یوم آزادی پر بھی بدترین لوڈشیڈنگ، عوام کو شدید پریشانی

15 اگست 2012
یوم آزادی پر بھی بدترین لوڈشیڈنگ، عوام کو شدید پریشانی

سیالکوٹ+ جہلم+ پیرمحل (نامہ نگاران) یوم آزادی پر بھی بدترین لوڈشیڈنگ کا سلسلہ نہ تھم سکا جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، چھوٹے شہروں اور دیہات میں مسلسل گھنٹوں بجلی کی بندش سے نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا۔ تفصیلات کے مطابق جشن آزادی کے موقع پر بھی سیالکوٹ بھر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ جاری رہی تاہم شہرمیں جناح سٹےڈےم روڈ اورخواجہ صفدر روڈ پر لگی ہوئی سٹرےٹ لائٹس دن کے اوقات میں بھی روشن رہیں۔ شہر ی ودیہی علاقوں میں بجلی کی غےراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا رہا۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے سیالکوٹ میں قومی پرچم لہرانے کی تقرےب ایک گھنٹہ تاخیر کا شکار ہوکر نو بجے شروع ہوئی۔ شہریو ں کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں حکومت کی طرف سے واضح اعلان کے باوجود بجلی کی غےراعلانیہ لوڈشیڈنگ لمحہ فکریہ ہے اوراس لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہر شہری متاثر اور پریشان ہے۔ جہلم اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری رہا جس سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور جشن آزادی کے پروگرام سمیت کاروبار زندگی بھی بُری طرح متاثر ہوا، شہریوں نے یوم آزادی پر بھی لوڈشیڈنگ جاری رکھنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اس کی بھرپور مذمت کی۔ پیرمحل میں شدید حبس کے ساتھ بجلی کی غیراعلانیہ بندش نے عوام کو بے حال کر دیا جبکہ تمام کاروباری سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوکر رہ گئیں جبکہ سینکڑوں محنت کش بے روزگاری کی زندگیاں گزارنے پر مجبور ہوگئے۔ بصیرپور گرڈ سٹیشن سے ملحقہ علاقوں میں 16 گھنٹے لوڈ شیڈنگ جاری رہی جبکہ تین، تین گھنٹے مسلسل بندش کے بعد فراہمی کے دوران بھی وولٹیج 220کی بجائے 100سے110کے درمیان ہچکولے لیتے رہے جس سے واٹر پمپ، فریج، استریاں، پنکھے اور دیگر برقی آلات بند اور صارفین عملی طور پر بجلی سے محروم ہی رہے۔ جسکے نتیجہ میں صارفین کو یوم آزادی پر اضافی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