آرمی چیف جنرل کیانی کا انتہاءپسندوں کو ختم کرنے کا عزم اور قومی سلامتی کے تقاضے دہشت گردی کا خاتمہ بندوق سے ممکن ہے یا امن مذاکرات سے؟

15 اگست 2012

آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ انتہاءپسندوں کو ختم نہ کیا تو ملک خانہ جنگی کی طرف بڑھے گا۔ اپنی رائے کو عقل کل اور حتمی سمجھنے والا انتہاءپسند ہے اور اپنی ناقص اور نامکمل رائے کو سب پر مسلط کرنا دہشت گردی ہے ۔ گزشتہ شب کاکول اکیڈمی میں جشنِ آزادی کی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی انسان کا یہ دعویٰ کہ وہ صحیح اور غلط کے بارے میں آخری فیصلہ دے سکتا ہے ‘ یہ شرک کے مترادف ہے ۔ ہم انتہا پسندوں کیخلاف جنگ میں حق بجانب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج قومی اتحاد و سالمیت اور سب سے مشکل کام اپنے لوگوں کیخلاف لڑنا ہے ۔ ماضی کی غلطیوں کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ انتہاءپسندی کیخلاف جنگ صرف فوج کی نہیں‘ پوری قوم کی ہے اور فوج کی کامیابی عوام کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ فوج اور عوام نے ہر محاذ پر بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا‘ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی قوت اسلام کو پاکستان سے نہیں نکال سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کسی متوازی نظام کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ پاکستان نہیں تو کچھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کا عزم کریں‘ تمام ادارے اور عوام مل کر پاکستان کو عظیم ملک بنائینگے‘ ہم آنیوالی نسلوں کو محفوظ پاکستان دیکر جائینگے۔
بے شک ہمارا مذہب دہشت گردی اور اس میں کسی انسان کا خون ناحق بہانے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا جبکہ دہشت گردی سے پیدا ہونیوالی بدامنی ہی کسی ملک کی معیشت کیلئے سب سے بڑا ناسور ہوتی ہے اور جسم میں سے ناسور کو نکالے بغیر زندگی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ ہمارا وطنِ عزیز بھی گزشتہ گیارہ سال سے دہشت گردی کے ناسور کی لپیٹ میں ہے جس سے پیدا ہونیوالی بدامنی نے ہماری معیشت کا انجرپنجر ہلا دیا ہے اور بدامنی کی فضا میں کوئی بیرونی سرمایہ کار تو کجا‘اندرون ملک موجود سرمایہ کار بھی یہاں سرمایہ کاری کو تیار نہیں۔ نتیجتاً قومی اقتصادیات خسارے اور کساد بازاری کے انتہاءدرجے تک جا پہنچی ہے اور سٹیٹ بنک بھی اپنی ہر سہ ماہی رپورٹ میں کساد بازاری کی بنیادی وجہ ملک میں امن و امان کی خرابی ہی بتاتا ہے ۔ اس تناظر میں ملک میں امن و امان کا قیام اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت و مملکت کی بنیادی آئینی ذمہ داری میں شامل ہے ۔ آرمی چیف نے اس حوالے سے درست نشاندہی کی ہے کہ انتہاءپسندی سے جنم لینے والی دہشت گردی کو ختم نہ کیا گیا تو ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے تاہم دہشت گردی کے تدارک کیلئے پہلے اسکے روٹ کاز کو ختم کرنا ضروری ہے ‘ کسی درخت کی محض کونپلیں کاٹ کر تو اسے نشوونما پانے سے نہیں روکا جا سکتا۔
