نظریہ پاکستان آج بھی زندہ و جاوید! (قسط سوم)

15 اگست 2012

 ترکی کی گرینڈ اسمبلی کی طرف سے کمال مصطفی پاشا کو منتخب کرنے اور ادارہ ملازمت کے خاتمے کا اعلان کرنے سے قبل جب جنگ عظیم اول 1914ءمیں برصغیر کے مسلمانوں کا تعاون اس بناءپر حاصل کیا کہ وہ سلطنت عثمانیہ کو نہیں چھیڑیں گے مگر 1919ءمیں فتح کے بعد انگریزوں کے قول و فعل میں تضاد میں 27اکتوبر 1919ءکو برصغیر میں یوم خلافت منایا گیا اور تحریک خلافت کا آغاز ہوا۔ کانگریس مسلمانوں کو عملاً میدان میں دیکھ کر تحریک خلافت میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس نے اس موقع کو مسلمانوں کے خلاف سازش کا سنہرا موقع جانا، تحریک خلافت کے دوران بیشتر قائدین گرفتار ہو گئے اور تحریک ماند پڑی تو ایک طرف مولانا محمد علی جوہر کی والدہ کی اماں کی ہنگامی دوروں نے تحریک میں جان ڈالی اور انگریز بوکھلا اٹھے تو دوسری طرف کانگرسی رہنما¶ں نے تحریک عدم اعتماد کا اعلان کر دیا کہ انگریزی مال کا بائیکاٹ اعزازات کی واپسی، ملازمتوں سے استعفیٰ اور تعلیمی بائیکاٹ کیا جائے۔ تحرک خلافت کے دوران بہت ہڑتالیں ہوئیں جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں جس سے تمام مسلمان رہنما جیلوں میں قید کر دیئے گئے اور خالصتاً مذہبی تحریک کا صدر ایک ہندو قوم پرست گاندھی کو بنا دیا گیا۔ اس دوران ایک جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے مشتعل ہو کر ہندوستان کے گا¶ں چوراہوں میں مسلمانوں نے پولیس تھانے کو آگ لگا دی اور 22ہندو سپاہی جل کر مر گئے جبکہ دوسری طرف موپلا قوم نے تحریک خلافت کے دوران ہندو ذمہ داران کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ ان واقعات کو بنیاد بنا کر فروری 1922ءکو تحریک عدم اعتماد کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا یہ اعلان گاندھی نے کیا اس موقع پر قائداعظم نے فرمایا۔
"According to Quaid-i-Azam, now our ways are diffcrent" 1928ئ
 میں جو نہرو رپورٹ پیش کی گئی اس میں مسلمانوں کی مخالفت میں وحدانی نظام حکومت، مخلوط طریقہ انتخاب اور مرکزی اسمبلی میں مسلمانوںکی ایک چوتھائی نمائندگی کو مسترد کیا گیا۔ سندھ کی علیحدگی پر شرائط لگائی گئیں کہ وہ ایسی صورت میں اپنے اخراجات سندھیوں کو ادا کرنے چاہئیں سرحد اور بلوچستان میں اصلاحات کی مخالفت کی گئی۔ سرحد اور بلوچستان میں اصلاحات کی مخالفت کی گئی ہندی کو سرکاری زبان کا درجہ دینے کا کہا گیا۔ مسلمانوں کا کوٹہ اضافی نشستوں میں ختم کر دیا گیا۔ مسلمانوں کو دیا گیا تحفظ یہ طے کر کے ختم کر دیا گیا کہ اگر کسی قوم کے نمائندے بل یا قرارداد کو مسترد کر دیں تو اس پر غور نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے حالات میں قائداعظم محمد علی جناح نے 1929ءمیں چودہ نکات پیش کئے۔ پاکستان کے قیام کو اپنی سوچ اور سمجھ سے باہر قرار دینے والے اب اس پر کیا لب کشائی کریں گے۔ قائداعظمؒ نے چودہ نکات ہندوستان کے سیاسی بحران تحریک خلافت میں ناکامی انگریزوں کی 1909ئ، 1861ئ، 1858ءاور 1919ءکی اصلاحات کی ناکامی مسلمانوں میں مایوسی اور بدنظمی، مسلم لیگ میں دھڑے بندی، میثاق لکھنو سے انحراف، کانگریس کی طرف سے 1927ءمیں تجاویز دہلی کو تسلیم نہ کرنا، خصوصی طور پر نہرو رپورٹ کی آمد اور گاندھی کا اعلان کہ
"With or without the Muslims, we can get the freedom"
کے جواب میں مسلمانوں کی فلاح و ترقی کے لئے پیش کئے۔ ان چودہ نکات میں قائداعظم نے وفاقی طرز حکومت، مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی، مسودہ قانون کی منظوری کا طریقہ، سندھ کی ممبئی سے علیحدگی، جداگانہ طریقہ انتخابات مسلمانوں کے ثقافتی و تعلیمی اداروں کا تحفظ، مسلمانوں کا ملازمتوں میں حصہ، یکساں صوباوی خودمختاری، اقلیتوں کی موثر نمائندگی، نئی حد بندیوں سے احتراز، مکمل مذہبی آزادی، مسلمانوں کا وزارتوں میں حصہ اور صوبوں اور ریاستوں کی منظوری کے بغیر آئین کی تبدیلی نہ کرنے کی پابندی شامل تھی ان چودہ نکات کے بعد نہر رپورٹ پر عدم اعتماد کیا گیا۔ لہٰذا آج جو لوگ پاکستان کے قیام کو سمجھ سے بالاتر تصور کرتے ہیں وہ یہ بتائیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان معرض وجود میں نہ آیا ہوتا تو کیا ہم اب تک صرف ان چودہ نکات پر عمل کروانے میں کامیاب ہو چکے ہوتے یا نہیں؟ اس سوال کا جواب ہندوستان کے باشعور مسلمانوں سے لیا جا سکتا ہے۔ تاہم ہندو¶ںاور انگریزوں کے ظلم و ستم پر نہرو رپورٹ کے بعد قائداعظمؒ نے چودہ نکات پیش کئے اور چودہ نکات کا ایک فائدہ خطبہ الہٰ آباد کی صورت میں 29 اور 30دسمبر کو مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال نے کی اور یہ فرمایا کہ ”مسلمان اکثریت پر مشتمل ایک علیحدہ ریاست قائم کر دی جائے“ مفکر پاکستان کا اعزاز حاصل کیا۔ خطبہ آلہٰ آباد کے نتیجہ میں 23مارچ 1940ءمنٹوپارک لاہور میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قائداعظم نے پہلی بار لاکھوں کے مسلمان عوامی اجتماع میں الگ وطن کی قرارداد پڑھی۔ مولوی اے کے شیر بنگال نے یہ قرارداد پیش کی۔ پنجاب سے سرشفیع محمد اور مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگزیب، بلوچستان سے قاضی محمد عیسیٰ اور سندھ سے جی ایم سید اور سرعبداللہ ہارون وغیرہ نے اس قراردادکی تائید کی۔ مسلم لیگ نے قبل ازیں اسے قرارداد لاہور کا نام دیا مگر ہندو مہاسبھا اور پریس نے اسے قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ 1941ءکے اجلاس میں مسلم لیگ نے بھی اسے قرارداد پاکستان کا نام دیا۔ قرارداد پاکستان کی اہم اور بنیادی وجہ 1937ءسے 1939ءتک قائم ہونے والی کانگریسی وزارتوں کا کردار اور ان کے مسلمانوں پر مظالم ہیں۔