بدھ ‘ 26 رمضان المبارک 1433ھ15 اگست 2012 ئ

15 اگست 2012

14 اگست کا مبارک دن بھی نئی امنگیں‘ نئے ارادے‘ نئی منزلوں کے نشان دیکر رخصت ہو گیا اور ساتھ ہی 25ویں روزے کی رات بھی رخصت ہو گئی جس کے پردہ¿ نور سے اس پاک وطن کا ظہور ہوا۔ عوام الناس نے خوب خوشیاں منائیں‘ بھنگڑے ڈالے‘ پرچم لہرائے اور خواص الناس کی خوشیاں نظر نہ آئیں۔ بہرحال پاکستان سب کا ہے‘ ناامیدی کی باتیں‘ شکوے شکایتیں چھوڑ کر صلح کل کے تحت قوم کے ایک ایک فرد کو اپنی اصلاح سے آغاز کرنا چاہیے۔ خود کو بھلا کر دوسروں میں عیب نکالنا ایک ذہنی تعیش ہے جس نے ہمارا کافی وقت ضائع کیا۔ فکرِ اقبال و قائد کا ہم بہت ڈھنڈورا پیٹتے ہیں لیکن انکے طرز عمل اور فکر و نظر سے کوسوں دور ہیں۔ ماضی پرستی کی لت نے مستقبل کو ہم سے چھین لیا‘ اقبال نے تو یہ کہا تھا....
طرز کہن پہ اڑنا آئینِ نو سے ڈرنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
اس لئے14 اگست کو خراج پیش کرنا ہے تو آج ہی سے ایک ترقی یافتہ خوشحال‘ فلاحی پاکستان بنانے کیلئے نئے فیصلے کرنا ہونگے۔ انتخابات کو انقلاب بنانے کا عزم کریں‘ کسی مردِ صالح کا انتخاب کریں‘ جو متاع کارواں لٹ چکا ہے‘ اسے پھر سے کمانے کے مشن کی شروعات کریں۔ امید کی بات کریں‘ منفی خیالات کو جھٹک دیں‘ بھاری بھرکم درد بھری باتوں سے بچے ڈر جاتے ہیں اور پیغمبرِ اسلام کے اس تصور کو رہنما بنالیں ”گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے“۔
٭....٭....٭....٭
سپریم کورٹ نے کہا ہے: پیمرا کے ارکان مو¿ثر ہوتے تو فحاشی ہوتی‘ نہ عدلیہ کےخلاف پروگرام نشر کئے جاتے۔
یہ پیمرا ہے یا شیطانی کیمرہ ہے جس سے حکومت بھارتی فحاشی و عریانی کو شوٹ (Shoot) کر رہی ہے۔ حکمران پوچھتے نہیں اور پیمرا عوام کے روکے رکتا نہیں۔ سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی چینلز پر فحش پروگرام روکنے کی تفصیل طلب کرلی ہے۔ اللہ جانے ناظرین کیوں ریموٹ سے ووٹ ڈالتے ہیں اور ایسے چینلز کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے۔ آخر اگر یہ چینلز پاکستان کے ناظرین میں دیکھے نہ جائیں تو ان کو دکھائے جانیوالے بھی مایوس ہو کر کوئی اور مارکیٹ تلاش کرینگے۔
پاکستان کے لبرل لوگ اتنے بھی لبرل نہیں کہ عریانی کے مقاماتِ آہ و فغاں کی نمائش برداشت کرلیں کہ....
