کیا موجودہ حالات میں عدلیہ کا توازن بر قرار رہ سکے گا

15 اگست 2012

اگرچہ پیپلز پارٹی سینیٹر رضا عابدی کو شوکاز نوٹس دے چکی ہے اور ان کی چیف جسٹس پر الزام تراشی سے بالحکمت عملی انکار کا تاثر دے رہی ہے لیکن لگتا ہے کہ سینیٹر فیصل رضا عابدی کا معاملہ بابر اعوان سے مختلف ہے جسے تھپکی دینے والوں یا پھر خود بابر اعوان نے تھپکی سمجھنے کی غلطی کی ہو بعد میں انہیں راندہ درگاہ کر دیا۔ سینیٹر فیصل رضا عابدی کا معاملہ بابر اعوان سے مختلف اور ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے مماثل لگتا ہے شوکوز کا نوٹس کے اجراءاور لاتعلقی کے باجود پی پی پی کی قیادت اور حلقوں کی جانب سے ہنوزا اپنے ناطق سینیٹر کو اکیلا چھوڑنے کا عندیہ نہیں ملتا۔ فیصل رضا عابدی کو بھی بابر اعوان کی طرح توہین عدالت کا نوٹس ملنے کا قوی امکان ہے۔ ان کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ منگوایا جا چکا ہے۔ لیکن عدالت کے پاس بابر اعوان کے وکالت نامہ کی منسوخی کے موثر اقدام کی طرح سینیٹر فیصل رضا عابدی کو توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہی سبق سکھانے کےلئے کچھ نہیں۔ اور آنے والے دنوں میں عدالت کے خلاف عوامی میڈیا کی سطح پر چیف جسٹس کی ذات کو اس قدر مکدر کرنے کی سعی کی جائے گی کہ ایک ایسی فضا بن جائے جو خود چیف جسٹس کےلئے پریشان کن ہو۔ اس سلسلے میں فیصل رضا عابدی نے اگر اپنے انداز میں جنگ چھیڑ دی ہے تو خود چیف جسٹس کے مقدمے کے وکیل اور تحریک کے روح رواں بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ بعض معاملات میں عدلیہ آئین سے آزاد ہو رہی ہے پاکستان کی سپریم کورٹ کی فعالیت یکطرفہ ہے سب معاملات میں برابر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہے بہت زیادہ آزاد ہے بلکہ کئی جگہوں پر آئین سے بھی آزاد ہو رہی ہے۔ بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں اعتزاز احسن نے کہا کہ پارلیمان دو تہائی اکثریت سے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے اور اسے عدالت میں چیلنج نہیںکیا جا سکتا ہے اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری کے پرویز مشرف کے خلاف ڈٹ جانے کی وجہ سے آج ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہو رہا ہے تاہم بعد کے حالات کی وجہ سے اب عدلیہ کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینا عدالت کا فیصلہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ سربراہ مملکت پر مقدمہ نہیں چل سکتا ہے تو سپریم کورٹ کس طرح کسی دوسرے ملک میں اپنے صدر پر مقدمہ چلانے کا حکم دے سکتی ہے اعتزاز احسن نے کہا چیف جسٹس کے اپنے بےٹے کے بارے میں سپریم کورٹ میں جو کارروائی ہو رہی ہے اس کی وجہ سے اب یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا عدلیہ کا توازن برقرار رہ سکے گا یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ڈاکٹر ارسلان اور ملک ریاض کے مبینہ لین دین کے معاملے میں عدلیہ تفتیش کے مروجہ اصولوں سے ہٹ کر فیصلے کر رہی ہے۔ ستم یہ ہے کہ اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے ئے عدالتوں پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ دعویٰ یہ ہے کہ معزز ترین ججوں کو آئین کا کچھ پتا ہی نہیں اور ان کے فیصلے آئین کے خلاف ہیں۔ گزشتہ منگل کو سندھ اسمبلی میں عدالت عظمیٰ اور چیف جسٹس آف پاکستان کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی وہ انتہائی افسوسناک ہے چنانچہ اب یہ بات کسی بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ موجودہ حکومت اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کےلئے عدالت سے محاذ آرائی پر تل گئی ہے۔ اس وقت حکومتی ٹیم کے تمام ماہرین قانون عدالت عظمیٰ ، بالخصوص چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے پیچھے پڑگئے ہیں ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر نام اعتزاز احسن کا ہے، جو یوسف رضا گیلانی کے وکیل اور سینیٹر بننے سے پہلے ہر موقع پر کہتے تھے کہ وزیراعظم کو سوئس حکام کے نام خط لکھنا پڑے گا ۔ لیکن اب انہیں استثنیٰ بھی یاد آگیا ہے اور یہ بھی کہ کیس پاکستانی صدر کو سوئس عدالتوں کے سامنے پیش کرنا خود اپنے ملک کی توہین ہے۔ اعتزاز احسن کی اعلیٰ عدالتوں کی بحالی کے سلسلے میں خدمت کے تناظر میں ان کی یہ قلا بازی اندرون و بیرون ملک بڑی حیرت اور افسوس کے ساتھ نوٹ کی گئی۔ باقی رہے گورنر لطیف کھوسہ ، اٹارنی جنرل‘ عرفان قادر‘ فواد چودھری‘ فیصل رضا عابدی اور شرجیل میمن جیسے لوگ تو ان کی اہمیت صرف اس وقت تک ہے۔ جب تک ان کی جماعت برسراقتدار ہے البتہ سپریم کورٹ آئین و قانون کی بالا دستی عوامی حقوق کے تحفظ اور قوم کی غصب شدہ دولت کی واپسی کے سلسلے میں اپنے فیصلوں کے ذرےعے جو کارنامے انجام درے رہی ہے انہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ آج ملک جن طوفانوں کی زد میں ہے ایسے میں سب پربرابر کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس لئے فرد واحد کو بچانے کے بجائے سسٹم کو بچایا جائے۔ لہذا ضرورت ہے کہ سیاسی اور عدالتی سطح پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور جموریت کو ڈی ریل ہونے سے بچایا جائے تاکہ جمہوری استحکام کی منزل پالینے سے اس نظام کے ثمرات عوام تک منتقل ہو سکیں۔