آزادی

15 اگست 2012

اس آسمان کے نیچے انسان کے لیے لفظ آزادی سے زیادہ قیمتی لفظ اور کوئی نہیں۔ اس لیے کہ سطح ارض پر صرف انسان ہی وہ مخلوق ہے جو اپنا سر اونچا کرکے چلتی ہے۔ لہٰذا سرفرازی اور انسانیت لازم و ملزوم ہیں۔ اسی کا نام آزادی ہے۔ ہزار خوش بختیاں اور سعادت مندیاں ہیں، اس قوم کے حصہ میں جسے دنیا میں آزادی نصیب ہو۔پاکستان اسلام کے نام پر بنا، اس کے مقاصد کا اظہار قرار داد مقاصد میں کیا جا چکا ہے۔ہمارے ذہن میں یہ واضح ہونا چاہیے کہ بانیان پاکستان قائد اعظم اور علامہ اقبال کے ذہن میں اسلام کی کیا تعبیر تھی جس کی بنیاد پر پاکستان حاصل کیا گیا مثلاً دو قومی نظریے کی اس شکل میں اسلامی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ برصغیر میں دو قومیں آباد تھیں ایک مسلمان اور دوسری ہندو، مسلمان یہاں پر چھ سو سال حکمران رہے۔ اگر آپ البیرونی کی کتاب پڑھیں، البیرونی سن ایک ہزار عیسوی میں سلطان محمود کے ساتھ ہندوستان آیا۔ یہ پہلا شخص ہے کہ جس نے محسوس کیا کہ ہندوﺅں اور مسلمانوں میں کتنا فرق ہے اور یہ کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ ہندو‘ مسلمان کو ملیچھ سمجھتے ہیں۔ اکٹھے بیٹھ کے کھا سکتے ہیں، نہ پی سکتے ہیں، اگر اکٹھے بیٹھ کر کھا یا پی لیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم پلید یا ناپاک ہو جائیں گے۔ جب وہ اکٹھے بیٹھ کر کھا پی نہ سکیں تو وہ ایک قوم کیونکر بن سکتے ہےں۔جسٹس (ر) ڈاکٹر جاوید اقبال نے ایک انٹرویو میں مجھے کہا تھا کہ علامہ اقبال کا نظریہ یہ تھا کہ اسلام میں قوم اور ملت کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو بانیاں پاکستان کے ذہن میں اسلام کی خاص تعبیر تھی۔ اس سے بعض علماءنے اختلاف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماءپاکستان کی تحریک کے خلاف تھے۔ یہ علماءکسی نئی چیز کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ تغیر کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔اب یہ بات واضح ہو گئی کہ علامہ اقبال اور قائد اعظم کے ہاں اسلام کی ایک مخصوص تعبیر تھی، اگر آپ معلوم کرنا چاہیں کہ اس تصور کو عملی انداز میں کس طرح پیش کیا گیا تو وہ قرار داد مقاصد ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری اسلامی شناخت اور آزادی کا چارٹر ہےؒ قرار داد مقاصد لیاقت علی خان ہی کے زمانے میں پاس ہوئی تھی جو پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ ان کے عہد میں قرار داد مقاصد پاس ہو گئی اور ہم نے تعین کر لیا کہ کس قسم کا راستہ اختیار کرنا ہے یعنی اسلام کی کونسی تعبیر اختیار کرنی ہے۔ ایک طرح سے اس نکتہ پر ملت کا اجماع ہو گیا۔اگر آپ قرارداد مقاصد کو غور سے پڑھیں تو معلوم ہو گا کہ اس میں انتخابات کے ساتھ بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی طے کر دیا گیا ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ آپ نے برابری کا سلوک کرنا ہے۔ اس بنا پر کہ ان کے ساتھ اشتراک وطن ہے۔ مسلمانوں پر قرارداد مقاصد کے تحت دوہری ذمہ داری ہے یعنی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی اشتراک ایمان کے اصول پر اور غیر مسلموں کے ساتھ یکجہتی اشتراک وطن کے اصول پر۔ مسلم قومیت اور پاکستانی قومیت یعنی اشتراک ایمان اور اشتراک وطن ہمارے ہاں ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں اور ان میں کوئی تضاد نہیں۔ہم نے اپنی تاریخ میں قائد اعظم کے نظریات سے انحراف کیا ہے اور کرتے چلے آ رہے ہیں۔ خواہ اس کی ذمہ داری آپ کسی پر بھی ڈالیں لیکن انحراف ہوتا چلا گیا ہے اور اسی انحراف کے سبب جو وسیع النظری پاکستان کے ابتدائی دور میں دیکھنے میں آئی، وہ آہستہ آہستہ ختم ہوتی چلی گئی۔ ہم نے وسیع النظری کو چھوڑ کر علاقہ پرستی، نسل پرستی یا زبان پرستی کی قدامت پسندی قبول کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملک دو لخت ہو گیا۔ قائداعظم کے راستے سے ہٹ کر ہم منتشر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں رواداری اور پیار و محبت پیدا کرنا ہو گا تب ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