آرمی چیف نے اس معاملہ میں جو تجزیہ پیش کیا ہے ‘ وہ محض روایتی اور سطحی ہے ۔ اس بات کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے کہ گزشتہ گیارہ سال کے دوران بندوق اور بارود کے استعمال‘ مختلف مراحل میں کئے گئے فوجی اپریشنز‘ امریکی ڈرون حملوں اور دوسرے سخت گیر عسکری اقدامات سے اب تک مبینہ دہشت گردوں کا قلع قمع نہیں کیا جا سکا اور ہر اپریشن اور ڈرون حملے کے ردعمل میں ہمیں خودکش حملوں اور دہشت گردی کی کسی دوسری گھناﺅنی واردات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کیا محض بندوق کے استعمال سے انتہاءپسندی پر قابو پایا جا سکتا ہے ؟ کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ امریکی نائن الیون کے بعد ہی ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے ورنہ اس سے قبل خودکش حملوں اور سرعام دہشت گردی کی وارداتوں کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اگر امریکی نیٹو افواج کی افغانستان میں موجودگی کے دوران عام شہری آبادیوں میں مسلمانوں کے قتل عام کے ردعمل میں ہمارا وطن عزیز بھی دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے تو دہشت گردی کے خاتمہ کی جنگ ہماری جنگ کیسے ہو سکتی ہے ؟
بلاشبہ افواج پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ملک کی سالمیت کیخلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کے قلمع قمع کی ہے جس میں افواج پاکستان نے کبھی خود کو سرنگوں نہیں ہونے دیا جبکہ ملک کیخلاف کسی دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ سیسہ پلائی دیوار بنی رہی ہے اور آئندہ بھی دشمن کی کسی جارحیت کےخلاف قوم افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہی نظر آئیگی تاہم اگر دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر اپنی ہی سرزمین پر اپنے ہی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کیخلاف مورچہ بند ہو کر انکی لاشیں گرائی جائیں گی اور شہری آبادیوں اور ان میں موجود کاروباری مراکز کو تہس نہس کرکے مقامی باشندوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جائیگا تو اس کا ردعمل ملک کی سالمیت کے حوالے سے قطعاً خوشگوار نہیں ہو گا۔ اصولی طور پر تو مشرف کی جرنیلی آمریت کی جانب سے امریکی فرنٹ لائن اتحادی بننے کے فیصلہ کے تابع سیکورٹی فورسز کو اپنی ہی دھرتی پر اپنے ہی شہریوں کیخلاف اپریشن میں جھونکنا ہی درست اقدام نہیں تھا‘ جبکہ اس اپریشن کو اپریشن راہ حق کا نام دیا گیا تو اس میں ذمہ دار حلقوں کی جانب سے بھی تشکیک کے پہلو سامنے آئے اور قوم میں بھی سخت ردعمل پیدا ہوا‘ نتیجتاً اس اپریشن کا نام تبدیل کرکے اپریشن راہ راست رکھنا پڑا جبکہ دوسرے مرحلے کے اپریشن کو اپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا جبکہ امن و امان کی صورتحال ان اپریشنز سے مزید خراب ہونا شروع ہوئی جسے امریکی ڈرون حملوں نے مہمیز دی اور ہم پرائی جنگ میں کود کر اب تک سیکورٹی فورسز کے پانچ ہزار کے قریب جوانوں اور افسروں سمیت قوم کے 40 ہزار سے زائد شہریوں کی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جبکہ ہماری معیشت کو اب تک 70 ارب ڈالر سے زیادہ کا جھٹکا لگ چکا ہے ۔ اگر اتنا نقصان اٹھانے کے بعد بھی فوجی اپریشن کو دہشت گردی کے خاتمہ کا امرت دھارا سمجھا جا رہا ہے تو پھر ہمیں ابھی سے اندازہ لگا لینا چاہیے کہ اسکے ردعمل میں ہمیں اپنے مزید کتنے شہریوں کی جانوں کی قربانی دینا پڑیگی اور ملکی معیشت کو مزید کتنا نقصان اٹھانا ہو گا۔ اس پس منظر میں تو دہشت گردی کی اصل وجوہات سے نمٹنا ضروری ہے جس میں محض طاقت اور بندوق کے زور پر دہشت گردی کے قلع قمع کا فلسفہ باطل قرار پائے گا۔
