نور فاطمہ سے زیادتی ہوئی نہ اسے جلایا گیا‘ پو لیس

15 اپریل 2018

اسلام آبا د (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں چیچہ وطنی کے علاقہ میںبچی نور فاطمہ سے زیادتی اور زندہ جلانے کے معاملے پر رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی گئی۔ رپورٹ میںپنجاب پولیس( RPO ساہیوال) نے نورفاطمہ کا قتل حادثہ قرار دے دیا ہے جبکہ رپورٹ میں نورفاطمہ کو زیادتی کے بعد زندہ جلانا حقائق کے برعکس بتایا گیا ۔رپورٹ کے مطابق کمسن نور فاطمہ سے زیادتی نہیں ہوئی، ڈی این اے رپورٹ میں بھی زیادتی کی تصدیق نہیں ہو سکی اور نورفاطمہ کو زیادتی کے بعد زندہ جلا دینے کا الزام بھی غلط ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نورفاطمہ کو گھر سے 10روپے ملے، اس نے قریبی دکان سے پٹاخوں کا پیکٹ اور تین ٹافیاں خریدیں 5 سے 7 منٹ بعد نورفاطمہ گھر کے پاس پٹاخے چِلاتی پائی گئی، واقعہ کے بعد 19 لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، وزیراعلیٰ پنجاب کی تشکیل کردہ خصوصی ٹیم کے بھی یہی نتائج سامنے آئے۔