مقابلہ گالیو ں کی بنیاد پر نہیں کارکردگی پر ہونا چاہیے، کام کرنے دیا جاتا تو 100فیصد بجلی پوری ہوتی: خواجہ سعد رفیق

15 اپریل 2018 (18:15)

 وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ جو ووٹ لیکر آجائے اسے چور بنا دیا جاتا ہے ایک دوسرے کو گھسیٹ کر ملک نہیں چل سکتا اختلافات اپنی جگہ دوسروں کی عزت کا خیال رکھا جائے ۔لاہور میں خطاب کرتے ہوئے ریلوے کو بدلنے کے لیے ایک سے زیادہ دہائی چاہیے محکمہ ریلوے کو سیاست سے پاک رکھنا بہت ضروری ہے ماضی میں ریلوے کے ادارے میں بہت لوٹ مار کی گئی۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہمارے کام کی راہ میں رکاوٹیں بنانے کی کوشش کی گئی اگر کام کرنے دیا جاتا تو 100فیصد بجلی پوری ہوتی۔ عمران خان میاں نواز شریف کو نکلوانے  کے بعد آپ کو علم بھی نہیں ہے جو آپ کا نقصان ہو چکا ہے اس نظام کا نقصان تو ہونا ہی تھا خان صاحب  اپنی کارکردگی لائیں اور زرداری کی پارٹی کی بھی اگر کوئی کارکردگی ہے  تو لے آئے  ہم بھی لائیں گے ۔ مقابلہ گالیوں بنیاد پر نہیں کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ الیکشن کے لیے سازگار ماحول بہت ضروری ہے اگر کشیدگی کا ماحول ہو تو بعض اوقات بڑا نقصان ہونے کا خطرہ ہوتا ہے کیا پہلے ایسا نہیں ہو چکا ۔ہماری پارٹی کی حکومت نے  لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔10ہزار سے زائد بجلی پیدا کر کے سسٹم میں ڈالی ہے۔ ہمیں بتایا گیا ہے کہ سات سے آٹھ ہزار بجلی کی طلب بڑھ گئی ہے اگر ہم 10ہزار میگاواٹ بجلی پیدا نہ کرتے اور سترہ اٹھارہ ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی ہوتی تو ملک کا کیا بنتا۔ ہم کسی سے جھگڑنانہیں چاہتے ۔کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تعریف ہونی چاہیے اور اگر کوئی بُرا کام کرے تو اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ پاکستان ریلوے کا مستقبل تابناک ہے پاکستان ریلوے کو حکومت ریاستی اداروں کی حمایت چاہیے ۔جن قوموں نے ترقی کی ہے ان کی ریلوے بہت عروج پر پہنچ گئی ہے ۔پاکستان کو وقت پر انتخابات کی طرف لے جانے ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ریلوے کمرشل نہیں قومی ادارہ ہے ہم مال گاڑی سے کماتے ہیں کچھ مسافر ٹرینوں سے بھی کماتے ہیں۔ ریلوے کے 73ہزار ملازم ہیں ایک ریگولر ملازم کو نہیں نکالا ہمارا سروس سٹرکچر نہیں ہے ایک آدمی گریڈ ایک میں آتا ہے اور اس میں ریٹائرڈ ہو جاتا ہے یہ کوئی انصاف ہے یہ انصاف نہیں ظلم ہے ہم نے ریلوے کو آگے بڑھایا ہے ہمارا ضمیر مطمئن ہے ہر ادارہ ٹھیک ہو سکتا ہے اگر عزم اور نیت ہو خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اگر عزت نہیں تو بے عزتی کرنی چاہیے ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیے مگر افسوس جو ووٹ لیکر آجائے اسے چور بنا دیا جاتے ہے یہ اعتماد نہیں کریں گے تو کام کیسے چلے گا۔