سب سے پہلے تو اس حقیقت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ دہشت گردی کی فصل ہماری کاشت شدہ ہرگز نہیں اور اس فصل کا بیج بونے والی نیٹو افواج جب تک افغان دھرتی پر موجود ہیں‘ اس وقت تک یہ فصل پھلتی پھولتی رہے گی۔ ہمارے کرنے کا بنیادی کام یہی ہے کہ ہم امریکہ کی چھیڑی گئی افغان جنگ کے اثرات سے خود کو محفوظ کرنے کی تدبیریں ڈھونڈیں اور عملی اقدامات کریں جبکہ اپنی دھرتی پر اپنے ہی شہریوں کیخلاف فوجی اپریشن دہشت گردی کے خاتمہ کی کوئی تدبیر نہیں کیونکہ اسکے ردعمل میں ملک مزید دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا ہے ۔ ہمیں اس سلسلہ میں گیارہ سال پر محیط اپنے تجربات سے اب کچھ تو سیکھ لینا چاہیے۔ ہمیں حتمی قرار دی جانیوالی اس عقل کل کو بھی تو ناقص اور نامکمل سمجھ کر اور اسے دہشت گردی کے روٹ کاز میں شمار کرتے ہوئے خود کو امریکی مفادات کی اس جنگ سے باہر نکالنے کی کوئی تدبیر سوچنی اور عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ اب تو خود امریکہ اس جنگ سے باہر نکلنے کی راہیں تلاش کر رہا ہے ‘ جس کیلئے وہ ان افغان انتہاءپسندوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو بھی ہمہ وقت تیار نظر آتا ہے جن کے خاتمہ کا عزم لے کر نیٹو فورسز افغان دھرتی پر گزشتہ گیارہ سال سے براجمان ہیں۔ مقامِ حیرت ہے کہ جن کے ساتھ امریکہ کی دشمنی ہے ‘ وہ تو ان سے افہام و تفہیم کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ ہمارے حکومتی اور عسکری قائدین اپنے ہم وطنوں پر مزید چڑھائی کی منصوبہ بندی طے کر رہے ہیں حالانکہ آرمی چیف چند ماہ قبل وزیرستان جا کر خود یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ فوجی اپریشن کے بارے میں قبائلی سرداروں کے ساتھ مشاورت کرکے ہی کوئی قدم اٹھایا جائیگا۔رپورٹس کے مطابق اس اپریشن کو شروع کرنے میں بھی زیادہ دیر باقی نہیں جبکہ کچھ اندازوں کے مطابق یہ اپریشن پچھلے کئی ماہ سے جاری ہے ۔ اپنی دھرتی پر گیارہ سال کی گولہ باری کا نتیجہ ہمیں امن کی صورت میں تو حاصل نہیں ہوا اس لئے دوبارہ وہ راہ اختیار کرنے کا کیوں سوچا جا رہا ہے جو ہمیں اپنی سلامتی کی جانب نہیں بلکہ تباہی کی جانب لے جا رہی ہے اس تناظر میں فوجی اپریشن کے تسلسل یا توسیع کا فیصلہ کرنے سے قبل سو بار نہیں تو دس بار ضرور سوچ لیں کہ ملک اب اس کا متحمل بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟

بھارت کے وزیر دفاع کا دعویٰ اور مسئلہ کشمیر
بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے جموں و کشمیر کے کچھ حصوں پر زبردستی غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور سیاچن پر بھی غیرقانونی قبضہ کر رکھا ہے جبکہ یہ علاقے انڈین یونین کا اٹوٹ انگ ہیں اور انکے بارے میں ہمارا موقف شروع دن سے بڑا واضح ہے ۔ وزیر موصوف کا کہنا تھا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ اپنے تمام تنازعات کا پرامن تصفیہ چاہتا ہے لیکن اس کیلئے پاکستان کو ان علاقوں سے اپنا غیرقانونی قبضہ ختم کرنا اور سیزفائر لائن کا ازسرنو تعین کرنا ہو گا۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے ۔ 