حضرت جنید بغدادی ؒ

15 اپریل 2018

علامہ منیر احمد یوسفی
آپ کا نام نامی اِسم گرامی جنید بن محمد بن جنید ہے۔ آپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔ ’’آپ کا لقب قواریری ہے اور زجاج اور خزار کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ قواریری اورزجاج اِس اِعتبار سے کہا جاتا تھا کہ آپ کے والد ِگرامی شیشہ فروش تھے‘‘۔ (نفحات الانسان ص۰۸ فارسی)آپ کا مولددراصل نہاوند (اِیران) ہے لیکن آپ بغداد میں پیدا ہوئے۔ ’’حضرت جنید بغدادی حضرت سری سقطی کے بھانجے اور مرید ہیں‘‘۔ (کشف المحجوب ص۷۱۱‘فارسی)
’’آپ اہل ظواہر اور اَربابِ قلب میں مقبول تھے۔ علوم کے تمام فنون میں کامل اور اُصول و فروغ ومعاملات وعبادات میں مفتیء اعظم اور اِمام اصحابِ ثوری تھے۔ تمام اہلِ طریقت آپ کی اِمامت پر متفق ہیں اور کسی مدعی علم وتصوف کو آپ پر اِعتراض واِعراض نہیں ہے‘‘۔ (کشف المحجوب ص۷۱۱‘ فارسی)
’’آپ حضرت سری سقطی‘حضرت حارث محاسبی اور حضرت محمد قصاب کی صحبت سے فیض یاب ہوئے‘‘۔ یعنی اِن بزرگ ہستیوں کے شاگردوں میںسے تھے۔ (نفحات الانص ۰۸ فارسی)
’’حضرت ابو العباس عطا فرماتے ہیں حضرت جنید بغدادی علم(معرفت) میں ہمارے اِمام‘مرجع اور پیشوا ہیں‘‘۔ (نفحات الانص۰۸ فارسی)
’’اَکابرین صوفیہ حضرت خراز‘حضرت شیخ ردیم‘ حضرت شیخ نوری اور حضرت شیخ شبلی سب آپ کی طرف نسب رکھتے تھے‘‘۔ (نفحات الانص۰۸ فارسی)
آپ فرماتے ہیں‘ ایک بار میرے دِل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں ابلیس لعین کو دیکھوں ۔حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں: ’’ایک روز میں مسجد کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک بوڑھا آیا جو دُور سے میری طرف دیکھ رہا تھا جب میں نے اُس کو دیکھا تو میں نے اپنے دل میں وحشت کا اَثر محسوس کیا‘‘۔جب وہ میرے نزدیک آیا تو میں نے پوچھا ‘اے بوڑھے توکون ہے ؟کہ میری نظر اثروحشت سے تجھے دیکھنے کا تاب نہیں لاتی اور تیری نحوست کی ہیبت کو میرا دِل برداشت نہیں کرتا ۔کہنے لگا‘ ’’میں وہی ہوں جس کو دیکھنے کی تیرے دِل میں خواہش تھی‘‘۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں‘ میں نے اُس سے پوچھا: ـ’’وہ کون سی چیز تھی جس نے تجھے حضرت سیّدنا آدم کو سجدہ کرنے سے باز رکھا؟ ’’کہنے لگا اے جنید! آپ کا یہ خیال ہے کہ غیر خدا کو سجدہ کر لیتا‘‘۔حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں میں اُس کے کلام سے حیران ہوا اور اُس کا کلام مجھ پر اَثر کرنے کو تھا کہ مجھے اِلہام ہوا ۔ ’’اے جنید!اِس کو کہہ دو تو جھوٹ بولتا ہے اگر توبندہ تھا تو ربِّ ذوالجلال والاکرام کے حکم سے باہر نہ ہوتا اور اُس کی نہی سے تقرب نہ کرتا۔شیطان نے میرے دِل کی یہ آواز سن لی اور چیخ ماری اور بولا اللہ کی قسم تو نے مجھے جلا ڈالا اور نظر سے غائب ہوگیا‘‘۔ (کشف المحجوب ص۸۱۱‘فارسی)
