کاشتکار نمائندوں نے پنجاب حکومت کی گندم پالیسی مسترد کردی

15 اپریل 2018

ملتان (خبر نگار خصوصی) پنجاب حکومت نے ملکی تاریخ کی پہلی انوکھی گندم پالیسی 2018 جاری کردی ہے کاشتکاروں کو باردانہ کے حصول کے لئے درخواستیں دینے کے لئے صرف چار دن دیئے گئے ہیں دوسرا باردانہ کے اجراء کی منظوری بھی کیبنٹ کمیٹی دے گی درخواستیں جمع نہ کرانے والے کاشتکار باردانہ سے محروم رہیں گے کاشتکار نمائندوں نے اس پالیسی کو مسترد اور من پسند افراد کو نوازنے کی پالیسی قرار دیا ہے کاشتکاروںکو باردانہ کے اجراء کے لئے 16 اپریل سے 20 اپریل تک درخواستیں طلب کی گئی ہیں باردانہ سنٹر کوآرڈینیٹر جاری کرے گا باردانہ کے لئے آنے والی درخواستوں کی سکروٹنی 21 اور 22 اپریل کو ہو گی سکروٹنی کے بعد ہر ضلع کا ڈپٹی کمشنر اسے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ڈیش بورڈ پر لگائیں گے 23 اپریل کو کیبنٹ کمیٹی درخواستوں کا جائزہ لے کر ضلع وائز باردانے کی تقسیم کا فیصلہ کرے گی 24 اپریل سے باردانہ کا اجراء شروع ہو گا ڈی سی خریداری مراکز پر تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے 10 ایکڑ کے لئے باردانہ بھی کیبنٹ کمیٹی کی منظوری سے جاری ہو گا صوبے میں 382 اور ضلع ملتان میں 17 خریداری مراکز قائم کئے گئے ہیں جیوٹ باردانہ فی بیگ کے لئے 152.50 اور پولی تھین بیگ کے لئے 36.65 روپے سکیورٹی دینا ہو گی 4 ایکڑ تک کے کاشتکار 17 ویں گریڈ کے افسر کی شخصی ضمانت پر بغیر سکیورٹی کے بیگ حاصل کر سکتے ہیں پرائیویٹ خریدار اپنی مرضی اور گنجائش کے مطابق گندم خرید کر سکتا ہے گندم کی بین الاضلاعی اور بین الصوبائی نقل و حمل پر کوئی پابندی نہیں ہو گی۔