میرا دسویں جماعت کا طالبعلم بیٹا بے گناہ ہے، مختار احمد

15 اپریل 2018

دھریالہ جالپ(نامہ نگار)میرا دسویں جماعت کا طالبعلم بیٹا بے گناہ ہے ہمیں بلیک میل کرنے کیلئے زیادتی کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے کی کوشش کی گئی،ان خیالات کا اظہار ٹوبھہ کے رہائشی مختار احمد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ جو خاتون میرے بیٹے پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے اسکی اپنی شہرت سب کے سامنے ہے ،جھوٹے وقوعہ کا جو ٹائم بنایا گیا ہے اس وقت میرا بیٹا سکول میں موجود تھا جس کے ثبوت ہیں،انہوں نے کہا کہ گائوں کے سینکڑوں لوگ ہمارا کردار جانتے ہوئے ہمارے حق میں گواہی دینے کو تیار ہیں ہمیں انصاف دیا جائے۔اس حوالہ سے جب میڈیا نے پولیس سے رابطہ کیا توتھانہ للِہ کے سب انسپکٹرمحمد اکرم بولا نے بتایا کہ موضع ٹوبھہ سے بچے کے ساتھ زیادتی کے حوالہ سے مارچ کے پہلے ہفتے میں جو درخواست آئی اس پر فوری کاروائی کی مگر سول ہسپتال للِہ کی میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی ثابت نہ ہوئی اورپنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری میں بھجوائے گئے نمونوں کے نتیجہ میں بھی زیادتی ہونے کے کوئی شواہد نہیں ملے ڈاکٹر محمد علی انچارج سول ہسپتال للِہ نے بھی اپنے موقف میں بتایا کہ ہم نے میرٹ پر میڈیکل کیا لیکن کسی قسم کی بدفعلی کی رپورٹ نہیں آئی ہم سچ اور حق پر مبنی لیبارٹری رپورٹس جاری کرتے ہیں،پراپیگنڈہ کرنے والے ذاتی مفادات کی خاطر ایسا کررہے ہیں۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...