تہذیبوں کاٹکرائو

15 اپریل 2018

پاکستان کے لئے علاقائی سیاسی پینتروں کو سمجھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ ارضِ پاک، چوراہے میں لگے تماشے سے نکل کر اب راہِ مستقیم کی جانب مسلسل گامزن ہے جبکہ دیگر تمام منفی طاقتیں اس کے در پے ہیں۔وقت کی رفتار میں اضافے اور علاقائی و عالمی صورتِ حالات کی تبدیلی کے باعث، سیاسی وفاداریاں بھی ہمیشہ کی طرح ارتقاء اور تغیر کے مرحلے میں ہیں۔ تزویراتی گہرائی کاتصور ’’معاشی گہرائی‘‘ میں بدل چکا ہے جس کے نتیجے میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کی فعالیت ایک اہم مثال ہے۔ ملکِ پاکستان کی ترقی عدو کی آنکھ میں پیہم کھٹک رہی ہے۔ اس صورت حالات میں چومکھی لڑائی سے نبردآزما ہونا اور عالمی برادری میں خود کو منوانا اہم عمل ہے۔چومکھی رزم میں برتی گئی چالوں میں سے ایک بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں حالیہ ریاستی دہشت گردی ہے جس کے نتیجے میں بیسیوں نوجوانانِ کشمیر شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔قابضین کے پے در پے حملے ، ریاست گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کی تاریخ کو دہرارہے ہیں، جو کسی صورتحال میں بھی قومی اور بین الاقوامی سطح پر قابل قبول نہیں۔جب بھی متشدد کارروائیوں سے خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے تو انٹرنیٹ، موبائل سروس ، ذرائع ابلاغ اور حتیٰ کہ اشیائے خورونوش پر پابندی لگاتے ہوئے گویا متاثرین کا جینا محال کر دیا جاتا ہے جبکہ عالم کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ بھارت ایک بڑی جمہوریت ہونے کے ناتے جمہوری اقدار کی خوب پاسداری کرتا ہے اور اپنے شہریوں کے حقوق کا ضامن ہے، اس بہروپیت پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی تکون پر علاقائی اور عالمی سطح پر بھی سوالیہ نشان ابھرنا شروع ہو گئے ہیں، اس کی ایک وجہ مقبوضہ کشمیر میں بربریت کے ساتھ ساتھ فلسطین میں ’’یوم الارض‘‘ کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرین بھی اسرائیلی فوج کی گولیوں کی زد میں ہیں۔ آہ و بکا کا عالم ہے مگر نام نہاد جمہوریت کے علمبردار، عالمی سطح پر سیاسی، معاشی اور عسکری پنجے گاڑنے والے، دنیا میں برپا ظلم اور جبر پر، چُپ سادھے ہوئے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے شناوروں کے نزدیک مذکورہ تکون کسی خطرے سے کم نہیں، اس گٹھ جوڑ کے نتائج مشرقِ وسطیٰ، افغانستان، کشمیر اور دیگر ممالک میں دیکھے جا سکتے ہیں۔بنظرِ غائر دیکھا جائے تو دنیا میں اسلام کے نام لیوا ہی ظلم اور تشدد کا شکار ہیں۔ چاہے شام کی بات کی جائے یا پھر میانمار کی، نشانہ مسلمان ہی ہیں، مگر ایسا کیوں ہے؟ اس کے پس پردہ تعصب، تفرقہ بازی، مادیت پرستی، دینِ اسلام سے سرکشی اور اتحاد کا فقدان ایسی وجوہات کارفرما ہیں۔ کہیں اغیار حملہ آور ہیں تو کہیں اپنے ہی اپنوں کے خلاف سینہ سپر ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ ساری قوتیں صرف اسلام سے نبردآزما ہوئے چاہتی ہیں، یہ ہنٹنگٹن کی تھیوری ’’تہذیبوں کاٹکرائو‘‘ کا اطلاق ہی تو ہے۔دراصل اسلام اور اسلام آباد، عدو کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے ضلع اسلام آباد پر زبانی حملے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد پر عسکری حملے دیکھنے کو ملتے ہیںجہاں کوئی آنکھ کا تارا اپنی بے سہارا ماں کو تنہا چھوڑ کر راہ عدم سدھار جاتا ہے اور کوئی اپنی بہنوں کا واحد سہارا انہیں داغ مفارقت دے جاتا ہے۔ کسی کے بچے اپنے والد کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کے حوالے نعش کی جاتی ہے جس کا چہرہ مسمار اور عضوِ بدن کٹے ہوتے ہیں۔کہیں سہاگن کا سہاگ اجڑتا ہے تو کِھلتے پھول گویا مُرجھا جاتے ہیں اور ہری بھری فصل وقت سے پہلے ہی انجام کو پہنچ جاتی ہے۔
کشمیریوں کی شہادتیں انسانی حقوق کی تنظیموں کو گویا للکار رہی ہیں، جن کی تشکیل کا مقصد انسانی اقدار کا تحفظ، آزادی اور امن کی بحالی تھامگر صد حیف کہ یہ فلاحی ادارے اپنے مقاصد سے کوسوں دور ہیں۔ بھارت کے حالیہ وحشیانہ عمل اور مظالم کے خلاف پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت کا سخت رد عمل سامنے آیا ہے جس کے تحت وفاقی کابینہ نے جمعہ کو یوم یکجہتی کشمیر منانے کا فیصلہ کیا، جو بلاشبہ خوش آئند ہے۔ اس کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کے معاملہ پر مختلف ممالک میں وفود بھیجنے اور خطوط لکھنے کا اقدام بھی ثمر آور ہو گا، جس سے عالمی برادری کو ارضی حقائق جاننے میں مدد ملے گی۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو مظالم کے ذریعے ہرگز دبایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی جدوجہد آزادی کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مشکل گھڑی میں کشمیری عوام کے شانہ بشانہ منفی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور صفِ یکجہتی کو مستحکم تر کیا جائے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کا عمل ضرور رنگ لائے گا۔