یہ حکایت آپ کی عصمت کے تحفظ پر دلیل ہے ۔اِس لئے کہ اللہ اپنے ولی کی خود نگرانی فرماتا ہے اور ہر حالت میں مکرہائے شیطان سے محفوظ رکھتا ہے‘‘۔
ایک مرتبہ ایک مرید کے دل میں یہ اِعتقاد پیدا ہوا کہ میں کسی درجہ پر پہنچ چکا ہوں۔اُس نے حضرت جنید بغدادی سے کچھ اِعراض کیا۔ ایک دِن وہ آپ کی خدمت ِ عالیہ میں حاضر ہوا کہ تجربہ کرے اور دیکھے کہ میرا خیال آپ پر منکشف ہوا ہے یانہیں۔ حضرت جنید بغدادی نورِ فراست سے اُس کی حالت ملاحظہ فرما رہے تھے۔ اُس نے آپ سے سوال کیا تو حضرت جنید بغدادی نے فرمایا۔ جواب عبارتی خواہی یا معنوی۔ اَلفاظ اور عبارت میں جواب چاہتا ہے یا حقیقت معنی میں‘‘۔اُ س نے کہا دونوں طرح جواب اِرشاد فرما دیں۔آپ نے فرمایا: ’’عبارتی جواب تو یہ ہے اگر میرا تجربہ کرنے کی بجائے اپنا تجربہ کر لیتا تو تو میرے تجربے کا محتاج نہ ہوتا اور اِس جگہ تجربہ کی غرض سے نہ آتا اور معنوی جواب یہ ہے کہ میں نے تجھے منصبِ ولایت سے معزول کیا‘‘۔
’’مرید کا چہرہ سیاہ ہو گیا اور وہ چیخنے لگا اور پکارنے لگا کہ حضور راحت ِیقین میرے دل سے جاتی رہی ہے۔ توبہ کرنے لگا اور پہلی بکواس سے ہاتھ اُٹھایا۔ اُس وقت حضرت جنید بغدادی نے فرمایا:تو نہیں جانتا کہ اللہ کے ولی والیان اَسرار ہوتے ہیں۔ تجھ میں اُن کی ایک ضرب برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔ پھر ایک پھونک اُس پر ماری وہ پھر اپنے پہلے درجے پر متمکن ہوا۔ اُس دن سے خاصانِ بارگاہ کے معاملات میں دخل دینے سے بھی توبہ کی اور پختہ عہد کیا‘‘۔ ( کشف المحجوب ص۹۱۱‘فارسی)
ایک دن حضرت جنید بغدادی لڑکپن کے اَیّام میں بچوں سے کھیل رہے تھے کہ آپ کے ماموں حضرت سری سقطی نے فرمایا: ’’اے لڑکے! شکر کے بار ے میں تم کیا کہتے ہو؟ آ پ نے جواباً عرض کیا شکر یہ ہے کہ اُس کے گناہوں پر مدد طلب نہ کرے۔(یعنی معصیت اور گناہوں سے بچے)۔ حضرت سری سقطی فرماتے ہیں ‘میں اِس بات کو سن کر بہت ڈرنے لگا کہ تیری زبان سے جوبات نکلی ہے وہ تیرا حصّہ نہ بن جائے‘‘۔ ’’حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں‘ میں ہمیشہ اِس بات سے لرزاں ترساں رہتا تھا کہ کہیں مجھ سے معصیت سرزد نہ ہو جائے کہ ایک دِن میں حضرت سری سقطی کی خدمت پاک میں حاضر ہوا اور جو کچھ اُن کے لئے ضروری چیزیں ہو سکتی تھیں وہ لے گیا‘‘۔ حضرت سری سقطی نے مجھے فرمایا: اے جنید! تیرے لئے خوش خبری ہے کہ میں نے حق تعالیٰ سے دُعا کی تھی کہ میرے جنید کو کسی طرح فلاح یاب اور توفیق یافتہ کی معرفت میرے پاس پہنچا دے۔ (اور تم آگئے)۔ (نفحات الانس ص۰۸‘فارسی)
