پاکستان کوئی سوکھا بنیا

15 اگست 2012

1947ء میں ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کا اعلان ہوتے ہی قتل و غارت شروع ہو گئی لیکن ہمارے شہر سنگرور میں امن و امان تھا۔ آس پاس کے گاﺅں کے لوگ اپنی جانیں بچانے کے لئے سنگرور شہر میں آنا شروع ہو گئے تو کچھ شرپسند لوگوں نے کوتوال شہر سے ساز باز کر کے آنے والے مسلمانوں کو کوتوالی کے احاطہ میں جمع اس لئے کرنا شروع کر دیا کہ انہیں اجتماعی طور پر قتل کر دیا جائے۔ اس مقصد کے لئے لاشیں اٹھانے کے لئے لاشیں اٹھانے کے لئے ٹرکوں کا بندوبست بھی کر لیا گیا مگر کسی ذرائع سے مہاراجہ جنید سے جسے ہم بولا راجہ اس لئے کہتے تھے کیونکہ وہ دونوں کانوں سے بہرہ تھا اسے علم ہو گیا تو اس نے فوراً حکم دیا کہ کسی بھی مسلمانوں کا بال بیکا نہیں ہونا چاہئے۔ پھر مہاراجہ جنید خود سنگرور آئے اور شہر کے باہر کھلی جگہ کو خاردار تاروں سے محفوظ کر کے مسلمانوں کو وہاں چھ ماہ تک بمعہ راشن اور سرکاری پہرہ میں رکھا تو یوں باہر سے آنے والے اور شہر سنگرور کے مسلمانوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ مہاراجہ جنید نے اپنی نگرانی میں بذریعہ ریل گاڑی مسلمانوں کو پاکستان کے لئے روانہ کیا.... ہم مہاراجہ جنید کو اب بھی اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں اور اس کی عظمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