کیا ہم واقعی آزادی کے اہل نہیں؟

15 اگست 2012

”آپ لوگ آزادی کے اہل ہی نہیں“ یہ الفاظ تھے لیفٹیننٹ کرنل براﺅننگ کے جو اُس نے اپنی آخری سٹاف میٹنگ میں اپنے پاکستانی افسران کو کہے۔اِس واقعے کا پس منظر یہ ہے کہ جب پاکستان بنا اور پاکستان آرمی کی تنظیم نو شروع ہوئی تو ہمارے پاس تجربہ کار سینئر آفیسرز نہ ہونے کے برابر تھے۔لہٰذا کمانڈر انچیف سمیت تمام سینئر افسران اور بہت سے درمیانہ درجہ کے تجربہ کار انگریز افسران مستعار لینے پڑے۔ اِن لوگوں کو پاکستان اور پاکستان آرمی سے کیا ہمدردی ہوسکتی تھی اُس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن اِس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ لوگ خالصتاً پیشہ ور اور بااصول تھے۔ اِسی لئے کرنل محمدخان مرحوم نے اپنی کتاب ’بجنگ آمد‘ میں لکھا کہ :
 ”یہ لوگ جتنے اچھے کمانڈر تھے اتنے اچھے ماتحت بھی تھے“۔ بدقسمتی سے ہمارے لوگ اس اچانک ملنے والی آزادی کو مکمل طور پر ہضم نہ کر سکے اور نتیجتاً ڈسپلن۔ کارکردگی اور پیشہ ورانہ روّیہ بری طرح متاثر ہونا شروع ہوگئے جس کی سزا آج تک قوم بھگت رہی ہے۔ پیشہ ور اور ڈسپلن پسند انگریز افسران ایسے غیر ذمہ دارانہ رویے کو سخت ناپسند کرتے تھے لہٰذا آہستہ آہستہ استعفےٰ دیکر واپس جانا شروع ہو گئے۔ اس امر کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کمانڈر انچیف جنرل فرینک میسروری جنہیں قائداعظم خود پسند کرکے لائے تھے اور اِ س عہدے پر فائز کیا تھا چند ماہ بعد ہی استعفےٰ دیکر واپس انگلینڈ چلا گیا۔ کرنل براﺅننگ جی ایچ کیو میں ایک اہم برانچ کے سربراہ تھے۔ اُنکے ماتحتوں میں میجر مطیع الرحمن بھوئیاں (مشرقی پاکستانی آفیسر) اور چار مغربی پاکستانی جونیئر آفیسرز شامل تھے۔ میجر بھوئیاں عام بنگالیوں کی طرح دبلا پتلا چھوٹے قد اور کالے رنگ کا آفیسر تھا۔ غیر متاثر کن شخصیت ۔پیشہ ورانہ طور پر تو بہت قابل اور محنتی آفیسرتھا اور تھا بھی باقی تمام آفیسرز سے سینئر۔ ایک دن میجر بھوئیاں نے اپنے ایک مغربی پاکستانی ماتحت آفیسر کو کوئی اہم نوعیت کا کام دیا۔ دوسرے دن جب میجر بھوئیاں نے کام کا پوچھا تو اس آفیسر نے بات دائیں بائیں کر دی۔ یہ آفیسر اونچا لمبا۔ موٹا تازہ اور مضبوط جسم و جان کا مالک تھا جبکہ میجر بھوئیاں اسکے مقابلے میں کھلونا لگتا تھا۔ جب باتوں میں تلخی پید اہوئی تو اس دیوہیکل آفیسر نے غصے میں یہاں تک کہہ دیا: ”اگر زیادہ بولے تو اُٹھا کر باہر پھینک دونگا“۔ معاملہ رپورٹ ہوا۔ اس آفیسر نے میجر بھوئیاں سے اپنے رویے پر شرمندگی ظاہر کی اور معذرت چاہی۔ وہ مزید انضباطی کاروائی سے تو بچ گیا لیکن اسے وارننگ دیکر دوسری برانچ میں بھیج دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد دونوں افسران کے ذاتی تعلقات کبھی اچھے نہ ہو سکے۔ دونوں کے درمیان مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی خلیج حائل ہوگئی۔ پھر ایک دن ایک پنجابی اور پٹھان آفیسر کی بھی اسی طرح تو تو میں میں ہوئی۔ جو فوجی ڈسپلن کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ ایسے معاملا ت پر عموماً سخت کاروائی کی جاتی ہے اور بات کورٹ مارشل تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی قسم کا ایک واقعہ مرحوم جنرل عتیق الرحمن نے بھی اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے۔ پھر ایک دن ایک آفیسر کے پاس اُن کے علاقے کا ایک اور آفیسر ملنے آیا جسے فوج میں ”گرائیں“ کہا جاتا ہے اور یہ دونوں افسران کام کاج چھوڑ کر محض گپ لگاتے رہے۔ دفتری اوقات میں گپ لگانا کم از کم اُس دور میں نہ صرف ڈسپلن کی خلاف ورزی تھی بلکہ قومی جرم بھی تھا جسے کرنل براﺅننگ برداشت نہ کر سکا۔ اُس آفیسر کی سخت سرزنش کی۔ آئندہ کیلئے دفتری اوقات میں ایسے میل جول پر پابندی لگادی گئی۔ یاد رہے کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اب سارا دن گپ لگانے والے افسران زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ ڈسپلن کی پابندی اور پیشہ ورانہ جوش و جذبہ کمزور ہوتے گئے۔ بعض پاکستانی افسران نے انگریز افسران کو یہاں تک بھی سنا دیا کہ اب آپ ہمارے حکمران نہیں ہیں کہ اس طرح رعب جھاڑیں۔ کچھ افسران اپنی ترقی یا اچھی پوسٹنگ کیلئے غیر روایتی طریقے بھی استعمال کرنے لگے جو کم از کم انگریز افسران کیلئے ناقابل برداشت تھا۔ پھر11ستمبر1948کو قائد اعظم کی وفات کا واقعہ پیش آیا۔ انگریز افسران میں سر گوشیاں ہونے لگیں کہ قائد کی موت کسی سازش کا نتیجہ ہے کیونکہ سربراہ مملکت کیلئے اس قسم کے پروٹوکول کا بندوبست نہیں کیا جاتا جو اُس وقت عظیم قائد کیلئے کیا گیا تھا۔ اُن کی ایمبولینس راستے میں ہی خراب ہو گئی اور دوسری گاڑی ساتھ نہ تھی۔ غلط پروٹوکول کی وجہ سے سربراہ مملکت اور مسلمانان ہند کے عظیم قائد کی یوں موت اور اتنے بڑے سانحہ پر اُس وقت کی حکومت کی سرد مہری انگریز افسروں سے چھپی نہ رہ سکی اور یہ کوئی اچھا تاثر نہ تھا۔ حالات سے غیر مطمئن ہو کر کرنل براﺅننگ نے استعفیٰ دیدیا۔ اُس نے جب اپنی برانچ کے افسران سے آخری کانفرنس کی تو کہا : ”جو واقعات یہاں رونما ہو رہے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیشہ ورانہ کارکردگی کی پرواہ نہیں کی جارہی۔ خدا آپ کو آزادی مبارک کرے لیکن ایسے نظر آتا ہے کہ آپ لوگ تاحال آزادی کے اہل نہیں تھے اور خطرہ ہے کہ ہمارے جانے کے بعد آپ لوگ آپس میں لڑ لڑ کر نہ مر جائیں“ ۔کرنل براﺅننگ تو چلا گیا اور اُن کی جگہ ایک پاکستانی آفیسر برانچ انچارج پوسٹ ہو گیا۔ کرنل براﺅننگ نے کراچی بحری جہاز سے اپنا سامان بھجوانا تھا۔ روانگی سے ایک دن پہلے شام کے وقت میجر بھوئیاں اُن سے ملنے گھر گیا۔ میجر بھوئیاں کا ایک دوست میجر حامد بھی صبح کی ٹرین سے فیملی سمیت کراچی جا رہا تھا۔ اُس کی پوسٹنگ مشرقی پاکستان ہوئی تھی اور اُس نے کراچی سے آگے جانا تھا۔ میجر حامد پھولوں کا بہت شوقین تھا۔ اُس کے گھر کا لان ہمیشہ رنگ برنگے پھولوں سے بھرا رہتا۔ میجر بھوئیاں پہلے میجر حامد کے گھر گیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گھر کا لان خشک ہوا پڑا تھا۔ پوچھنے پر میجر حامد نے جواب دیا: ”یار میں تو جا رہا ہوں جو بھی اس بنگلے میں آئیگا اپنی مرضی کے پھول لگائے گا“ یہاں سے فارغ ہوکر بھوئیاں کرنل براﺅننگ کے گھر گیا اور یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ لان پھولوں سے بھرا تھا اور مسز براﺅننگ فوارے سے خود اُنہیں پانی دے رہی تھی جبکہ اگلی صبح انہیں مستقل طور پر یہ بنگلہ خالی کرکے انگلینڈ واپس جانا تھا۔ یہ دورویے دو انسانوں کا نہیں بلکہ دو تہذیبوں کا فرق تھا۔ یہی فرق قوموں کی عظمت اور پستی کو ظاہر کرتا ہے۔ معزز قارئین بات تو بڑی معمولی سی ہے لیکن ان دونوں افسران کے رویے بہت کچھ ثابت کرتے ہیں۔ کرنل براﺅننگ کی یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ”آپ لوگ تاحال آزادی کے اہل ہی نہیں تھے۔ ہمارے جانے کے بعد آپس میں لڑ لڑ کر مرجائیں گے“ میرے خیال میں کافی درست تجزیہ تھا۔ ہم نے آپس میں لڑ لڑ کر مشرقی پاکستان تو کھو دیا۔ اب بچے کھچے پاکستان کے ہر علاقے میں علیحدگی کے نعرے لگ رہے ہیں۔ سارا پاکستان آگ میں جل رہا ہے۔ ہم سب نے مختلف تعصبات پال لئے ہیں اور اِن تعصبات کی وجہ سے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جب صوبائیت پرستی سے فارغ ہوتے ہیں تو فرقہ وارانہ تعصبات کی آگ بھڑ کا لیتے ہیں۔ پھر لسانی تعصبات ۔مہاجر اور مقامی ہونے کے تعصبات۔ فوج اور سول ہونے کے تعصبات کی آگ میں جلنے لگتے ہیں۔ کہیں بھی چین نصیب نہیں حتیٰ کہ مقدس مذہبی مقامات تک محفوظ نہیں۔ انسانی جان جانوروں سے بھی زیادہ ارزاں ہے۔ معاشی زبوں حالی پتھر کے دور تک پہنچ چکی ہے لیکن ہم تاریخ سے کچھ بھی تو سیکھنے کیلئے تیار نہیں۔ اسلام جس کے نام پر یہ ملک حاصل کیا گیا تھا بد قسمتی سے ہمیں ایک معاشرے میں منظم کرنے کی بجائے کچھ تیز طراز اور خود پرست لوگوں کے ہاتھوں تفرقہ بازی کی بنیاد بنا دیا گیا ہے۔ ہم سب کچھ ہیں لیکن پاکستانی بننے کیلئے تیار نہیں۔ شیرازہ بکھر رہا ہے۔ شعلے بڑھ رہے ہیں۔ دشمن آگ بھڑکا رہے ہیں لیکن ہم اس بڑھتی آگ پر پانی کی بجائے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیل ڈالنے میں مصروف ہیں۔ کیا خدانخواستہ کرنل براﺅننگ کی پیشین گوئی واقعی صحیح ثابت ہو رہی ہے کہ ہم آزادی کے اہل ہی نہیں تھے؟