محسن علی کو سلیوٹ - قابلیت اور قبولیت

15 اگست 2012

 بی اے کے امتحان میں اول آنے والا غریب و غیور محنت مزدوری اور اللہ پر یقین رکھنے والا ایک پسماندہ علاقے حافظ آباد کا محسن علی ہم سب کا محسن ہے۔ اس نے کسی کا احسان نہ لیا۔ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا۔ اپنی رہنمائی میں منزل کی طرف سفر کیا۔ رہنما¶ں نے تو ہمیں کہیں کا نہیں رہنے دیا۔ وہ اپنے آپ کو وہاں تک لے گیا کہ اب ملک کا ہر آدمی اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ میں کل اتفاق سے نوائے وقت گیا تو محترمہ رمیزہ نظامی سے بھی ملا۔ میں حیران رہ گیا کہ وہ محسن علی کی تصویریں اپنے سامنے رکھے اپنے اخبار میں اس کی خبریں دیکھ کر بہت خوش تھیں۔ وہ بہت سوبر گریس فل ہیں۔ بہت توجہ اور سنجیدگی سے اپنا کام کرتی ہیں۔ وہ نوائے وقت اور وقت نیوز کی بہتری کیلئے بہت کوشش کر رہی ہیں۔ آج ان کا ایک مختلف روپ میرے سامنے آیا۔ وہ اپنے وطن کے ایک بہت غریب مگر لائق دردمند اور خوددار نوجوان کی اہم ترین کامیابی پر بہت بے تابی سے خوشی کا اظہار کر رہی تھیں۔ مجھے اچھا لگا۔ مجھے اچھا لگا کہ دکھاوے کی سیاسی باتوں کے علاوہ جینوئن لوگ کسی فائدے اور عرض کے بغیر اپنے دل میں وطن کے اچھے اور اہل بچوں کیلئے دل سے محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنی محنت سے کسی کی مدد کے بغیر ایک مقام پر پہنچے۔ وہ اس سے زیادہ کے مستحق ہیں جو ہم ان کیلئے سوچتے ہیں۔
رمیزہ بی بی کی یہ بات بہت قابل غور ہے کہ اب لوگ محسن علی کیلئے تعریفیں کر رہے ہیں۔ اس کیلئے انعامات کے اعلان ہو رہے ہیں۔ مگر جب وہ تنور پر روٹیاں لگاتا تھا۔ پسینے میں شرابور اپنے خون پسینے کی کمائی سے اپنے گھر والوں کی کفالت کرتا تھا۔ اپنے گیارہ بہن بھائیوں کیلئے محنت کرتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی سٹڈی کیلئے وقت نکالتا تھا اور دل لگا کر پڑھتا تھا۔ تو اسے کون جانتا تھا۔ کون اس کی تعریفیں کرتا تھا۔ تعریفوں کے قابل تو وہ تب بھی تھا۔ کسی کو معلوم بھی نہ ہو گا کہ تنور پر کام کرنے والا یہ نوجوان ایک دن سب کی آنکھوں کا تارا بن جائے گا۔ اس کے ارادے جوان ہیں اور آرزوئیں اس کی دوست ہیں۔ وہ اب بھی اسی طرح محنت کو اپنا رہنما بنائے گا اور وہ کر دکھائے گا جو ایچی سن کالج اور دانش سکول میں تعلیمی عیاشی کرنے والے طلبہ سوچ بھی نہیں سکتے۔
وہ تو ایسے سکول میں پڑھا ہے جہاں ٹاٹ بھی نہیں ہیں۔ جہاں کے ٹیچر کو پھٹیچر سمجھا جاتا ہے۔ ٹیچر تو وہاں ہوتے ہی نہیں فرنیچر نام کی کوئی چیز بھی کہاں سے آئے گی۔ ایسی بے سروسامانی بے چارگی میں محرومیوں کے ساتھ اتنا بہترین رزلٹ دینا ان سب کیلئے حیران کن ہونا چاہئے۔ جو ترقی کے نام پر لوگوں کو صرف عیش کرنے کا ہنر سکھاتے ہیں۔ محسن علی جیسے نوجوان کی زندگی کو سادگی سے بھی تعبیر نہیں کرنا چاہئے۔ سادگی کیلئے کچھ تو چاہئے ہوتا ہے۔ ان لوگوں کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔
