تین کروڑ روپے سے قائم کوڑادان سسٹم ناکام

15 اپریل 2018

راولپنڈی (سروے رپورٹ: سلطان سکندر/ تصویر: سجاد حیدر) چکلالہ اور راولپنڈی کنٹونمنٹس میں تین کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کیا گیا کوڑا دان سسٹم ناکارہ اور ناکام ہوگیا ہے اور صفائی کی صورتحال گھمبیر ہوگئی ہے۔ ملک برادران کی کوششوں سے پنجاب حکومت کی طرف سے فراہم کئے گئے تین کروڑ روپے کے خطیر فنڈز کے ذریعے دونوں کنٹونمنٹس کے 20 وارڈوں میں رکھے گئے جستی چادروں کے کوڑا دان مناسب دیکھ بھال نہ ہونے اور بقول وائس پریذیڈنٹ چک لالہ کینٹ راجہ عرفان امتیاز ان کوڑا دانوں میں کوڑا کرکٹ کو آگ لگائے جانے کی وجہ سے یہ شکست و ریخت کا شکار ہوگئے ہیں۔ چکلالہ کینٹ کی انتظامیہ گلی کوچوں سے کوڑا کرکٹ اٹھا کر ٹرانزٹ ڈمپ تک پہنچانے کیلئے دو موٹرسائیکل ٹرالیاں چلانے کے کامیاب تجربے کے بعد مزید دس موٹرسائیکل ٹرالیاں خریدنے کی تجویز پر غور کررہی ہے۔ ملک ابرار احمد ایم این اے کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹس بورڈز سویلین آبادی سے صفائی کی مد میں ٹیکس وصول کرتے ہیں اسلئے دونوں نئے سی ای او صاحبان کو اسٹیشن کمانڈر کے ساتھ مل بیٹھ کر دونوں کنٹونمنٹس میں صفائی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ماسٹر پلان تیار کرنا چاہیے۔ ملک ابرار احمد نے نوائے وقت کے استفسار پر اس بات کی تصدیق کی کہ راولپنڈی شہر میں آر ڈبلیو ایم سی اور ترکی کی البراک کمپنی کے تعاون و اشتراک سے صفائی کے مثال انتظامات کے کامیاب تجربے کے بعد انہوں نے اور ملک افتخار احمد ایم پی اے کی کوششوں سے پنجاب حکومت بالخصوص وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے شہر کے صفائی کے نظام کو چک لالہ اور کینٹ میں توسیع دینے کے عوامی مطالبے کی پذیرائی کیلئے مطلوبہ اخراجات کیلئے فنڈز کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کردی تھی مگر اس وقت کی کینٹ انتظامیہ نے اس پروگرام پر عملدرآمد کرنے میں تعاون نہیں کیا تھا۔ واضح رہے کہ ملک برادران نے این اے 54 میں شامل راولپنڈی کینٹ کے دس اور چکلالہ کینٹ کے چار وارڈز کے علاوہ این اے 56 میں شامل چکلالہ کینٹ کے چھ وارڈز میں جستی کوڑا دان فراہم کئے تھے دوسری طرف راجہ عرفان امتیاز نے نوائے وقت کے رابطہ کرنے پر بتایا کہ چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس جستی کوڑا دان اٹھانے کی گاڑی نہ ہونے کی وجہ سے یہ تجربہ کامیاب نہ ہوسکا جبکہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے کوڑا دان اٹھانے کیلئے دستیاب گاڑی استعمال کی جاتی رہی۔