پارلیمنٹ کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں، ٹکراؤ کی کیفیت ملک کیلئے نقصان دہ ہے: لیاقت بلوچ

15 اپریل 2018

سرائے نورنگ(نامہ نگار)متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ اس وقت ملک بحران کا شکار ہے اور بے یقینی کی کیفیت ہے،حکمران عوام کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہے ہیں،ٹکراو کی کیفیت ملک کو نقصان سے دوچار کر دے گی،ان خیالات اُنہوں نے گزشتہ روزیہاں نورنگ میں ڈونرزکانفرنس سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری بحراللہ ایدوکیٹ،ایم حاجی انورحیات خان،ضلعی امیرمفتی عرفان اللہ ضلعی جنرل سیکرٹری ظفرسیماب اوردیگرمقامی رہنمائوں نے بھی کانفرنس سے خطاب کیاجبکہ اس موقع پرجماعت اسلامی کے صوبائی رہنماحاجی عزیزاللہ،ضلعی زکوٰۃ کمیٹی کے چیئرمین مولانااسعداللہ،نائب امیرحاجی عبدالصمدخان اورسلمان خٹک سمیت دیگرمعززین علاقہ موجودتھے، اس سے قبل پی پی کے سابق تحصیل صدرسلیمان خٹک ،حاجی غلام قادرغزنی خیل اورعزیزاللہ نے باقاعدہ طورپرجماعت اسلامی میں شمولیت کااعلان کیا جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کاکہناتھا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک نے ملک کو قرضوں میں جکڑ رکھا ہے اور ملک کی معیشت تباہ ہوگئی ہے ملک کی دینی جماعتیں مل کر ملک کے مسائل حل کر سکتی ہیںدینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی مرکزی کابینہ بن چکی ہے،خیبر پختونخوا کی تنظیم بھی جلد قائم ہو جائے گی ٹکٹوں کی تقسیم مرکزی پارلیمانی بورڈ صوبائی اور ضلعی تنظیموں کی مشاورت سے کرے گامتحدہ مجلس عمل ملک بھر میں جلسوں اور پروگرامات کاجلد اعلان کرے گی کشمیریوں پر مظالم کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ،ہم افغانستان اور شام میں معصوم لوگوں پر بمباری کی شدید الفاظ میںمذمت کرتے ہیں اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ ان سے لا تعلق نہ رہیں اُنہوں نے مزیدکہاکہ احتساب کاعمل نوازشریف اورجہانگیرترین تک محدودنہیں رہناچاہئے بلکہ پانامالیکس میں شامل تمام افرادا،آئین توڑنے والوں کوقومی اداروں کوتباہ کرنے والوں سمیت سب کابلاامتیازاحتساب کیاجائے ہم پارلیمنٹ کی بالادستی اورعدلیہ کی آزادی پریقین رکھتے ہیں جمہوریت اورآئین کے سواکسی اوراقدام کی ہم حمایت نہیں کرسکتے اُنہوں نے کہاکہ فاٹاکے بارے میں پارلیمنٹ کوفیصلے کاموقع دیاجائے اورپارلیمنٹ جوفیصلہ کرے تمام قوتیں اُس کوقبول کریں لاپتہ افرادکے بارے میں اُنہوں نے کہاکہ قانون کے مطابق اُن کامعاملہ نمٹایاجائے اُن کامزیدکہناتھاکہ دینی جماعتوں نے اتفاق رائے سے ایم ایم اے بحال کردیاہے انشاء اللہ مستقبل دینی جماعتوں کاہوگا۔