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان قومی ادارے کا ہی ہوگا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے سوال اُٹھایا ہے کہ عوام کو جوابدہ وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو اقتدار میں رہی ہیں۔ جناب عمران خان اور تحریک انصاف سے ”ناکردہ گناہوں“ کا حساب کیوں مانگا جارہا ہے حالانکہ وہ کبھی اقتدار میں نہیں رہے۔ جناب چوہدری نثار احمد کی یہ رائے صائب ہے کہ سیاسی جماعتیں سپریم کورٹ کو ایک آزاد اور غیر جانبدار احتساب کمشن نامزد کرنے کی درخواست دیں۔ چوہدری صاحب قوم کو یہ بھی بتائیں کہ حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں چیف الیکشن کمنشر پر تو متفق ہوگئیں مگر احتساب کمشنر پر متفق کیوں نہ ہوسکیں۔رمضان المبارک کے مقدس اور بابرکت مہینے میں ٹی وی چینلز کے مالکان اور ٹاک شوز کے اینکرز اور سیاسی رہنماﺅں کے غور و فکر کے لیے قرآن پاک کی ایک آیت پیش کرتا ہوں۔
”اے نبی !اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں میں مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو ۔ تمہارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست ہے ہے“۔ [النحل:125]
مولانا مودودی نے اس آیت کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔”یعنی اس کی نوعیت محض مناظرہ بازی اور عقلی کشتی اور ذہنی دنگل نہ ہو۔ اس میں کج بحثیاں، الزام تراشیاں، چوٹیں اور پھبتیاں نہ ہوں۔ اس کا مقصد حریف مقابل کو چپ کرا دینا اور اپنی زبان آوری کے ڈنکے بجا دینا نہ ہو بلکہ اس میں شیریں کلامی ہو اعلیٰ درجے کا شریفانہ اخلاق ہو ، معقول اور دل لگے دلائل ہوں“۔[تفہیم القرآن:صفحہ582]