ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے‘ نئے صوبوں کیلئے قومی کمیشن بنانا ہو گا : شہبازشریف

15 اپریل 2018

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مسلم لیگ ( ن ) کے صدر اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا ہے کہ زرداری اور عمران ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں‘ ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے‘ نئے صوبوں کے قیام کیلئے قومی کمیشن بنانا ہوگا۔میں کراچی اور سندھ کے عوام کیلئے ایثار، اخوت اور محبت کا پیغام لایا ہوں۔ کراچی کے کچرے نے اس خوبصورت شہر کو کرچی کرچی کر دیا ہے۔میرا خواب ہے کہ کراچی سندھ سے کرپشن کا خاتمہ ہو اور یہ شہر اور صوبہ خوشحال اور ترقی یافتہ ہو۔ اگر یہاں پیسہ نہ کھایا جاتا تو کراچی اور سندھ کی حالت یہ نہ ہوتی۔کراچی میں بھی میٹرو بسیں چلائیں گے۔ہماری پارٹی نے عوام کی بے لوث خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کیے ہیں۔ موجودہ حکومت کے دور میں جتنے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں اس کی مثال پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔پارٹی کے رہنما اورکارکن قابل احترام اورقابل عزت ہیں۔ پارٹی کے عہدیداران اور کارکن صفوں میں اتحاد اور اتفاق برقرار رکھیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہا¶س کراچی میں مسلم لیگ(ن) سندھ وکراچی کے رہنما¶ں سے گفتگو اورمقامی ہوٹل میں پارٹی کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ملاقات میں مسلم لیگ ن کے بلدیاتی نمائندے،اقلیتی رہنما،خواتین ونگ اوریوتھ ونگ کے رہنما بھی موجود تھے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کل بھی پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت تھی، آج بھی ہے اورآئندہ بھی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے صدر کی حیثیت سے یہ میرا کراچی کا پہلا دورہ ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ محمد نوازشریف کا کوئی متبادل نہیں ہے۔محمد نوازشریف عظیم لیڈر ہیں۔ شہبازشریف نے کہا کہ محمد نوازشریف کی مقبولیت کوئی نہیں چھین سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آگے لے جانے کیلئے ہمت، حوصلے، تدبر اور فراست کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ محمد نوازشریف ہمارے کل بھی قائد تھے، قائد ہیں اور کل بھی قائد رہیں گے۔شہبازشریف نے ہدایت کی کہ پارٹی کے عہدیداران اور کارکن صفوں میں اتحاد اور اتفاق برقرار رکھیں۔ذاتی معاملات سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔انہوں نے کہاکہ سیاسی مخالفین جتنی مرضی سازشیں کرلیں، وہ آپ کے اتحاد کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔شہبازشریف نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بجلی کے 10 ہزار میگاواٹ کے منصوبوں پر کام کیا ہے۔ ہر منصوبہ شفافیت میں اپنی مثال آپ ہے۔میں کراچی اور سندھ کے عوام کیلئے ایثار، اخوت اور محبت کا پیغام لایا ہوں کراچی کے کچرے نے اس خوبصورت شہر کو کرچی کرچی کر دیا ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ روشنیوں کے اس شہر کو اس کی روشنیاں لوٹائیں گے۔اس مقصد کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ شہبازشریف نے کہا کہ امانت، دیانت اور محنت کو شعار بنا کر ہی کراچی اور سندھ کی حالت بدلی جاسکتی ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ ہم پرعزم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو سندھ اور کراچی کے حالات بدلیں گے۔شہبازشریف نے کہا کہ کراچی میں بھی میٹرو بسیں چلائیں گے۔