غرہ میں اسرائیلی فوج کی فائزنگ، ایک فلسطینی شہید، 500 زخمی

15 اپریل 2018

مقبوضہ غزہ +رام اللہ(این این آئی)غزہ میں طبی حکام نے کہاہے کہ اسرائیل اور غزہ پٹی کی سرحد کے قریب احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی میں ایک فلسطینی شہید 500سے زائد زخمی ہو گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق غزہ میں وزارت صحت نے بتایا کہ احتجاج کرنے والے فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ بھی کی اور آنسو گیس بھی استعمال کی۔ان مظاہروں کے منتظمین نے احتجاج کے دوران اسرائیلی پرچموں کو نذر آتش کرنے اور فلسطینی جھنڈے لہرانے کا اعلان بھی کیا ۔ ان مظاہروں کے دوران احتجاج کرنے والے فلسطینی سرحدی باڑ سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر خیموں سے بنائے گئے پانچ کیمپوں میں جمع ہوئے ۔ انہی میں سے کچھ افراد چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم ہو کر باڑ کے قریب پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے اسرائیلی پرچم نذر آتش کیے۔انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ احتجاجی فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کا یوں براہ راست فائرنگ کرنا غیر قانونی ہے۔ادھراسرائیلی فوج کی سرپرستی میں دسیوں یہودی شرپسندوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک مسجد پر آتش گیر مادہ چھڑک کر اسے آگ لگا دی جس کے نتیجے میں مسجد جل کر خاکستر ہو گئی۔عرب ٹی وی کے مطابق یہ واقعہ نابلس کے جنوبی قصبے عقربا میں اس وقت پیش آیا جب صہیونی شرپسندوں نے جامع مسجد ’الشیخ سعادہ’ پر تیل اور آتش گیر مادہ چھڑکا اور اسے آگ لگا دی۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مسجد کو شہید کرنے والے صہیونی مجرموں نے مسجد کی بیرونی دیواروں پر اشتعال انگیز نعرے بھی تحریر کیے۔مقامی شہریوں نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے رات کی تاریکی میں مسجد کو آگ لگائی۔ جب شہری نماز فجر کے لیے مسجد پہنچے تو مسجد جل کر خاکستر ہو چکی تھی۔