سیدی محدث اعظمؒ پاکستان

15 اپریل 2018

قاضی محمد فضل رسول رضوی
محدث اعظم پاکستان حضرت مولانا ابوالفضل محمد سردار احمد ایسے عہد آفرین بزرگ اور عالم تھے کہ علم ان پر نازاں تھا۔ وہ ایسے مدرس تھے کہ فن تدریس کو ان پر فخر تھا۔ وہ فن خطابت کے بادشاہ اور نکتہ آفرین محقق تھے۔ وہ حلقہ یاراں میں تو برگِ گل سے زیادہ نرم‘ لیکن جب عقائد حقہ کا معاملہ ہوتا تو وہ تیغ براں کی مانند تھے۔ ان کا خلوص ان کے چہرے سے ظاہر اور عشق رسولؐ کی لطافتیں ان کے بشرہ سے واضح تھیں۔ ان کی زبان سے قال اللہ و قال الرسول کا مقدس نغمہ جاری رہتا۔ وہ عقیدگی کی ظلمت اور افتراق و انتشار کی گھٹاٹوپ اندھیروں میں مینارہ نور تھے۔ اہل علم نے ان کو صدر مجلس مانا۔ اہلسنت نے ان کو اپنا سپہ سالار اور امام جانا‘ دشمن نے اپنی راہ میں سنگ گراں پایا۔
حضرت محدث اعظم مولانا محمد سردار احمدد قدس 1904ء میں پیر کے روز گورداسپور تحصیل بٹالہ قصبہ دیال گڑھ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد ماجد کا اسم گرامی چودھری میراں بخش تھا جو اپنے علاقے کے ممتاز زمیندار اور خدا ترس بزرگ تھے۔
ابتدائی تعلیم آبائی گائوں سے حاصل کرنے کے بعد دیال سنگھ کالج لاہور میں زیرتعلیم تھے کہ حضرت حجتہ الاسلام مولانا شاہ محمد حامد رضا خان بریلوی کی زیارت حزب الاحناف کے سالانہ جلسہ میں ہو گئی۔ ان کی شخصیت سے متاثر ہوکر ان کے ساتھ بریلی شریف جانے کی درخواست کی۔ حضرت حجتہ الاسلام نے اپنی نظر ولایت سے مستقبل میں ہونے والے محدث اعظم کو پہچان لیا اور اپنے ہمراہ بریلی شریف لے گئے۔
جامعہ مضویہ مظہر الاسلام بریلی میں آپ نے ابتدائی کتب مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفی رضا خان بریلوی سے پڑھیں۔ منیتہ المصلی اور قدوری تک کتابیں حضرت حجتہ الاسلام نے خود پڑھائیں۔ پھر آپ جامعہ معینیہ عثمانیہ اجمیر شریف میں حضرت صدرالریعتہ مولانا مفتی محمد امجد علی (مصنف بہار شریف) کی خدمت میں حاضر ہوئے جہاں آپ کی قسمت کا ستارہ چمکا تو بقول مفتی اعظم ہند پھر تو بحرالعلوم کے پاس گئے اور خود بھی بحرالعلوم ہو گئے۔‘‘
آٹھ سال بعد آپ اجمیر شریف سے بریلی شریف واپس تشریف لائے۔ یہاں آپ جامعہ رضویہ منظرالاسلام بریلی میں پانچ سال تک علوم و فنون کے موتی لٹاتے رہے اور پھر گیارہ سال تک جامعہ رضویہ مظہرالاسلام بریلی میںشیخ الحدیث کے منصب پر مامور ہوئے اور تا قیام پاکستان وہیں رہے۔ اسی دوران آپ نے 1942ء کی مشہور آل انڈیا سنی کانفرنس کیااجلاس منعقدہ بنارس میں شرکت فرما کر مطالبہ پاکستان کی حمایت کا اعلان فرمایا۔ آپ نے شریعت مطہرہ پر گامزن ہونے کیساتھ ساتھ تصوف سلوک کی منازل بھی طے فرمائیں۔ آپ کو تاج الکاملین‘ سراج السالکین حضرت شاہ سراج الحق چشتی صابری قدس سرہ اور سلسلہ قادریہ میں حجتہ الاسلام مولانا شاہ حامد رضا ان مفتی اعظم ہند مولانا شاہ مصطفی رضا خان بریلوی سے سند خلافت حاصل ہے۔سند حدیث میں آپ کا سلسلہ بواسطہ مفتی اعظم ہند شاہ مصطفی رضا خان مولانا عبدالعلی لکھنوی شاہ عبدالعزیز محدیث دہلوی اور شیخ المحققین شاہ عبدالحق مدیث دہلوی تک پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ حرمین شریفین کے متعدد علماء کرام و مشائخ عظام سے سند حاصل کی تھی۔
