شیخ الحدیث علامہ الیاس ہزاروی

15 اپریل 2018

ڈاکٹر مفتی محمد یونس رضوی
برصغیر میں لوگوں کی اصلاح میں علماء اور صوفیاء کا بہت بڑا کردار ہے،صرف حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نوے لاکھ لوگوں کوراہ ِراست پرلے آئے۔ پنجاب کے بہت بڑے ضلع فیصل آباد کے جھنگ بازار میں ایک جاٹ خاندان کے عظیم چشم و چراغ جو تمام عقلی و نقلی علوم سے معمور اور خلوص و فا کا پیکر نظر آتے ہیں،یہ محدث اعظم پاکستان جامع معقول و منقول حضرت علامہ ابو الفضل محمد سردار احمدہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے علم اور عمل کی دولت سے نوازا ہے۔ فیصل آباد جھنگ بازار میں بیٹھ کر چند سالوں میں اتنی شخصیات کو علم و عرفان کی راہ دکھائی جو ملک کے کونے کونے میں اپنے مرشد کا نام روشن کر رہی ہیں ۔ حضور محدث اعظم نے صرف علوم و فنون تقسیم نہیں کئے بلکہ ان کی بار گاہ سے فارغ ہو کر جانے والا ہر کوئی ایک عظیم رہنما بنا جہاں جہاں ان کے شاگردوں اور خلفاء نے قیام کیا وہاں دین کے مراکز قائم ہوئے۔ اللہ کرے وہ خلوص آج بھی ہمارے تمام علماء کو نصیب ہو جائے اسی بار گاہ سے فیض یاب ہونے والی شخصیات میں شیخ الحدیث پیر طریقت علامہ محمد الیاس ہزاروی بھی ہیں، شیخ الحدیث علامہ محمد الیاس ہزاروی کا تعلق ضلع مانسہرہ سے تھا لیکن اپنے استاد محترم کے حکم پر آپ نے کام کرنے کیلئے جڑانوالہ ضلع فیصل آباد کا انتخاب کیا۔
شیخ الحدیث و شیخ القرآن علامہ ابو المصباح محمد الیاس ہزاروی1937ء کے گائوں گلی باغ میں درویش صفت انسان علامہ محمدیوسف کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے علاقہ کے سکول سے حاصل کی اور دینی تعلیم کا کافی حصہ اپنے والد گرامی سے پڑھنے کا موقع ملا۔ آپ کے دادا جان مولانا عبدالصمد قاضی کے عہدہ پر فائز تھے وہ حضرت خواجہ قاسم کے خلیفہ مجاز تھے قبلہ شیخ الحدیث کے والد علامہ محمد یوسف صاحب نے قصبہ گلی باغ کی مسجد میں اپنی عمر کا کافی حصہ امامت و خطابت کی۔
حضرت الیاس ہزاروی نے راولپنڈی اور ہری پور کے مدارس میں درس نظامی کی مکمل تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ادب ، فلسفہ اور منطق کے علوم علامہ قاضی عبدالسبحان خلا پٹی سے حاصل کئے۔ دورہ حدیث کے لئے وہ محدث اعظم پاکستان علامہ محمد سردار احمد کے پاس فیصل آباد پڑھنے حاضر ہوئے یہاں سے ان کو علم کے ساتھ ساتھ زیادہ تربیت اور روحانی فیض حاصل کرنے کا بھی موقع ملا۔ گویا فیصل آباد سے تعلیم پانے کے بعد انہوںنے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ فیصل آباد سے آپ کو جڑانوالہ میں تعلیم و تربیت دینے کیلئے بھیجا گیا۔
انہوںنے جڑانوالہ میں خطابت، تدریس اور تربیتی نشستوں کے ذریعے بے راہ روی کے شکار لوگوں کی اصلاح کیلئے بہت بڑا فریضہ سرانجام دیا۔ اس علاقہ میں درجنوں مدارس قائم فرمائے خصوصاً بچیوں کی تعلیم و تربیت کیلئے جامع تعلیم القرآن، جامعہ قادریہ ہائر سیکنڈری سکول جہاں سینکڑوں طالبات علمی پیاس بجھا رہی ہیں اس ادارہ سے فارغ التحصیل ہونے والی طالبات ملک کے مختلف نجی اور سرکاری اداروں میں بطور معلمات تدریسی فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ اسی طرح طلباء کیلئے بھی درجنوں مدارس قائم فرمائے بالخصوص جامعہ غوثیہ مصباح العلوم، جامعہ رضویہ تعلیم القرآن بلال مسجد جہاں پر سینکڑوں طلباء مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم ہیں۔ الحمدللہ یہ ادارے علمی میدان میں بہترین خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اب آپ کے نام سے منسوب ادارہ جامعہ الیاسیہ رضویہ(اسلامک یونیورسٹی) فیصل آباد روڈ پر جڑانوالہ میں وجود میں آ چکا ہے جہاں پر درج ذیل شعبہ جات میں داخلے جاری ہیں۔
-1تحفیظ القرآن،-2درس نظامی برابر( ایم اے عربی و اسلامیات) (3) سکول حصہ چھٹی تا میٹرک (4)کمپیوٹر کورس اگر آپ کی زندگی کے شب و روز کو بنظر غائر دیکھا جائے تو آپ کی زندگی کا اکثر حصہ خدمت دین اور تعلیم و تربیت دینے میں مصروف نظر آئے گا۔
تقریباً آدھی صدی 50سالہ دور آپ نے جڑانوالہ میں مخلوق خدا کی خدمت کرتے ہوئے درس و تدریس اور فلاحی کاموں میں بسر کیا۔حسن اخلاق، بھائی چارہ رواداری جیسی صفات آپ کی عملی زندگی میں ہمیشہ عیاں رہیں۔ آپ سے جہاںعلماء نے فائدہ اٹھایا وہاں سینکڑوں علماء آپ کی بار گاہ سے فیض یاب ہو کر ملک و ملت کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ بہت سے عام لوگ جو بے راہ روی کا شکار تھے آپ کی تعلیم و تربیت سے راہ راست پر آئے اور کامیاب زندگی گزارنے والے بن گئے۔
آپ کے شاگرد اور مریدین کی تعداد تو احاطہ میں نہیں لائی جا سکتی ان میں سے صرف آپ کے ،خلفاء کا مختصر تعارف پیش خدمت ہے جن کو آپ نے اپنی نیابت و خلافت عطاء فرمائی وہ چار لوگ یہ ہیں۔
-1استاد الحفاظ مولانا حافظ و قاری حبیب اللہ۔
-2مولانا سید منیر حسین شاہ صاحب جو کہ وصال فرما چکے ہیں۔
-3آپ کے نائبین میں ایک قاری رحمت علی شاکر ہیں۔
-4اور دوسرے ڈاکٹر مفتی محمد یونس رضوی ہیں جو کہ احسن انداز میں آپ کے مشن کو لیکر چل رہے ہیں قبلہ شیخ الحدیث نے شب و روز محنت کرتے ہوئے مصروف ترین زندگی بسر کی 6سال تک بطور چیئرمین عشر و زکوٰۃ کمیٹی تحصیل جڑانوالہ آپ نے کام کیا۔
تقریباً 70برس کی مصروف ترین زندگی بسر کرکے آپ نے 24اپریل 2017ء کو رحلت فرمائی آپ نے اپنے پیچھے دو صاحبزادے جناب کرنل ریاض احمد اور صاحبزادہ فیاض احمد ہزاروی کے علاوہ تین صاحبزادیاں اور بیوہ چھوڑی۔