ایک دن حضرت جنید بغدادی وعظ فرما رہے تھے کہ ایک کافر جوان جو مسلمانوں جیسا لباس پہنے ہوئے تھا‘ مجلس میں آیا اور ایک کنارے پر کھڑا ہو گیا۔ بلند آواز سے کہنے لگا۔
’’اے شیخ رسول کریم ؐکے اِس ارشادِ مبارک کا کیا معنی ہے کہ مومن کی فراست اور دانائی سے ڈرو کہ بے شک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے؟‘‘۔ ’’حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیںکہ اُس کا یہ سوال سن کر میں نے کچھ دیر کے لئے سر جھکایا بعد ازاں میں نے سراُٹھا کر اُس سے کہا‘ اے نوجوان! اِسلام قبول کر لے تیرے اِسلام لانے کا وقت آ چکا ہے‘‘۔
حضرت امام شافعی فرماتے ہیں لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اِس واقعہ سے حضرت جنید بغدادی کی ایک کرامت کا اِظہار ہے۔ ’’اور میں کہتا ہوں اِس میں دو کرامتیں ہیں ایک تو اُس نوجوان کے کفر پر اِطلاع پانا۔دوسرے اِس بات سے آگاہ ہو جانا کہ وہ اِسی وقت اِسلام قبول کر لے گا‘‘۔ (نفحات الانس ص۱۸‘فارسی)
حضرت سری سقطی کے زمانۂ حیات میں پیر بھائیوں نے حضرت جنید بغدادی سے کہا کہ ہمیں وعظ فرمائیں تاکہ ہمارے دِل راحت وسکون پائیں۔ آپ نے صاف اِنکار کر دیا اور فرمایا: جب تک میرے شیخ حضرت سری سقطی جلوہ آرا مسندِ ظاہرہیں میں کوئی بات کہنے کا مجاز نہیں ۔ ’’ایک رات سو رہے تھے کہ نبی کریمؐکا دیدار پاک نصیب ہوا۔ دیکھا کہ رسولِ کریم ؐفرمارہے ہیں‘ جنید! لوگوں کو وعظ کیا کرو‘ اِس لئے کہ تیرے بیان سے مخلوق کے دِلوں کو راحت حاصل ہوگی اور تیرے بیان سے خداوند تعالیٰ ایک عالم کی نجات فرمائے گا‘‘۔
جب بیدار ہوئے تو دِل میں خطرہ پیدا ہوا کہ میں اپنے مرشد کے درجہ سے اِتنا بلند ہو گیا ہو ںکہ رسولِ کریمؐ نے مجھے حکم دعوت فرمایا ہے۔جب صبح ہوئی تو حضرت سری سقطی نے ایک مرید کو بھیجا کہ جب حضرت جنید بغدادی نماز سے سلام پھیریں تو اُن سے کہنا کہ ’’مریدوںکی درخواست تم نے رد کر دی اور اُنہیں کچھ نہ سنایا۔ مشائخ بغداد نے سفارش کی اُسے بھی تم نے رَد کر دیا۔ میں نے پیغام بھیجا پھر آمادۂ وعظ نہ ہوئے۔ اب جب کہ رسولِ کریمؐکا حکم مبارک تمہیں ملا ہے‘ لہٰذا اِس حکم کی تعمیل کرو‘‘۔
حضرت جنید بغدادی نے یہ حکم سنتے ہی جواب میں عرض کیا کہ حضور میرے ذہن میں اَفضلیت کا خیال سمایا تھا‘ وہ جاتا رہا ہے اور میں نے اَچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ حضرت سری سقطی میرے مرشد ِکامل‘ میرے تمام حالاتِ ظاہرو باطن سے مشرف ہیں اور آپ کا درجہ ہر حال میں میرے درجہ سے بلند ہے اور آپ یقینا میرے اسرار سے مطلع ہیں اور میں آپ کے منصب جلیل کی بلندی سے محض بے خبر ہوں اور اپنی اِس غلطی سے اِستغفار کرتا ہوں جو میں نے اِس خواب سے پہلے اپنے متعلق سوچا تھا۔