تقسیم برصغیر کے فوراً بعد آپ لاہور تشریف لائے۔ چند روز بعد آپ شیخ القرآن علامہ عبدالغفور ہزاروی کے پاس وزیرآباد چلے گئے۔ بعد میں ساروکی تشریف لے گئے۔لیکن فیصل آباد کی قسمت جاگی اور مفتی اعظم ہند کے ایماء پر یہ سعادت فیصل آباد کے حصہ میں آئی۔ حضرت محدث اعظم نے میونسپل کمیٹی کی اجازت سے 12 ربیع الاول 1369ھ کو مرکزی سنی رضوی جامع مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جوکہ دل اہلسنت کا ایک عظیم مرکز ہے اور ساتھ ہی آپ نے مرکزی دارالعلوم جامعہ رضویہ مظہرالاسلام کا سنگ بنیاد رکھا۔ مخالفوں نے بہت شور مچایا اور انگریز ڈپٹی کمشنر کو موقع دیکھنے اور رکاوٹ ڈالنے کیلئے اکسایا گیا۔لیکن اس نے آپ کے طرز تدریس کو دیکھ کر کہا۔ مجھے اس بزرگ کا کام بہت پسند آیا۔ وہ جو چاہتے ہیں کرتے رہیں انہوںنے پہلا فریضہ حج 1945ء میں مفتی اعظم ہند شاہ مصطفیٰ رضا خان کے ساتھ ادا کیا۔ دوسری دفعہ 1956ء میں زیارت حرمین طیبین کیلئے تشریف لے گئے اور اس دفعہ مخالفین نے اپنی روایتی کم ظرفی کا زبردست مظاہرہ کیا اور جب آپ مکہ مکرمہ پہنچے تو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت آپ پر الزامات لگائے گئے اور آپ کو عدالت عالیہ میں طلب کیا گیا۔ جب آپ وہاں تشریف لے گئے تو قاضی القضاۃ اور تمام ارکان عدالت نے آپ کا کھڑے ہوکر استقبال کیا اور الزامات کے استفسار پر آپ نے اپنے خیالات مقدسہ اور مسلک حقہ کی تائید میں دلائل پیش کئے جس پر قاضی القضاۃ کی تشفی ہو گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت محدیث اعظم پاکستان کو سرکار دوعالم سے جو محبت اور عقیدت تھی وہ اتنی واضح اور صاف حقیقت ہے کہ جس کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔ محبت کی نشانیوں میں ایک محبت کی نشانی محبوب کے ذکر کی کثرت ہے اور جب ہم حضرت موصوف کی زندگی مبارک کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کی زندگی کے ایک ایک لمحہ میں حضور اکرمؐ کی محبت کی خوشبو رچی بسی نظر آتی ہے۔ آپ نے محبوب کا ذکر اور ثناء خوانی ہر وقت اور ہر لمحہ بلکہ ذکر رسولؐ ان کا روحانی خدا تھا۔ یہ منبر و محراب اور جلسہ و جلوس تک محدود نہیں تھا بلکہ سفر و حضر‘ اندرون خانہ بیرون خانہ جلوت و خلوت ہر جگہ زبان پر نعت مصطفیؐ جاری رہتی تھی۔ بیمار ہو جاتے یا مسلسل تقاریر اور سفر سے تھکاوٹ ہو جاتی تو علاج کیلئے ذکر حبیب کا نسخہ استعمال کرتے۔آپ کی تقریر اول تا آخر عشق رسولؐ میں ڈوبی ہوتی تھی۔ جب درس حدیث کے شروع میں امام بوصیری کے ان اشعار؎
مولای صلی وسلم دائماً ابداً
علی حبیبک خیرِلخق کھلم
کو پڑھتے تو آپ پر عجیب جذب و کیفیت کا عالم طاری ہو جاتا۔ آنکھیں محبت و عقیدت کے موتی لٹاتیں اور آپ کی ریش مبارک آنسوئوں سے تر ہو جاتی۔ آپ کے عشق رسولؐ کا یہ عالم تھا کہ جب قبر میں حضور اکرمؐ کی تشریف آوری کا ذکر ہوتا تو فرمایا کرتے کہ دل چاہتا ہے کہ ابھی موت آجائے اور میں حضور اکرمؐ کے سامنے دست بستہ مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام پڑھوں اور ان کے پائے اقدس کو بوسہ دوں۔آپ کا عشق رسول اس قدر مسلمہ ہے کہ جب حدیث مبارک پڑھاتے وقت حضور کے تبسم فرمانے کا ذکر آتا تو خود بھی تبسم فرماتے۔ اور جب حضور کے رونے کا ذکر ہوتا تو ان کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہو جایا کرتے تھے۔
