Blessing is Disguise

15 اپریل 2018

24 ستمبر 2017 کو بھارتی وزیر خارجہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے جواب میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی نے خوب تیاری کر رکھی تھی اور اہم دستاویزات و تصاویران کی فائل میں موجود تھیں۔ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ہال میں ایک نوخیز لڑکی کی تصویر یہ کہہ کر لہرائی کہ عالمی برادری اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ معصوم بچیوں تک کے چہرے چھروں والی بندوقوں سے چھلنی کیے جا رہے ہیں ۔ مگر عقدہ کھلا کہ وہ تصویر کسی کشمیری نہیں بلکہ فلسطینی لڑکی رایا کی ہے جو تین برس قبل اسرائیلی حملہ کے دوران زخمی ہوئی تھی۔ پاکستانی سفارت کاروں نے اس حماقت میں سے خیر کی خبر یوں نکالی کہ اس چُوک نے کشمیر کاز کو بے پناہ تقویت بخشی اور پیغام چند لاکھ کی بجائے ساڑھے تین ملین لوگوں تک جا پہنچا، ان تک بھی جن کا کشمیر سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ کیا واقعی؟