فرماتے ہیں میں حضرت سری سقطی کی بارگاہِ عالیہ میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کیا آپ کیسے جانتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریمؐکا خواب میں دیدارِ پاک کیا ہے؟ تو فرمایا میں نے خواب میں رب کا دیدارِ پاک کیا ہیںاور رب نے مجھے فرمایا کہ میں نے پیارے رسول کریم ؐ سے فرمایا کہ جنید کو فرمائیں وعظ کیا کرے تاکہ اہل بغداد کو فائدہ ہواوراُن کی مراد برآئے‘‘۔ (کشف المحجوب ص۸۱۱ ‘فارسی۔)
اِس حکایت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پیراں کامل ہر صورت میں مرید کے حالات پر واقف ہوتے ہیں ۔بچپن ہی سے آپ کو بلند مدارج حاصل ہوتے رہے۔ ایک مرتبہ مکتب سے واپسی پر دیکھا کہ آپ کے والدِ گرامی برسرراہ رورہے ہیں۔آپ نے وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میرے رونے کا سبب یہ ہے کہ آج میں نے تمہارے ماموں کو زکوٰۃ میں سے کچھ درہم بھیجے تھے لیکن اُنہوں نے لینے سے اِنکار کر دیا اور آج مجھے یہ اِحساس ہورہا ہے کہ میں نے اپنی زندگی اَیسے مال کے حصول میں صرف کر دی جس کو خدا کے دوست بھی پسند نہیں کرتے۔چنانچہ حضرت جنید بغدادی نے اپنے والدِ گرامی سے وہ درہم لے کر اپنے ماموں کے یہاں پہنچ کر آواز دی اور جب اَندر سے پوچھا گیا کہ کون ہے؟تو آپ نے عرض کیا کہ جنید۔ آپ کے لئے زکوٰۃ کی رقم لے کر آیا ہے لیکن اُنہوں نے پھر اِنکار کر دیا‘جس پر حضرت جنید بغدادی نے کہا کہ قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپ کے اُوپر فضل اور میرے والد ِ گرامی کے ساتھ عدل کیا۔ اَب آپ کو اِختیار ہے کہ یہ رقم لیں یا نہ لیں کیونکہ میرے والد ِ گرامی کے لئے جو حکم تھا کہ حقدار کو زکوٰۃ پیش کرو‘ وہ اُنہوں نے پورا کر دیا۔یہ بات سن کر حضرت سری سقطی نے دروازہ کھول کر فرمایا کہ رقم سے پہلے میں تجھے قبول کرتا ہوں۔چنانچہ اُسی دن سے آپ اُن کی خدمت میں رہنے لگے اور سات سال کی عمر میں اُنہیں کے ہمراہ مکہ معظمہ پہنچے۔ وہاں چار صوفیائے کرام میں شکر کے مسئلہ پر بحث چھڑی ہوئی تھی اور جب سب شکر کی تعریف بیان کر چکے تو آپ کے ماموں نے آپ کو شکر کی تعریف بیان کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ نے کچھ دیر سر جھکائے رکھنے کے بعد فرمایا کہ شکر کی تعریف یہ ہے کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نعمت عطا فرمائے تو اُس نعمت کی وجہ سے منعم حقیقی کی نافرمانی کبھی نہ کرے۔یہ سن کر سب لوگوں نے کہا کہ واقعی شکر اِس کا نام ہے۔ پھر آپ نے بغداد شریف واپس آکر آئینہ سازی کی دکان قائم کر لی اور ایک پر دہ ڈال کر چار سو رکعت نماز یومیہ اُسی دکان میں اَدا کرتے رہے اور کچھ عرصہ کے بعد دکان کو خیر باد کہہ کر حضرت سری سقطی کے مکان کے ایک حجرے میں گوشہ نشین ہو گئے اور تیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز اَدا کرتے رہے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ص ۶ ‘فارسی)