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مسلسل درس و تدریس اور کام نے آپ کی صحت پر بہت زیادہ اثر کیا جب علالت نے طول پکڑا تو آپ بغرض علاج کراچی تشریف لے گئے اور پھر یکم شعبان 1328ھ 28 دسمبر 1962ء کو شب ایک بجکر چالیس منٹ پر ساحل بحر عرب و کراچی میں یہ آفتاب علم و عمل غروب ہو گیا۔کراچی میں نمازجنازہ شیخ الحدیث علامہ عبدالمصطفیٰ الازہری نے پڑھائی۔ اس کے بعد جسدِ اقدس کو بذریعہ ٹرین فیصل آباد لایا گیا۔ حضرت محدث اعظم پاکستان نے اپنی زندگی میں ہی اپنے بڑے صاحبزادے جگر گوشہ محدث اعظم پاکستان قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی کو اپنی جانشینی کی خلافت و اجازت عطا فرما دی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کے وصال کے بعد صاحبزادہ قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی نے احسن انداز میں اپنی ذمہ داراں نبھائیں۔ تحریک نظام مصطفیؐ ہو یا تحریک ختم نبوتؐ، ہر میدان میں آپ نے مجاہدانہ کردار ادا کیا۔
تحریک ختم نبوتؐ میں حکومت کی طرف سے ہونے والے ہر ظلم کو برداشت کیا‘ لیکن قادیانیوں کو اقلیت قرار دلائے بغیر آپ پیچھے نہیں ہٹے۔ حضرت محدث اعظم پاکستان کا علمی فیض لوگوں تک پہنچانے کیلئے آپ نے اپنے والد کا مشن جاری رکھا۔ چند سال فیصل آباد میں ہی جس ادارے میں حضور محدث اعظم پڑھاتے تھے۔ آپ نے اس کی سرپرستی فرمائی۔ اس کے بعد آپ نے چنیوٹ کے قریب جامعہ محدث اعظم کے نام سے تقریباً 23 ایکڑ پر مشتمل ایک ادارہ تعمیر فرمایا۔جہاں پرآج سینکڑوں طلباء زیرتعلیم ہیں۔ اس ادارہ میں مکمل درسِ نظامی‘ کمپیوٹر کورسز ہر طرح کے جدید و قدیم علوم دیئے جا رہے ہیں۔پیر طریقت قاضی محمد فضل رسول حیدرکے علیل ہونے کی وجہ سے آجکل اس ادارے کا انتظام و انصرام آپ کے صاحبزادے قاضی محمد فیض رسول رضوی متولی آستانہ عالیہ محدث اعظم پاکستان دیکھ رہے ہیں۔صاحبزادہ کی شب و روز کی محنت اور کوشش سے یہ ادارہ جامعہ محدث اعظم اسلامک یونیورسٹی چنیوٹ بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔حضرت محدث اعظم سے ہزاروں علمائے کرام نے فیض حاصل کیا۔ ان علماء میں مایہ ناز مبلغ‘ درس‘ محدث مفتی‘ اہل قلم اور محقق حضرات شامل ہیں۔ ان کے خلفاء اور شاگرد پوری دنیا میں دین کی خدمت میں مصروف عمل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے ہر کونے میں آپ کو محدث اعظم پاکستان کا علمی فیض آپ کے شاگرد یا شاگردوں کے شاگردوں کی صورت میں نظر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کا علمی اور روحانی فیض تاقیامت جاری رکھے۔ حضرت محدث اعظم مولانا سردار احمد صاحب ایک صوفی باصفا پیر طریقت‘ عالم باعمل اور مجاہد ملت تھے۔ وہ حقائق و معارف کا منبع اور علم و فن کا پیکر اکمل تھے۔ پاکستان کے منصۂ شہود پرآنے کے بعد انہوں نے فیصل آباد کے خارزاروں میں اعلائے کلمتہ الحق کیلئے زندگی وقف کر دی۔ اس عظیم شخصیت نے چودہ سال کے قریب سرزمین پاک پر اپنی زبان فیض ترجمان کے ذریعہ دین حق کی تبلیغ کی۔ اپنے اعمال کے ذریعے اچھائی کی ترغیب دلائی۔ اسی جدوجہد میں اپنی زندگی قربان کر دی۔ آج حسین و جمیل عمارت رکھنے والی سنی رضوی جامع مسجد کے پہلو میں وہ مرد قلندر اپنے عقیدت مندوں سے یہ توقع لئے ہوئے محو خواب ہے کہ وہ ان کے تبلیغی مشن کی تکمیل کریں گے اور ان کے مسلک پرآنچ نہ آنے دیں گے۔