گھر کے اٹھارہ افراد ایک کمرے میں رہتے ہیں۔ یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ ہمارے دیہاتوں میں ایک ہی کمرہ کل کائنات کئی لوگوں کیلئے ہوتا ہے۔ وہاں بکری بھینس بھی بندھی ہوتی ہے۔ وہی کچن ہے بیڈ روم ہے اور وہی ڈرائنگ روم ہے۔ ایسے گھروں میں رہنے والا یونیورسٹی بھر میں اول آتا ہے تو یہ بات صرف حیرت کی نہیں ہے کہ بالعموم اعلیٰ نمبروں میں پاس ہونے والے ایسی ہی زندگی کے مالک ہوتے ہیں۔ وہاں سکولوں کی حالت زار حالت زار قطار ہے۔ دانش سکول ٹھیک ہیں مگر یہ بھی ٹھیک ہے کہ سارے سکولوں میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ یہ میں نہیں کہتا۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ دیہاتی سکولوں کی حالت دیکھ کر بھی حکمرانوں کو شرم نہیں آتی۔ ان کا موازنہ کسی سکول سے نہیں کیا جا سکتا۔ ٹیچرز کی تنخواہوں میں اتنا فرق کیوں ہے۔ دانش سکول اور ” غیر دانش“ سکول میں؟ یہ تو تعلیمی تفریق ہے۔ اس طرح طبقاتی کشمکش میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ چند لوگوں کیلئے وسائل اور مواقع ہوں اور 95 فیصد لوگ صرف ان کیلئے خبریں پڑھیں اور اشتہار دیکھیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر سب سکولوں میں سہولتیں یکساں طور پر نہ دی گئیں۔ ایک ٹیچر کی تنخواہ مزدور کی تنخواہ سے بھی کم ہے۔ ٹیچر تو علمی اور روحانی مزدوری کرتا ہے۔ ان کے الفاظ کے مطابق ”میں دانش سکول بھی بند کر دوں گا۔“ تعلیمی فروغ کے بلند بانگ دعوے کرنے والے کہاں ہیں۔ میں نے ایک بار کہا تھا کہ ”لوک دانش“ سکول بھی بنا¶۔ یکساں نظام تعلیم ہو اور ایک جیسی سہولتیں سب کیلئے ہوں۔ یہ تو ثابت ہو گیا ہے کہ قابلیت اور قبولیت نمائشی ماحول سے نہیں ملتی۔ جوہر قابل تو مٹی میں بھی ہوتے ہیں جسے ہم پا¶ں کے نیچے روندنا بھی پسند نہیں کرتے۔ قابلیت اور قبولیت دونوں ضروری ہیں۔
جو استقبال محسن علی کی بستی والوں نے کیا ایسا تو حکمرانوں لیڈروں اور بڑے سیاستدانوں کا نہیں ہوتا۔ مصنوعی اور فطری اظہار میں بہت فرق ہوتا ہے اور وہ ہمیں محسن علی کے اپنے گا¶ں پہنچنے پر نظر آ گیا۔ وہ جو بھنگڑے ڈال رہے تھے ان کا محسن علی سے اتنا تعلق تھا کہ وہ ان کے گا¶ں کا فرزند ہے۔ وہ اپنے ارادوں کے مطابق کچھ بن جائے تو اپنے گا¶ں اور اپنے لوگوں کو نہ بھولے۔ وہ کہتا ہے کہ میں بیوروکریٹ بنوں گا وہ اچھا بیوروکریٹ بنے۔ ورنہ میں تو بیوروکریسی کو براکریسی کہتا ہوں۔ ”افسران تہہ و بالا“ نے اس ملک کے ساتھ کوئی بھلائی اچھائی نہیں کی۔ وہ محنت والوں کے دشمن ہیں۔ وہ ملک کے ٹیلنٹ اور کمال سے نفرت کرتے ہیں۔ حکمران اور افسران صرف اپنی عیش و عشرت پروٹوکول اور سکیورٹی کے قائل ہیں۔ وہ ایسے لوگوں کی کبھی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ وہ ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔ اب ہمارے حکمرانوں کو اس طرف توجہ کرنے کا خیال آیا ہے۔ ورنہ پہلے بھی اس طرح کی پوزیشن لینے والے غریب گھروں سے ہوتے تھے۔ ان کیلئے صرف خبر شائع ہوتی تھی اور بس۔ اب وزیراعظم پرویز اشرف نے محسن علی کیلئے 10 لاکھ کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ماریہ انجم کیلئے بھی اعلان کیا ہے۔ مائیکرو سافٹ پروفیشنل شافع بھوپانی کیلئے بھی اعلان ہوا ہے۔ ماریہ انجم کی دو بہنیں گونگی بہری ہیں۔ کیا اچھی بات ماریہ نے کی ہے کہ میں اپنی بہنوں کیلئے کان اور زبان بن جا¶ں گی۔ ان کی سماعت اور آواز کو تلاش کروں گی۔ ماریہ اور اس کی بہنوں کیلئے بھی 15 لاکھ کا اعلان ہوا ہے جو خوش آئند ہے۔ شہباز شریف نے محسن علی سے ملاقات کی ہے۔ اس کو 10 لاکھ کا چیک دیا ہے۔ دانشور دلیر اور دردمند وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران بھی موجود تھے۔ شہباز شریف نے محسن علی کیلئے آشیانہ سکیم میں گھر کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ اچھی بات ہے مگر اس کے گا¶ں میں اس کے گھر کی طرف بھی توجہ کی جائے۔ وہ عید کے بعد اس کے گھر جائیں گے۔ وہاں ایک دن رہ کر دیکھیں۔ خیموں میں دفتر لگانے والے سے یہ امید کی جا سکتی ہے۔ قابل طالب علموں کیلئے شہباز شریف نے بہت کچھ کیا ہے۔ اس سے افسران بڑے بیزار ہیں۔ طالب علموں کو گارڈ آف آنر پیش کرنے کے موقعے پر ایک بہت روح پرور منظر تھا۔ افسر شاہی سے لوگوں کو بچانے کا اہتمام کرنا چاہئے مگر بیوروکریسی کے تسلط کے خلاف تو شہباز شریف کے ساتھی سیاستدان بھی پریشان ہیں۔ افسران اب سیاسی معاملات میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔
دو روپے کی روٹی کی سکیم میں بھی گھپلے ہوتے رہے۔ کیا تنوروں والوں کو جو سبسڈی دی گئی‘ اس میں کوئی حصہ محسن علی جیسے مزدور طالب علموں کیلئے بھی تھا کہ وہ مزدوری کے ساتھ ساتھ دل لگا کر پڑھائی بھی کرتے تھے۔ شاید محسن علی کے گھر والے دو روپے کی روٹی کو ترستے رہے ہوں گے۔ آخری بات یہ کہ عالمی اولمپکس میں پاکستان کی قسمت میں صرف رسوائی اور پسپائی آئی ہے۔ جوہر قابل سے مالامال ملک ہے۔ لیکن ہمارے پاس ایک بھی تیز رفتار نہیں ہے۔ ایک بھی تیراک نہیں۔ اس بدنصیب ملک میں کوئی ایسا نظام کوئی اکیڈمی ہی نہیں۔ نہ تعلیم کیلئے نہ صحت کیلئے نہ سپورٹس کیلئے۔ کوئی نکلتا ہے تو اپنے بل بوتے پر۔ اپنی محنت اور لگن کی وجہ سے سامنے آتا ہے۔ اسے حتی المقدور سامنے نہیں آنے دیا جاتا۔ ایک بات بڑی اہم ہے کہ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں تعلیم اور صحت کیلئے بہت حقیر سا بجٹ رکھا جاتا ہے۔ اسے کم از کم دگنا کر دیا جائے۔ ایک زمانے میں ہاکی میں ہم نمبر ون تھے۔ کرکٹ میں ورلڈ کپ لائے۔ یہ لوگ گلی محلوں میں سڑکوں پر کرکٹ کھیل کر بڑی مشکلوں سے ٹیم میں پہنچے۔ ہمارے ہاں نالائق غیر مستحق اور سفارشی لوگوں کو سامنے لایا جاتا ہے۔ سازشوں‘ سفارشوں‘ چالبازیوں سے اوپر آنے والوں نے بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں محسن علی جیسے بے وسیلہ اور بے آسرا نوجوان سب لوگوں کو حیران کر دیں تو یہ ایک بہت بڑی معرکہ آرائی ہے۔ وہ واقعی ہیرو ہیں۔