1948ءمیں جب یہ مسئلہ پیدا ہوا تو بھارت مسئلہ کشمیر خود اقوام متحدہ میں لے گیا اور اسکی قراردادوں کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا جو ریکارڈ پر موجود ہے لیکن بعدازاں ایک بار پھر اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے لگا اور اپنے وعدے سے مکر گیا۔ پاکستانی حکمران بھارت کی تمام تر وعدہ خلافیوں اور کہہ مکرنیوں کے باوجود مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈال کر اسکے ساتھ تجارت‘ ثقافت اور دیگر دوستانہ معاہدے کر رہے ہیں اور اس ملک کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بھارت کا کوئی بھی قدم اور فعل پاکستان دشمنی سے خالی نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ بھارت دوستی کے دعوﺅں میں مخلص نہیں اور نہ سنجیدہ ہے ۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں کیا جاتا اور کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن اور دوستی محض خواب ہے ۔ پاکستان کو اپنی شہ رگ کا مسئلہ حل کرنا چاہیے‘ اس کیلئے خواہ ایٹمی جنگ رسک ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

آئین اور پارلیمنٹ کو کس سے خطرہ؟
صدر مملکت آصف علی زرداری نے جشن آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان بہت سے خطرات میں گھرا ہوا ہے پاکستان جن مقاصد کیلئے حاصل کیا گیا تھا ہم ان کی طرف گامزن ہیں۔ منتخب پارلیمان کو مختلف حملوں سے بچانے کی ضرورت ہے ۔ آئین اور پارلیمان پر نئی طرز کے حملوں پر نظر رکھنا ہو گی۔صدر صاحب کا یہ کہنا قوم کیلئے خوش کن اور نوید دلآویز ہے کہ جن مقاصد کیلئے پاکستان قائم کیا گیا تھا انکے حصول کیلئے پیشرفت جاری ہے ۔ البتہ انہوں نے آئین اور پارلیمان کے وجود کو خطرات لاحق ہونے کی جو بات کی ہے بظاہر ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ پارلیمنٹ، ایگزیکٹو کی کمانڈ کے نیچے فوج اور عدلیہ سمیت تمام ادارے آئین کے مطابق اپنی ذمہ داری اور اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں۔ آئین کی سپر میسی کو ہر ادارہ تسلیم کرتا ہے ۔ آئین میں پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار حاصل ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ قانون سازی کر رہی ہے ۔ سپریم کورٹ کو آئین نے تشریح کا اختیار دیا ہے اس کا استعمال بھی ہوتا نظر آتا ہے ۔ حکمران پارٹی کو سپریم کورٹ کی طرف سے قانون کی تشریح کا اختیار استعمال کرنے پر تحفظات ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کو سپر قرار دیتی ہے ۔ پارلیمنٹ کو سپر قرار دینے سے آئین کے سپر ہونے کی حقیقت نہیں بدل سکتی۔ ادارے اپنے دائرہ اختیار میں رہیں اور ان کو چلانے والے ذاتی مفاد سے بالا تر ہو قومی مفاد کی سوچ کو اپنا لیں تو مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ جب ذاتی مفادات پر زد پڑتی محسوس ہوتی ہے تو اداروں پر حملوں جیسی اصطلاحات کی اختراع کی جاتی ہے ۔ آج اگر پارلیمان اور آئین کو کوئی خطرہ ہے تو ان لوگوں سے ہے جو اپنے آپ کو طاقت کا مرکز گردانتے اور دوسروں کو اپنا مطیع رکھنا چاہتے ہیں اور یہی سوچ پاکستان کے قیام کے مقاصد کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹ بھی ہے ۔ چونکہ آئین کی موجودگی میں تمام ادارے محفوظ ہیں اس لئے امید کی جاتی ہے کہ آئین کے تحفظ کیلئے تمام ادارے اور مقتدر شخصیات اپنا کردار ادا کریں گی۔
3