پارلیمنٹ ترمیم کے ذریعے نااہلی کی مدت کا تعین کرسکتی ہے: آئینی ماہرین

15 اپریل 2018

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ آف پاکستان کے آرٹیکل 62ون ایف کی تشریح کے فیصلے کے حوالے سے سینئر قانون دان چوہدری اکرام نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بے تحاشہ ترامیم کی گئیں تاہم آرٹیکل 62ون ایف کو چھیڑا ہی نہیں گیا ، پارلیمنٹ اب بھی ترمیم کر کے نااہلی کا تعین کرسکتی ہے۔ ماہر قانون شاہ خاور نے کہا کہ یہ فیصلہ کسی کے خلاف نہیں ہے ، آئین کی تشریح مقصود تھی جو آج عدالت نے کردی ہے ، فیصلہ قانونی تقاضے پورے کرتا ہے ، پارلیمنٹ دو تہائی اکثریت سے ترمیم کرکے آرٹیکل 62ون ایف میں نااہلی کی مدت کا تعین کرسکتی ہے ،سینئر وکیل صدیق بلوچ نے کہا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے بہترین فیصلہ کیا ہے ، آرٹیکل 62، 63کے تحت نااہلی کا معاملہ حل طلب تھا تاہم اس کو آج تک چھیڑا نہیں گیا ، سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو عدالت نے اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اس کیس کو سنا اور مدت کا تعین کیا ہے، ایڈووکیٹ شفت عباسی نے کہا کہ جو فیصلہ آیا وہ قانون کے مطابق ہے آئین پہلے موجود تھا شرپسند عناصر نے اس میں ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ معاملات الجھ جائیں اور واضح نہ ہو سکیں عدالت نے مذکورہ آرٹیکل کی تشریح کی ہے، پارلیمنٹ مدت کا تعین کر سکتی ہے۔ ایڈووکیٹ فیصل چوہدی نے کہا کہ فیصلہ درست ہے ن لیگ کے کو سمجھ آجانی چاہئے کہ وہ ہر ایک کو بے وقوف نہیں بناسکتے ، پی ٹی آئی کے جہانگرترین کے علاوہ دیگر افراد بھی متاثر ہوئے ہیں مگر سب عدالتی فیصلہ کو تسلیم کرتے ہیں۔