آپ فرمایا کرتے تھے کہ تمام مدارج صرف فاقہ کشی‘خواہشات ترک کر دینا اور شب بیداری سے حاصل ہوئے ہیں۔فرمایا کہ صوفی وہ ہے جواللہ اور رسول اللہ ؐکی اِس طرح اِطاعت کرے کہ اُس کے ایک ہاتھ میں قرآنِ مجید ہو اور دوسرے میں حدیث ِپاک ہو۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲‘ص فارسی)
ایک مرتبہ آپ آشوبِ چشم میں مبتلا ہوئے تو ایک آتش پرست طبیب نے آنکھوں پر پانی نہ لگانے کی ہدایت کی‘ لیکن آپ نے فرمایا کہ وضو کرنا تو میرے لئے ضروری ہے اور طبیب کے جانے کے بعد وضوکر کے نماز عشاء اَدا فرما کر سو گئے اور صبح کو بیدار ہوئے تو دردِ چشم ختم ہو چکا تھا اور یہ ندا آئی کہ چونکہ تم نے ہماری عبادت کی وجہ سے آنکھوں کی پرواہ نہیں کی اِس لئے ہم نے تمہاری تکلیف کوختم کر دیا اور طبیب نے جب سوال کیا کہ ایک ہی شب میں آپ کی آنکھیں کس طرح اَچھی ہو گئیں تو فرمایا کہ وضو کرنے سے یہ سن کر اُس نے کہا کہ در حقیقت میں مریض تھا اور آپ طبیب یہ کہہ کر مسلمان ہو گیا۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲‘ص ۷۱ فارسی)
کسی نے آپ سے عرض کیا کہ موجودہ دَور میں دینی بھائیوں کی قلت ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تمہارے خیال میں دینی بھائی صرف وہ ہیں جو تمہاری مشکلات کو حل کر سکیں تب تو یقیناً وہ نایاب ہیں اور اگر تم حقیقی دینی بھائیوں کا فقدان تصور کرتے ہو تو تم صحیح نہیں کہہ رہے‘ اِس لئے کہ برادرِدینی کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ جن کی دشواریوں کا حل تمہارے پاس ہو اور اُن کے تمام اُمور میں تمہاری اِعانت شامل ہو اور اَیسے برادرِدینی کافقدان نہیں ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲‘ ص ۷۱ ‘ فارسی )
کسی نے پانچ سو دینار آپ کی خدمت میں پیش کئے تو پوچھا کہ تمہارے پاس اور رقم بھی ہے اُس نے جب اَثبات میں جواب دیا تو پوچھا کہ مزید مال کی حاجت ہے؟ اُس نے کہا کہ ہاں۔ آپ نے فرمایا: اپنے پانچ سو دینار واپس لے جا کیوں کہ تو اِس کے لئے مجھ سے زیادہ حاجت مند ہے اور میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے لیکن مجھے حاجت نہیں اور تیرے پاس مزید رقم موجود ہے پھر بھی تو محتاج ہے۔
آپ فرمایا کرتے تھے کہ اِخلاص کی تعلیم میں نے حجام سے حاصل کی ہے۔ اور واقعہ اِس طرح پیش آیا کہ مکہ معظمہ میں قیام کے دوران ایک حجام کسی دولت مند کی حجامت بنا رہا تھا تو میں نے اُس سے کہا کہ اللہ کے لئے میری حجامت بنا دے۔اُس نے فوراً اُس دولت مند کی حجامت چھوڑ کر میرے بال کاٹنے شروع کر دئیے اور حجامت بنانے کے بعد ایک کاغذ کی پڑیا میرے ہاتھ میں دے دی جس میں کچھ ریزگاری لپٹی ہوئی تھی اور مجھ سے کہا کہ آپ اِس کو اپنے خرچ میں لائیں وہ پڑیالے کر میں نے نیّت کر لی کہ َاب پہلے مجھے جو کچھ دستیاب ہو گا وہ میں حجام کی نذر کروں گا۔ چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد ایک شخص نے بصرہ میں اشرفیوں سے لبریز تھیلی مجھ کو پیش کی ‘وہ لے کر جب حجام کے پاس پہنچا تو اُس نے کہا کہ میں نے تو تمہاری خدمت صرف اللہ کے لئے کی تھی اور تم مجھے تھیلی پیش کرنے آئے ہو؟کیا تمہیں اِس کا علم نہیں کہ اللہ ل کے واسطے کام کرنے والا کسی سے کوئی معاوضہ نہیں لیتا۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص۸۱ ‘ فارسی)
کسی عورت نے اپنے گم شدہ لڑکے کے مل جانے کی دُعا کے لئے آپ سے عرض کیا تو فرمایا کہ صبر سے کام لو۔یہ سن کر وہ چلی گئی اور کچھ روز صبر کرنے کے بعد پھر خدمت میں حاضر ہوئی‘لیکن پھر آپ نے صبر کی تلقین فرمائی وہ عورت واپس ہو گئی اور جب طاقتِ صبر بالکل نہ رہی تو پھر حاضر ہو کر عرض کیا کہ اب تابِ صبر بھی نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگر تیرا قول صحیح ہے تو جا تیرا بیٹا تجھے مل گیا۔چنانچہ جب وہ گھر پہنچی تو بیٹا موجود تھا۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۰۲ ‘ فارسی)
کسی مرید کے قلب میں وسوسۂ شیطانی پیدا ہو گیا کہ َاَب میں کامل بزرگ ہو گیا ہوں اور مجھے صحبتِ مرشد کی حاجت نہیں اور اِس خیال کے تحت جب وہ گوشہ نشین ہو گیا تو رات کو خوابوں میں دیکھا کرتا کہ ملائکہ اُونٹ پر سوار کر کے جنت میں سیر کرانے لے جاتے ہیں اور جب یہ بات شہرت کو پہنچ گئی تو ایک دن آپ بھی اُس کے پاس پہنچ گئے اور فرمایا کہ آج رات کو جب تم جنت میں پہنچو تو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِo پڑھنا۔چنانچہ اُس نے جب آپ کے حکم کی تعمیل کی تو دیکھا کہ شیاطین تو فرار ہو گئے اور اُن کی جگہ مُردوں کی ہڈیاں پڑی ہیں۔یہ دیکھ کر وہ تائب ہو گیا اور آپ کی صحبت اِختیار کر کے یہ طے کر لیا کہ مرید کے لئے گوشہ نشینی سم قاتل ہے‘‘۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۰۳‘ فارسی)
ایک مرید سے مؤدب ہونے کی وجہ سے آپ کو بہت اُنس تھا جس کی وجہ سے دوسرے مریدین کو رشک پیدا ہو گیا۔ چنانچہ آپ نے ہر مرید کو ایک مرغ اور ایک چاقو دے کر یہ حکم فرمایا کہ اَیسی جگہ جا کر ذبح کرو کہ کوئی دیکھ نہ سکے کچھ وقفہ کے بعد تمام مریدین تو ذبح شدہ مرغ لے کر حاضر ہو گئے لیکن وہ مرید زندہ مرغ لئے ہوئے آیا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی اَیسی جگہ نہیں ملی جہاںاللہ موجود نہیں تھا۔یہ کیفیت دیکھ کر تمام مریدین اپنے رشک سے تائب ہوگئے۔ (۰۲؎ تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۵۳‘ فارسی)