جو نہ دکھانا تھا وہ دکھا ڈالا
ملک بنایا تھا کیا اسی کیلئے
حکمرانوں کی آنکھ کا تارا اور پاکستان‘ پاکستانیوں کا ازلی دشمن بھارت خوش ہے کہ اسکی فحاشی انڈسٹری کی مصنوعات پاکستان میں خوب مقبول بنائی جا رہی ہےں‘ اس لئے پاکستان کے لوگو! جاگتے رہنا پیمرا نجی چینلز اور حکومت پہ نہ رہنا۔
٭....٭....٭....٭
میو ہسپتال کے ڈرائیور کی زیر علاج خاتون کی دس سالہ بیٹی سے زیادتی۔
کیا تھانے کم تھے اس کارِ شیطان کو سنبھالنے کیلئے کہ اب ایک سرکاری ہسپتال میں بھی پاکستان کی بیٹی کی عزت لٹ گئی۔ صنفِ نازک کے ساتھ پاک وطن میں جو ناپاک عمل جبراً کیا جا رہا ہے‘ اب اس کا گراف کافی اونچا چلا گیا ہے جس کا ایک ہی حل ہے کہ زیادتی کے ملزموں کو سرِعام پھانسی دی جائے وگرنہ وہ دن دور نہیں کہ خدانخواستہ یہاں کوئی بھی عورت ذات کہیں بھی محفوظ نہیں رہے گی۔
ایوان ہائے اقتدار بھی خاموش ہیں‘ منبر و محراب سے بھی صدا بلند نہیں ہوتی۔ ادارے بے لگام ہیں‘ روکنے والے محو م¿ے گلفام ہیں‘ اک عوام ہیں کہ پھڑکتے ہیں‘ زیر دام ہیں۔ جو ملک لاکھوں قربانیوں سے اللہ نے عطا کیا‘ وہ بھی انگشت بدنداں گویا ہے کہ جن کو میرے اوپر باوضو چلنا چاہیے تھا‘ وہ میری ہی بیٹیوں کی عزت و حرمت کو پاﺅں تلے روند رہے ہیں۔ جب تک ایسے روسیاہوں کو خون میں نہلا نہیں دیا جاتا‘ پاک وطن کا ماحول پاک نہ ہو سکے گا۔ اگر کڑی سزا چوک میں کھڑا کرکے فی الفور دی جاتی تو ہر روز ملک کے ہر گوشے سے یہ عفتِ بنتِ حوا کی چادر تار تار ہونے کی خبروں کا تانتا نہ بندھا ہوتا۔ گناہِ کبیرہ کا یہ طوفان کہیں سب کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ قانون نافذ کرنیوالے بھی اس میں جوق در جوق شامل ہو رہے ہیں۔ عورت کی یہ روز افزوں بے حرمتی زمین کو ہلا اور آسمان کو گرا دےگی۔
محب پاکستان افراد سامنے آئیں اور عزتیں لوٹنے والوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں کہ اربابِ حکومت و سیاست نے آنکھوں‘ کانوں پر کھوپے چڑھا رکھے ہیں۔
٭....٭....٭....٭
اعتزاز احسن کہتے ہیں‘ عمران خان کھوٹے سکوں سے ملک میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔
ملک میں جمہوریت چیف جسٹس کی وجہ سے آئی ورنہ آج بھی مشرف کرسی پر بیٹھا ہوتا۔
جب کھرے سکے بھی کھوٹے ہو جائیں تو عمران خان کو کھرے سکے کہاں سے ہاتھ آئینگے۔ اعتزاز احسن نے کیا خوب فرمایا ہے کہ ملک میں جمہوریت چیف جسٹس کی وجہ سے آئی‘ سچ ہے کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ چودھری اعتزاز صاحب اس ملک کے ذہین قانون دان ہیں‘ وہ کبھی کسی جال میں نہیں آسکتے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ ازخود ایسا کریں اور سیانے کہہ گئے ہیں ”خود کردہ را علاجے نیست“ (اپنے کئے کا علاج نہیں)۔ تاہم وہ فن غوطہ خوری میں طاق ہیں کہ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اور اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے۔ وہ ہمیشہ کنارہ نظر میں رکھ کر غوطہ لگاتے ہیں‘ اللہ ان کو سلامت رکھے۔