ساہیوال : ڈاکٹروں کی بے حسی کے باعث 11 سالہ بچہ دم توڑ گیا، ورثا کا احتجاج

15 اپریل 2018

ساہیوال (نمائندہ نوائے وقت) 8 مارچ کو ٹریفک حادثے میں زخمی ہونیوالا گیارہ سالہ بچہ ہسپتال کے دو وارڈوں کی بے حسی کے باعث ایک ماہ چھ روز بعد دم توڑ گیا۔ ورثا کا شدید احتجاج۔ غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کو معطل کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق چیچہ وطنی کے ایک محنت کش محمد علی کا 11 سالہ بیٹا محمد عارف 8 مارچ کو ٹریفک حادثہ میں سر میں چوٹ کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا جسے فوری طور پر نیورو سر جری وارڈ میں دا خل کرا دیا گیا لیکن نیورو سر جری وارڈ سے ڈاکٹروں نے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (Icu) میں دا خل کرا دیا گیا جہاں سے چلڈرن وارڈ کے ڈاکٹروں کو طلب کر کے انڈو سکوپی کی ہدایت کی لیکن چلڈرن وارڈ اور انتہائی نگہداشت کے ڈاکٹروں کی کھنچا تانی اور ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بچے کو واپس لاہور نیورو وارڈ میں بھیج دیا گیا جہاں ایک ماہ چھ یوم بعد بچہ ڈاکٹروں کی کشمکش کے باعث چل بسا جس پر ورثاء نے شدید احتجاج کیا اور چلڈرن و ارڈ اورا ٓئی سی یو کے ذمہ دار غفلت کے مر تکب ڈاکٹروں کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا۔