نواز شریف کا نظریہ

15 اپریل 2018

سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا کہ نوازشریف کی نااہلی تاحیات ہے۔ وہ اب کبھی پارلیمنٹ کا ممبر نہیں بن سکتے۔ مریم نواز کا بیان آیا ہے کہ نااہلی فیصلہ دینے والوں کے عہدوں پر بیٹھے رہنے تک ہے۔ یقینا ان کے ذہن میں طیارہ اغوا کا مقدمہ ہوگا جب نوازشریف کو 25 سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن چند سال میں نہ صرف سپریم کورٹ نے ان کو اس مقدمہ سے بری کردیا تھا بلکہ وہ الیکشن جیت کر تیسری مرتبہ وزیر اعظم بھی بن گئے تھے۔اس فیصلہ کے بعد نوازشریف کے حامی افسردہ ہیں لیکن یہ فیصلہ کوئی زیادہ غیر متوقع نہیں ہے۔ موجودہ حالات میں یہی توقع کی جارہی تھی اور سپریم کورٹ کے جج صاحبان کئی مرتبہ اس طرف اشار ہ بھی کرچکے تھے۔ نوازشریف کے مخالفین شادیانے بجارہے ہیں۔ اس میں عمران خان اور پیپلز پارٹی والے سیاسی مخالفین بھی ہیں جن کا سیاسی سفر آسان ہوگیا ہے اور میڈیا میں بیٹھے مبصرین بھی ہیں ۔ کچھ واقعی نوازشریف کی سیاست کو ملک کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں اور ان کو کرپشن میں ملوث بھی سمجھتے ہیں جبکہ TV اینکر اورمبصرین کی بڑی تعداد اپنے میڈیا ہائوس کی پالیسی کیوجہ سے نوازشریف کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں حالانکہ ان مقدمات کی اصل حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر شاہ محمود قریشی کا بیان آرہا ہے۔ وہ نوازشریف کی نااہلی سے زیادہ جہانگیر ترین کی نااہلی سے خوش نظر آرہے ہیں کہ ان کے راستے کا ایک کانٹا فارغ ہوگیا ۔ جہانگیر ترین کہہ رہے ہیں کہ ان کا کیس نوازشریف سے مختلف ہے اور ریویو میں کلیئر ہونے کی امید لگائے بیٹھے ہیںلیکن شاہ محمود قریشی ان کے ریویو کا ذکر تک نہیں کرتے بلکہ کہتے ہیں PTI کیلئے ایک بڑا نقصان ہوگیا ہے یعنی جہانگیر ترین کی نااہلی حتمی ہے ۔ سیاست بڑا ظالم کھیل ہے۔
میڈیا میں نوازشریف کے خلاف بولنے والوں کی مخالفت کے بھی مختلف گریڈ ہیں۔ بعض صر ف یہ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف کی پارلیمانی سیاست ختم ہوگئی یعنی وہ کبھی الیکشن نہ لڑ سکیں گے اور پارلیمنٹ میں نہ آسکیں گے ۔بعض ان کی سیاست کا مکمل خاتمہ دیکھ رہے ہیں اور بعض تو آنے والے الیکشن سے پہلے ن لیگ کا ہی خاتمہ دیکھ رہے ہیں۔ جہاں تک پارلیمانی سیاست کے خاتمے کا تعلق ہے موجودہ فیصلہ کے بعد یہی صورت حال ہے لیکن نوازشریف آج سیاست میں جس مقام پر ہیں مخالفین کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی کہ انکی سیاست کا خاتمہ ہوجائے۔ وہ ن لیگ کے تاحیات قائد ہیں اور یہ عہدہ انکے پاس رہے گا جب تک عوام انکے موقف اور بیانیے کی حمایت کرے گی۔ دنیا میں بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں سیاسی قائدین بغیرپارلیمنٹ میں آئے موثر قیادت کرتے رہے۔ برصغیر میں سب سے بڑی مثال مہاتما گاندھی کی ہے ۔ وہ نہ کبھی پارلیمنٹ میں آئے اور نہ کبھی پارٹی عہدہ رکھا لیکن کانگریس کا بڑے سے بڑا لیڈر چاہے جواہر لعل نہرو ہو چاہے پٹیل چاہے مولانا ابوالکلام آزاد انکے سامنے دوزانو ہوکر بیٹھتے تھے اور انکے مشورے اور مرضی کے بغیر کانگریس کوئی فیصلہ نہ کرسکتی تھی اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ عوام گاندھی کے اشارے کا انتظار کرتے تھے اور انکے موقف کو درست تسلیم کرتے تھے۔ ا س وقت ن لیگ میں بھی گوکہ میاں شہباز شریف پارٹی کے صدر بن چکے ہیں لیکن عوام اور ووٹر نوازشریف کے اشارے کا انتظار کرتے ہیں۔ عدالتی فیصلوں کے بعد نوازشریف کو عوام میں پہلے سے بھی زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں انکے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اوروہ لوگوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہیں کہ ان پر تمام الزامات جھوٹے ہیں اور یہ مقدمات فراڈ ہیں ۔ یہ باتیں اپنی جگہ درست لیکن نوازشریف جو یہ کہتے ہیں کہ میں نظریاتی ہوگیا ہوں اسکا کیا مطلب ہے ؟ ان کا نظریہ کیا ہے ؟ وہ کس نظرئیے کیلئے تکلیفیں اٹھار ہے ہیں۔ نوازشریف کہتے ہیں کہ ان سے انتقام لیا جارہا ہے ۔ کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے ؟ وہ کہتے ہیں میں جھکوں گا نہیں مقابلہ کروں گا۔ کس بات سے جھکانے کی کوشش ہورہی ہے ؟ وہ کہتے ہیں یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔ وہ کس مقدمہ کی بات کررہے ہیں؟ یہ وہی مقدمہ ہے جس نے آمریت کا راستہ ہمیشہ کے لئے روک دیا ہے۔ نوازشریف کا نظریہ ’’مجھے کیوں نکالا‘ ‘ نہیں ہے بلکہ پاکستان میں سویلین سپریمیسی کا قیام ہے ۔ جمہوریت کی مضبوطی ہے اور ہمیشہ کیلئے آمریت کا خاتمہ ہے ۔ یہ مقدمات اور کیوں نکالا تو راستے میں آنے والے مقامات ہیں جہاں سے نوازشریف کو گزرنا پڑرہا ہے۔ عوام اس نظرئیے کو خوب سمجھتی ہے اور سوات جیسے دوردراز کے لوگ بھی نوازشریف کو اس نظریہ پر قائم رہنے کیلئے ہمت بندھانے انکے جلسوںکیلئے جوش و خروش سے نکلتے ہیں۔
نوازشریف کے سیاسی مخالفین ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں لیکن اقتدار کی سیاست کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں ۔پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ سے سیاست کا شو ق رہا ہے۔ وہ اپنے تئیں فیصلہ کرلیتے ہیں کہ فلاں شخص یا فلاں پارٹی پاکستان کے مفاد میں نہیں اسکو حکومت میں نہیں آنا چاہئے اور اسکے بعد اس راستہ پر چل پڑتے ہیں۔ اس پارٹی کے مخالفین اسٹیبلشمنٹ کے بتائے ہوئے راستے پر چل پڑتے ہیںاور اسٹیبلشمنٹ کے زیر عتاب پارٹی کے خلاف اتحاد بننے شروع ہوجاتے ہیں اور عدالتی فیصلے بھی آنے شروع ہوجاتے ہیں اور قائدین جیلیں کاٹتے ہیں ۔ بڑے عرصے تک پیپلز پارٹی اس عتاب کا شکار رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے یہ مشکلات دیکھی ہیں لیکن اب زرداری اور بلاول زرداری دوسری طرف کھڑے ہیں۔ نوازشریف اور ن لیگ کو حکومت سے باہر رکھنا مقصد ٹھہرا ہے اور زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی شائد پہلی مرتبہ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے مزے لے رہے ہیں۔ کافی عرصہ تک عمران خان سے کام بھی لیا گیا ان کو پاپولر بنانے کے اقدامات بھی ہوئے لیکن شاید وہ مطلوبہ نتائج نہ حاصل کرسکے اس لئے اب زرداری صاحب کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ سینیٹ کے الیکشن کے بعد میں نے لکھا تھا کہ اب زرداری صاحب اگلی سیٹ پر براجمان ہوگئے ہیں اور عمران خان کو پچھلی سیٹ پر بٹھا دیا گیا ہے۔ لیکن اس وقت تک شاید عمران خان کو یہ بات سمجھ نہ آئی تھی ۔ وہ اس پر بغلیں بجا رہے تھے کہ ن لیگ کا سینیٹ کا چیئرمین نہیں بننے دیا۔ انکو پہلا جھٹکا اس وقت لگا تھا جب سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن بھی پیپلز پارٹی سے شیری رحمان کو بنادیا گیا ۔ جنوبی پنجاب میں ن لیگ سے Electable علیحدہ ہوئے تو عمران خان کا خیال تھا انکو PTI میں شامل کرکے PTIکی قوت بڑھائی جائے گی لیکن وہ آزاد گروپ بنا کر جنوبی پنجاب کا نعرہ لگار ہے ہیں۔ عمران خان سے اے ٹی ایم بھی چھینا جارہا ہے۔ اب عمران خان کو کچھ کچھ نظر آنے لگا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا وزیرا عظم کا امیدوار عمران خان کی بجائے کوئی عبدالقدوس بھی ہوسکتا ہے۔ جہاں تک نوازشریف کے نظرئیے کا تعلق ہے اسکی کھل کر مخالفت تو کوئی نہیں کرسکتا۔ کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان میں جمہوری نظام کی بجائے آمریت ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس صاحب عوامی مسائل پر ایکشن لینے کی وجہ سے آجکل عوام اور میڈیا کی توجہ کا مرکز ہیں۔ وہ بھی یہ کہتے ہیں کہ انتخابا ت وقت پر ہونگے اور منصفانہ کروانے میں عدلیہ اپنا کردار اداکرے گی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ نہ جوڈیشل مارشل لا لگے گا نہ کوئی اور مارشل لا ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں اگر مارشل لا لگا تو میں گھر چلا جائوں گا یعنی اسکی حمایت نہ کروں گا۔ چیف جسٹس صاحب سے گزارش ہے صرف گھر جانے کی بات نہ کریں بلکہ کہیں مارشل لا روکنے میں اپنا کردارا دا کروں گا۔