سمگلنگ روکنے کی کوشش کسٹمز انٹیلی جنس ملتان کے ڈائریکٹر صرف 19 روز میں تبدیل

15 اپریل 2018

لاہور (سید شعیب الدین سے) کسٹمز انٹیلی جنس ملتان کے ڈائریکٹر عدنان اکرم کو سمگلنگ روکنے کی کوشش پر صرف 19 روز میں تبدیل کرکے ان 15 افراد کو ’’بچا لیا‘‘ گیا جن کو عدنان اکرم نے تبدیل کرنے کی ’’غلطی‘‘ کی تھی ذرائع کے مطابق عدنان اکرم کو 16 مارچ کو ایف بی آر نے ڈائریکٹوریٹ آف پوسٹ کلیرنس آڈٹ سے تبدیل کرکے ڈائریکٹر کسٹم انٹیلی جنس ملتان تعینات کیا گیا عدنان اکرم نے چارج سنبھالنے کے بعد ’’حالات‘‘ دیکھے تو سمگلروں کا ساتھ دینے والے اپنے 15 ماتحتوں کے باہمی تبادلے کے احکامات جاری کر دیئے۔ تبادلہ کئے جانیوالوں میں سپرنٹنڈنٹ طاہر اقبال کو فیصل آباد کسٹم انٹیلی جنس سے ریجنل آفس ملتان اور سینئر انویسٹی گیشن آفیسر ناصر سعید ملک کو ریجنل آفس ملتان سے رینج آفیسر فیصل آباد تبدیل کر دیا جبکہ دیگر 13 اہلکاروں محمد انور، ظفر اقبال خاں، اراشد علی، سعد اقبال، عنصر سلیمی، محسن رضا شاہ، سکندر علی، اقبال حوالدار، امتیاز خان حوالدار، نوید اختر سپاہی، حافظ محمد عثمان سپاہی، شاہد مختار علوی سپاہی اور غلام محمد نیازی سپاہی کو ادھر ادھر کر دیا گیا طاقتور اہلکاروں نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا سپرنٹنڈنٹ طاہر اقبال اور سینئر انویسٹی گیشن آفیسر ناصر سعید ملک کو دو الگ الگ چھٹیاں جاری کیں اور ان کی ناقص کارکردگی کا جواب بھی طلب کر لیا طاقتور اہلکار اپنے ڈائریکٹر کے احکامات پر عملدرآمد کرنے کی بجائے اسلام آباد پہنچے اور پھر ان ’’طاقتوروں‘‘ کے سرپرستوں نے عدنان اکرم کے تبادلے کے احکامات جاری کر دیئے 4 اپریل کو عدنان اکرم کو سمگلنگ روکنے کی ’’غلطی‘‘ کی سزا میں ڈائریکٹر کسٹم انٹیلی جنس سے تبدیل کرکے ڈائریکٹر ٹریننگ اینڈ ریسرچ (کسٹم) لاہور تعینات کر دیا گیا۔