فرمایا کہ خطرے کی چار قسمیں ہیں۔ اوّل خطرئہ حق جس سے معرفت حاصل ہوتی ہے۔دوم خطرئہ ملائکہ جس سے عبادت کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔سوم خطرئہ نفس جس سے دُنیا میں مبتلا ہو جاتا ہے اورچہارم خطرئہ ابلیس جس سے بغض وعناد جنم لیتے ہیں۔فرمایا کہ چار ہزار خدا رسیدہ بزرگوں کا یہ قول ہے کہ عبادتِ اِلٰہی اِس طرح کرنی چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کا خیال تک نہ آئے۔ فرمایا کہ تصوف کا ماخذا صطفا ہے اِس لئے برگزیدہ ہستی ہی کو صوفی کہا جاتا ہے اور صوفی وہ ہے جو حضرت ابراہیم سے خلیل ہونے کا درس لے‘حضرت اسماعیل سے تسلیم کا درس لے‘ حضرت داؤد سے غم کا درس لے‘حضرت ایوب سے صبر کا درس لے ‘ حضرت موسیٰ سے شوق کا درس لے اور حضور اکرمؐ سے اِخلاص کا درس حاصل کرے۔فرمایا کہ اللہ کے علاوہ ہر شے کو چھوڑ کر خودکو فنا کر لینے کا نام تصوف ہے اور آپ کے ایک اِرادت مندکا قول یہ ہے کہ صوفی اُس کو کہتے ہیں جو اپنے تمام اَوصاف کو ختم کر کے اللہ کو پالے۔فرمایا کہ عارف سے تمام حجابات ختم کر دئیے جاتے ہیں اور عارف رموزِخداوندی سے آگاہ ہوتا ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۷۳ ‘فارسی)
فرمایا کہ اِخلاص کی تعریف یہ ہے کہ اپنے بہترین اَعمال کو قابلِ قبول تصور نہ کرتے ہوئے نفس کو فنا کر ڈالے اور شفقت کا مفہوم یہ ہے کہ اپنی پسندیدہ شے دوسرے کے حوالے کر کے اِحسان نہ جتائے۔فرمایا کہ جو درویش اللہ کی رضا پر راضی رہے‘ وہ سب سے برتر ہے۔ اور اَیسے لوگوں کی صحبت اِختیارکرنی چاہئے جو اِحسان کر کے بھول جاتے ہیں اور تمام لغزشوں کو نظر اَنداز کرتے رہیں۔فرمایا کہ بندہ وہی ہے جو اللہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کرے۔پھر فرمایا کہ مرید وہ ہے جو اپنے علم کا نگران رہے اور مراد وہ ہے جس کو اِعانتِ اِلٰہی حاصل ہو کیونکہ مرید تو دوڑنے والا ہوتا ہے اور دوڑنے والا کبھی اُڑنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔فرمایا کہ ترکِ دُنیا سے عقبیٰ مل جاتی ہے۔پھر فرمایا کہ تواضع نام ہے سرجھکا کر رکھنے اور زمین پرسونے کا۔فرمایا کہ حجابات کی چھ قسمیں ہیں۔تین عام بندوں کے لئے اوّل نفس‘دوم مخلوق اورسوم دُنیا اور تین خاص بندوں کے لئے اوّل عبادت‘دوم اجر اورسوم کرامات پر اِظہار۔ فرمایا کہ حلال سے حرام کی جانب متوجہ ہونا اہل دُنیا کی لغزش ہے اور فناء سے بقا ء کی طرف رجوع کرنا زہاد کی لغزش ہے۔فرمایا کہ قلبِ مومن دن میں ستر مرتبہ گردش کرتا ہے لیکن قلبِ کافر ستر برس میں ایک مرتبہ بھی گردش نہیں کرتا۔ آپ اپنی مناجات اِس طرح شروع کرتے کہ اے اللہ! روزِ محشر مجھے اَندھا کر کے اُٹھانا اِس لئے کہ جس کو تیرا دیدار نصیب نہ ہو اُس کا نابینا رہنا اِس لئے اَولیٰ ہے کہ وہ کسی دوسری شے کو بھی نہ دیکھ سکے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص۴۳‘فارسی)