میرا خواب ہے کہ کراچی سندھ سے کرپشن کا خاتمہ ہو اور یہ شہر اور صوبہ خوشحال اور ترقی یافتہ ہو۔شہبازشریف نے کہا کہ اگر یہاں پیسہ نہ کھایا جاتا تو کراچی اور سندھ کی حالت یہ نہ ہوتی۔محمد شہبازشریف ترقی کی علامت ہیں۔بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ صوبوں کے قیام کے حوالے سے سب سے پہلے 2012ءمیں مسلم لیگ ن نے اسمبلی میں قرار داد منظور کی تھی‘ نئے صوبوں کے قیام کے سلسلے میں قومی کمیشن بنائے جانے کی ضرورت ہے جس میں وفاق سمیت چاروں صوبوں کی نمائندگی ہو وہ فیصلہ کرے گا کہ نئے صوبے کہاں کہاں بنائے جانے چاہئیں اور پھر اسے پارلیمنٹ سے منظور کرایا جائے۔ ملک کے موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام آپس کی رنجشوں کو ختم کرکے پاکستان کے عظیم ترمفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے سب ملکر کام کریں ہم روشنیوں کے شہر کراچی کے مسائل کے حل کےلئے ایم کیو ایم سمیت تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا وقت قریب آرہا ہے لوگ آزادی کے ساتھ اپنے نمائندے منتخب کریں ہم ان کے منتخب نمائندوں کا ساتھ دیں گے ہم کراچی میں رہنے والے اردو بولنے والوں اور دیگر قومیتوں کے ساتھ ملکر اس شہر کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔ہم پانی کے مسئلے کو کراچی میں جنگی بنیادوں پر حل کریں گے اس سلسلے میں چاہے کتنے ہی ارب روپے کی ضرورت ہو ہم دیں گے اور یہ کراچی کاحق ہے کیوں کہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہے یہاں سالیڈ بیس سسٹم کو بہتر بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کے فور منصوبے کےلئے بھی تمام رقم دے دی گئی ہے لیکن پتہ نہیں یہ منصوبہ اب تک کیوں نہیں مکمل ہوا۔قبل ازیں ورکرز کنونشن سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ کراچی پاکستان کا دل ہے لیکن روشنیوں کے شہر کو کرچی کرچی کردیا گیا‘ اربوں روپے جیب میں ڈال لئے‘ نواز شریف نے کراچی کو گرین لائن کا تحفہ دیا لیکن سندھ حکومت نے فنڈز لینے کے باوجود بسیں نہیں منگوائیں کراچی میں 10 گرین لائن کی ضرورت ہے‘ کراچی کروڑوں لوگوں کو روزگار دیتاہے‘ لاڑکانہ میں اربوںروپے خرچ کئے گئے لیکن لاڑکانہ ویران ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو کراچی میں ایک مضبوط پارٹی بنانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا آج ملک میں 10 ہزار میگا واٹ بجلی آگئی ہے‘ اندھیرے جلد ختم ہوجائیں گے۔ کراچی میں 13 سو میگا واٹ بجلی کے منصوبہ پر کام ہو رہا ہے‘ نوازشریف نے کراچی سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا اور ا من قائم کیا‘ امن بحال کرنے میں جنرل راحیل شریف‘ جنرل قمر جاوید باجوہ اور رینجرز کا بھی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے کراچی اور سندھ کو ڈاکو راج سے آزاد کرایا‘ کرپشن ختم کی‘ شہباز شریف نے کہا کہ ہم کراچی کو پنجاب اور لاہور کی طرح بنائیں گے‘ آپ نے ہمیں ووٹ دیاتو کراچی کو لاہور بناﺅں گا اگر آپ نے ہمیں موقع دیاتو کراچی میں پانی کا مسئلہ حل کریں گے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ رشوت نہ ملنے کے با عث گرین لائن کے لئے بسیں نہیں آئیں‘ یہ مجرمانہ غفلت ہے آئندہ میں خود کراچی میں گرین لائن کے منصوبہ کو مکمل کروں گا اور اورنج لائن ٹرین بھی چلاﺅں گا۔ شہبازشریف نے کہا کہ الیکشن کے بعد موقع ملا تو 6 ماہ میں کراچی کو صاف اور ٹینکرز مافیا کو ختم کروں گا ایک فلائی اوور نہیں‘ کئی سو فلائی اوور بناﺅںگا۔ عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ الزام خان ہیں‘ آصف زرداری اور عمران خان ایک تھالی کے چٹے بٹے ہیں وہ ہاتھ نہ ملانے کے باوجود ایک دوسرے کو ووٹ دیتے ہیں‘ عمران خان کی حکومت نے ایک میگا واٹ بجلی پیدا نہ کی‘ عمران خان نے پشاور کو کھنڈر بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر فریال تالپور وزیراعظم اور بلاول بھٹو سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے تو ہر طرف کرپشن کا راج ہو گا۔ایڈیٹرز اور سینئر صحافیوں سے ملاقات میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کراچی سے الیکشن لڑیں گے تو انہوں نے ازراہ مذاق جواب دیا کہ اگر آپ کامیاب کرائیں گے تو الیکشن لڑ سکتا ہوں۔ ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آپ کا موقف ہے کہ اداروں کے درمیان بات چیت ہونی چاہئے تو یہ کون سے ادارے ہیں جن کے درمیان بات چیت ہونی چاہئے اور کون اس کی ابتداءکرے گا تو اس پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ تمام اداروں کے درمیان سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کی فضا ختم ہونی چاہئے اور ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کے علاوہ افہام تفہیم سے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ 70 سال سے زیادہ ہوگئے‘ اس طرح ملک ترقی نہیں کرسکا جس طرح کرنی چاہئے تھی۔ شہبازشرےف نے ہفتہ کراچی مےں مزار قائدؒپر حاضری دی،مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی، مزار قائدؒ پر مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ملک کی ترقی و خوشحالی اور استحکام کیلئے بھی دعا کی اور کہا کہ مزار قائدؒپرحاضری دےنا اوراس عظےم لےڈرکو خراج عقےدت پےش کرنا ہمارا فرض ہے اوراسی لئے مےں ےہاں حاضر ہوا ہوں۔ انہوںنے کہا کہ آئےں عہد کرےں کہ پاکستان کوقائد کے افکار اوروےژن کے مطابق فلاحی رےاست بنانے کےلئے ملکر کام کرےںگے اورملک کو عظےم سے عظےم تر بنانے کےلئے کوئی کسر اٹھا نہےں رکھےںگے۔ پاکستان ہم سب کا ہے اوروطن عزےز کی ترقی وخوشحالی کےلئے ہمےں ملکر کام کرنا ہے۔ محمد شہبازشرےف سے گورنر ہاﺅس کراچی میں وکلاءبرادری کے وفدنے ملاقات کی جس کی قےادت ےاسےن آزاد کررہے تھے ۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے وکلاءبرداری کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی اورآئےن کی بالادستی کےلئے وکلاءبرادری کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ وکلاءبرادری نے ملک مےں جمہورےت کی بحالی کےلئے عظےم تحرےک چلائی اور وکلاءبرادری کی جمہورےت کی بحالی کےلئے قربانےاں لائق تحسےن ہےں ۔ عام آدمی کو انصاف کی فراہمی مےں وکلاءبرادری کا کردارانتہائی اہمےت کا حامل ہے ۔وکلاءبرادری کوعام آدمی کو انصاف مہےا کرنے کےلئے اپنا بھر پور کردارادا کرنا ہے ۔وکلاءبرادری کی جدوجہد کو پوری قوم تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی معاشرہ عدل و انصاف کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔ انصاف نہ ہونے پر کئی معاشرے تباہ ہوئے جبکہ محنت، امانت اور انصاف کی بنیاد پر کئی قومیں آگے بڑھ گئی ہیں۔ ہم نے محنت، امانت اور انصاف کے راستے پر چلنا ہے اور یہی راستہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 برس گزر گئے، پاکستان اپنی منزل حاصل نہیں کرسکا۔آج قائدؒ اور ہمارے آباﺅ اجداد کی روحیں تڑپ رہی ہوں گی۔اس موقع پر معروف ایڈووکیٹ ناہید افضال کا ساتھیوں سمیت مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وفد کے سربراہ یاسین آزاد نے کہا کہ وکلاءبرداری آپ کے ساتھ ہے۔ ہم آپ کے ترقیاتی وژن کو تحسین کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاش سندھ میں بھی آپ جیسا وزیراعلیٰ ہوتا۔
شہباز شریف