پارلیمنٹ کی بالادستی کا مسئلہ

15 اپریل 2018

مکرمی: پاکستان میں رائج پارلیمانی نظام جمہوریت میں گزشتہ چار پانچ سال میں پارلیمنٹ کی بالادستی پر جس خشوع وخضوع سے باتیں کی گئی ہیں پاکستان کے قیام سے آج تک شاید ہی اس کی کہیں نظیر ملے۔علم سیاسیات کی روسے کسی بھی جمہوری ملک کے نظم و نسق کے حوالے سے جو ادارے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں ان میں انتظامیہ ،مقننہ اور عدالیہ شامل ہیں۔تینوں اداروں کے اپنے اپنے دائرہ ہائے کار ہیں کوئی ادارہ برتر ہے نہ کم تر۔ہر ادارے کی پانی ذمے داریاں ہیں جنہیں وہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے سرانجام دینے کا مجاز ہے لیکن عجیب بات ہے کہ سوشل میڈیا پر آئے روز کسی نہ کسی انداز میں یہ بحث ہوتی دکھائی دیتی ہے کہ فلاں ادارے کو فلاں ادارے پر فوقیت حاصل ہے حالانکہ آئین کے مندرجات میں کہیں بھی ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔جو لوگ پارلیمنٹ کی بالادستی کے علمبردار ہیں درحقیقت ان کا اشارہ مقننہ کی جانب ہوتا ہے جسے قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے اور جب کوئی قانون بن جاتا ہے تو اس کی تشریح کا اختیار عدلیہ کے پاس آجات ہے۔انتطامیہ کا کام اس قانون کو نافذ کرنا ہوتا ہے یہ وہ بنیادی باتین ہیں جو عموماً دوران بحث ہمارے دانشوروں کے ذہن سے نکل جاتی ہیں اور وہ من چاہے انداز میں کسی ادارے کو برتر اور کسی کو کمتر قرار دینے کی تاویلیں پیش کرتے رہتے ہیں۔یوں ان کی روٹی روزی کا نام بھی رواں دواں رہتا ہے۔متذکرہ تینوں ادارے اپنا الگ الگ تنظیمی ڈھانچہ رکھتے ہیں اور اس ڈھانچے میں شامل کلیدی عہدوں پر چناؤں پہلے سے طے شدہ طریق کار کے مطابق عمل میں آتا ہے۔میرٹ اور شفافیت اس چناؤ کے اہم عناصر ہیں جہاں بھی ان میں سے کسی عنصر سے انحراف ہوگا اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ بددیانتی کا رتکاب کیا گیا ہے جب اس طرح کی بددیانتی میڈیا کی نظر میں آجائے تو اناً فاناً سار کچا چٹھہ کھل کر سامنے آجاتا ہے اور احتسابی قوتیں ایسی بددیانتی کے مرتکب لوگوں کو قانونی گرفت میں لانے کے لئے سرگرم ہوجاتی ہیں۔احتسابی ادارے متذکرہ آئینی اداروں کے فرائض منصبی کے حوالے سے بھی کی گئی کسی بددیانتی یا بدنظمی پر حرکت میں آنے کے مجاز ہیں۔جب ایسی کوئی صورت حال سامنے آتی ہے تو بددیانتی یا بدنظمی کے ذمت داران کے بچاؤ کی بظاہر کوئی صورت نہیں بچتی لیکن فطرتاً چونکہ اپنی غلطی کو کوئی غلطی تسلیم نہیں کرتا (چاہے چھوٹی ہو یا بڑی)اس لئے عموماً غلطی کرنے والا اپنی غلطی ماننے کی بجائے اس کے دفاع کی تدبیریں کرنے لگ جاتا ہے۔ہمارے سامنے اس طرز فکر کی زندہ مثالیں موجود ہیں۔پارلیمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے جب ایک جانب پورے شدو مد سے بات کی جاتی ہے تو دوسری جانب پارلیمنٹ کے اراکین کے چناؤ کے حوالے سے سامنے آنے والی بے اعتدالیوں سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی۔سینٹ کی خالی نشستوں پر حال ہی میں ہونے والے انتخاب پر ہاوس ٹریڈنگ اور خریدو فروخت کی باتیں جس تواتر سے سامنے آئی ہیں اگر ان میں ایک فی صد بھی صداقت ہوتو سارا معاملہ مشکوک ہوجاتا ہے کیونکہ صاف پانی کے حوض میں صرف ایک قطرہ پیشاب کا پڑجائے تو اس کا سارا پانی ناقابل استعمال ہوجاتا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس ظاہر باہر بدعنوانی پر کسی احتسابی ادارے کو جاگ آئی نہ کہیں سے پوچھ کچھ کی تحریک سامنے آئی۔اسے احتماعی قومی بے حسی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جاسکتا اگر کوئی شخص کروڑوں خرچ کرکے سینٹ کی سیٹ حاصل کرتا ہے تو چشم فلک نے دیکھا ہے کہ سینٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے چناؤ کے لیے اس کے ووٹ کی قیمت بھی کروڑوں میں لگی ہے لیکن یہ وہ معاملات ہیں جہاں کسی ٹرانزیکشن کی کوئی رسید نہیں دی جاتی اہلبتہ گاجریں کھانے والوں کے بنک اکاؤنٹس گواہی دے سکتے ہیں کہ کس نے کتنی گاجریں کھائیں اور کب کب کھائیں لیکن سوال یہ ہے کہ کسی کے گاجریں کھانے یا نہ کھانے کی پڑتال کون کرے؟جب تک پڑتال نہیں ہوگی تب تک ہمارے نومنتخب اراکین سینٹ کی بلند اقبالی کے لیے ساری قوم دعاگو رہے گی اور ان کے بنائے گئے قوانین پر توصیف و تحسین کے ڈونگرے برساتی رہے گی۔(م ش ضیاء اسلام آباد)