دَمِ مرگ میں آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ مجھ کو وضو کروا دو۔چنانچہ دَورانِ وضو اُنگلیوں میں خلال کرنا بھول گئے تو آپ کی یاددہانی پر خلال کر دیا گیا۔اِس کے بعد آپ نے سجدے میں گر کر گریہ وزاری شروع کر دی اور جب لوگوں نے سوال کیا کہ آپ اِس قدر عابد ہو کر کیوںروتے ہیں؟فرمایا کہ اِس وقت سے زیادہ میں کبھی محتاج نہیں۔پھر تلاوتِ قرآنِ مجید میں مشغول ہو کر فرمایا کہ اِس وقت قرآنِ مجید سے زیادہ میرا کوئی مونس وہمدم نہیں اور اِس وقت میں اپنی عمر بھر کی عبادت کو اِس طرح ہوا میں معلق دیکھ رہا ہوں کہ جس کو تیزوتندہوا کے جھونکے ہلارہے ہیں اور مجھے یہ علم نہیں کہ یہ ہوافراق کی ہے یا وصال کی اور دوسری طرف فرشتہ ٔ اَجل اور پل صراط ہے اور میں عادل قاضی پر نظریں لگائے ہوئے اُس کا منتظرہوں کہ نہ جانے مجھ کو کدھر جانے کا حکم دیا جائے۔اِسی طرح آپ نے سورۃالبقرہ کی ستر آیاتِ مبارکہ تلاوت فرمائیں اور عالم سکرات میں جب لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ اللہ کیجئے تو فرمایا کہ میں اِس کی طرف سے غافل نہیں ہوں۔ پھر اُنگلیوں پر وظیفہ خوانی شروع کردی اور جب داہنے ہاتھ کی اُنگشت ِشہادت پر پہنچے تو اُنگلی اُوپر اُٹھا کر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑی اور آنکھیں بند کرتے ہی روحِ قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص۵۳‘ فارسی)
کسی بزرگ نے خواب میں آپ سے پوچھا کہ منکر نکیر کو آپ نے کیا جواب دیا؟ فرمایا کہ جب اُنہوں نے پوچھا کہ مَنْ رَبُّکَ تو میں نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں ازل ہی میں اَلْسَتُ بِرَبِّکّمْ کا جواب بلیٰ کہہ کر دے چکا ہوں۔اِس کے لئے غلاموں کا جواب دینا کیا دشوار ہے۔ چنانچہ نکیرین جواب سن کر یہ کہتے ہوئے چل دئیے کہ اَبھی تک اِس پر خمارِ محبت کا اَثر موجود ہے۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۶۳‘ فارسی)
کسی بزرگ نے خواب میں آپ سے پوچھا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کیسا معاملہ کیا؟فرمایا کہ محض اپنے کرم سے بخش دیا اور اُن دو رکعت نماز کے علاوہ جو میں رات کو پڑھا کرتا تھا اور کوئی عبادت کام نہ آسکی‘آپ کے مزار مبارک پر حضرت شیخ شبلی سے کوئی مسئلہ دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ خدا رسیدہ لوگوں کی حیات وممات دونوں مساوی ہوتی ہیں۔اِس لئے اِس مزار پر کسی مسئلہ کا جواب دینے میں ندامت محسوس کرتا ہوں کیونکہ مرنے کے بعد بھی آپ سے اُتنی حیاء رکھتا ہوں جتنی حیات میں تھی۔ (تذکرۃ الاولیاء جلد۲ ‘ص ۶۳‘ فارسی)تاریخ وصال: ۶۸۲ھ ؁ اور بعض اصحاب کا قول ہے کہ ۵۸۲ ھ؁ میں وفات فرمائی۔ (نفحات الانس ص ۰۸)