مرجا ﺅ ں گا لیکن پی ایس پی یا کسی اور جماعت میں نہیں جا ﺅ ں گا: فاروق ستار

15 اپریل 2018 (14:22)

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بی آئی بی گروپ کے سربراہ فاروق ستار نے کہنا ہے کہ مرجا ﺅ ں گا لیکن پی ایس پی یا کسی اور جماعت میں شامل نہیں ہوں گا۔جیوں گا توایم کیوایم کے لیے اور مروں گا تو ایم کیوایم کے لیے۔ وفاداریاں تبدیل کرانے کا عمل بہت شدت کے ساتھ شروع کیا گیا ہے۔ دن رات پی ایس پی کے لوگ فون پر دھمکیاں دیتے ہیں۔تاثر دیا جا رہا ہے کہ مستقبل کسی اور کا ہے۔کراچی میں شفاف انتخابات کادعوی غلط ہے۔چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں سیاست سے دور کرنے کا نوٹس لیں۔ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وفاداریاں تبدیل کرنے کا عمل بہت شدت کے ساتھ شروع کیاگیا ہے۔ دن رات پی ایس پی کےلوگ فون پر دھمکیاں بھی دیں۔ کسی کے ذریعے بلاوا بھیجیں، کسی سے ملاقات بھی کرائی جائے 2018کے الیکشن سے کچھ ماہ پہلے ایسا ہو رہاہے۔ مجھے وقت دیں، میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کرناچاہتاہوں۔ فاروق ستار نے کہا ہمارے اراکین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ غیرمتنازع سیاسی جدوجہدکےباوجودہم اذیت میں مبتلاہیں۔ تاثردیاجارہاہے کہ پارٹی کےتنازع کی وجہ سے لوگ پارٹی چھوڑکرجارہےہیں۔ کیامیں بھی ایم پی اے کےگھروں پرجاکر نظریے، مہاجرشہدا کا واسطہ دوں۔ 38،38سال سیاسی جدوجہد کرنیوالوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی جارہی ہیں۔اب اس طرح کام نہیں چلےگا ۔ نشاط ضیابھائی کانام چل گیا تھا کہ وہ دوپہر ڈھائی بجے پی ایس پی جوائن کررہے ہیں۔ مگر وہ ابھی میرے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم پی ٹی آئی، پی ایس پی اورپیپلزپارٹی سب کے لیے راستہ چھوڑنے کوتیارہیں۔سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے کہا میں آرمی چیف کے پاس بھی جاں گا۔ جس کےلیے کہیں گے ہم اس کےلیے واک اووردے دیں گے۔کراچی میں پتنگ اورایم کیوایم کوزبردستی ختم کیاجارہاہے۔ میں مر جاں گا لیکن پی ایس پی یا کسی اور سیاسی جماعت میں نہیں جاں گا، جیوں گا توایم کیوایم کے لیے اور مروں گا تو ایم کیوایم کے لیے۔ تنظیمی اختلاف کا بہانہ بنا کر سیاست کی جارہی ہے۔ بہادرآباد کے ساتھیوں کو بھی سیاست کا چسکا لگا ہواہے۔ کارکنوں میں پروپیگنڈا کیاجارہاہے کہ میں اراکین کوخودپی ایس پی میں بھجوارہاہوں۔ میں کسی ریاستی ادارے کی ساکھ کومتاثرنہیں کرناچاہتا، شبیراحمدقائم خانی اسی لیےبدظن ہوکرپی ایس پی میں گئے۔ شبیراحمدقائم قانی کے جاتے ہی بلی تھی لے سے باہرآگئی۔حاجی انور، کامران فاروق اپنی مرضی سے نہیں گئے، کچھ عناصرہمارےاراکین اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروارہے ہیں۔ 92میں بھی ایم پی ایز نے کہاتھاکہ انہیں دھمکیاں دی گئی تھیں اس لیے پارٹی چھوڑی۔ فاروق ستار نے کہا میں وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کانام تولوں گاہی نہیں کیونکہ وہ اپنی حکومت بچانےمیں لگےہیں۔ آگ لگے بستی میں عبداللہ رہے اپنی مستی میں۔ ہم فجرکی نمازاداکرکےحلفیہ بیان دےرہے ہیں۔ جانیوالی اسمبلی کےساتھ یہ ہورہاہے توآنیوالی اسمبلی کےساتھ کیاہوگا، اب ہمارے اہل خانہ کی خیرو عافیت کی ضمانت دی جائے، سب تحلیل کریں۔ میں اور خالد مقبول صدیقی سب کرتے ہیں۔ انٹراپارٹی الیکشن کرالیں، آگے بڑھیں، یوں ہم سب کو اذیت میں مبتلانہ کریں۔ خواجہ اظہار الحسن نے گزشتہ 15 دن سے مجھے ایک فون نہیں کیا۔ آج توخواجہ اظہارالحسن بہادرآباد سے یہاں آجاتے۔انہوں نے کہا کیوں یہ توقع کی جارہی ہے کہ ایم کیوایم پی ایس پی کےساتھ مل جائے، مہاجروں کی بچی کچی عزت بچانے کی کوشش کررہاہوں۔ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے ملاقات کرناچاہتاہوں۔ ہمارے اراکین کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ تاثردیاجارہاہے کہ پارٹی کےتنازع کی وجہ سے لوگ پارٹی چھوڑکرجارہےہیں۔ یہ اشارے دیے جارہے ہیں کہ پتنگ توختم ہوگئی، مستقبل کسی اورکاہے۔