پارلیمنٹ پر لعن طعن مگر…؟

15 اپریل 2018

خبر پُرانی ہو چکی ہے مگر اس کی صدائے باز گشت چونکہ ملکی فضاؤں سے ہوتی ہوئی اب عالمی فضاؤں سے ٹکرانے لگی ہے اس لئے نہ چاہنے کے باوجود اس پر کچھ نہ کچھ لکھنے کو جی کیاہے۔ یہ خبر سیاسی فصلی بٹیروں سے متعلق ہے جو پچھلے ہفتے مسلم لیگ ن کے آشیانے سے روٹی باجرہ ختم ہوتا دیکھ کر دیسی گھی کی ’’چُوری ‘‘ سے بھرے دوسرے آشیانے کی تلاش میں ابھی تک ہوا میں غوطے لگا رہے ہیں , بی بی سی نے بھی اِسی حوالے سے اپنے ایک تجزئیے میں لکھا ہے کہ پاکستان میں الیکشنز سے پہلے فصلی بٹیروں کاسیاسی وفاداریاں بدلنا کوئی نئی بات نہیں مگرمسلم لیگ ن کے حوالے سے موجودہ صورتحال میں اس کے پیچھے بظاہر ایک بڑا منصوبہ لگتا ہے ۔ اب یہ منصوبہ کیا ہے یا کیا ہو سکتا ہے ہمارے خیال میں اس پر ہماری کسی رائے کی ضرورت نہیںکہ بہت آراء آچکی ہیں اس پرجبکہ ہم بھی اپنے ایک کالم جو پچھلے ماہ 7مارچ کو شائع ہو چکا ہے میں تفصیل سے مسلم لیگ ن کے مستقبل کے حوالے سے بمعہ دو ایک پیش گوئیوں کے جو من و عن سینٹ الیکشن کے حوالے سے درست ثابت ہو بھی چکی ہیں اپنا تجزئیہ بیان کر چکے ہیں لہذا ہم بی بی سی کے تجزئیے میں لکھی گئی اس بات کہ ،’’پاکستانی سیاست میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا نئی بات نہیں ‘‘ تک ہی اپنی بات محدود رکھیں گے ۔یہ حقیقت ہے کہ سیاست میں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا نئی بات نہیں ہے مگر اس پر بھی ستم بالائے ستم کہ یہ بات مفاداتی سیاست کرنے والے سیاستدانوں یعنی فصلی بٹیروں کیلئے معیوب نہیںنہ ہی وہ خود کو اس پر قابل ِ ملامت سمجھتے ہیں۔ دُنیا لاکھ لعن تعن کرے مگر یہ لعن طعن اِ ن کا ضمیر جنجھوڑ سکتی ہے نا یہ اپنی لعنت زدہ روش سے باز آ سکتے ہیںکیونکہ ان کے نزدیک عوامی خدمت نہیں بلکہ ان کا ٹارگٹ پیسہ کمانا ہوتا ہے چاہے مسلم لیگ سے ،پیپلز پارٹی سے ،یا کسی بھی دوسری پارٹی سے کمائیں ، صرف کمانہ پیسہ ہی ہوتا ہے انہیں ،سیاست، سیاسی طور طریقوں وفاداریوں سے انہیں کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ۔یہ جب چاہیں جس کی چاہیں مُنڈیر پر جا بیٹھیںاور اپنا دانہ پانی کھاپی کر پھر کسی اور مُنڈیر پر اُڑ کر جا بیٹھیں۔ دیکھا جائے توبے شک یہ بٹیرے ہی قصور وار ہیں مگر ہمارے نزدیک اِن سے زیادہ قصور وار وہ سیاستدان ہیں جو اپنے ہاتھو ں میں دانہ پانی لئے انہیں خوش آمدیدکہنے کیلئے ہر الیکشن سے پہلے تیار نظر آتے ہیں۔ اگر دوسری پارٹیوں والے انہیںہاتھو ں ہاتھ لینے کی بجائے ان پر اپنے دروازے بند کر دیں تو ہم یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ملکی سیاست میں لوٹا کریسی کی یہ لعنت ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے گی ۔
1993 کے عرصے میں ملک میں لوٹا سیاست عروج پر پہنچی اور ایک سیاسی جماعت کے تقریبا ًسو سے زائد ارکان جتھے کی صورت میںایک سے وفاداریاںتبدیل کر کے دوسری جماعت میں چلے گئے،اس کے بعد تو یہ سلسلہ جیسے شروع ہی ہوگیاجو مختلف ا دوار سے چلتا چلتا موجودہ دور تک آن پہنچا ہے ،اس بار بھی ایک دو یا تین نہیں بلکہ اکٹھے آٹھ بٹیروں نے اپنا گھونسلہ بدلا ہے جن مین قومی اسمبلی کے پانچ او ر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے تین ارکان شامل ہیں،بجائے شرمندگی اورخفت محسوس کرنے کے اِن کی دیدہ دلیری ملاحظہ ہو کہ انہوں نے اپنے منفی طرزِ عمل کو جائز قراردیتے ہوئے باقاعدہ پریس کانفرنس بھی کی بلکہ جنوبی پنجاب کے چمپئن بننے کی کوشش میں اِسے ترقیاتی عمل میں نظر انداز کئے جانے کا گِلہ کرتے ہوئے اِسے علیحد ہ صوبہ بنانے کی خواہش کا کھلے بندوں اظہا ر بھی کر دیا ،اب اِن سے کوئی پوچھے کہ بھئی آپ تو پانچ سال تک اسمبلی میں رہے تو اِس لمبے عرصے تک اپنے حلقوں کے عوام کے حقوق کا خیال کیوں نہیںآیااور اِس دوران صوبے کی بات کیوں نہیں کی ؟اگر نہیں کی تو اِس کامطلب تو یہی لیا جا نا چاہیے کہ پنجاب حکومت اُن کے حلقوں پر توجہ دے رہی تھی،لوگوں کے کام ہو رہے تھے اوعلاقہ ترقی کر رہا تھااور جب یہ سب ہورہا تھا تو پھر سوچنے والی بات یہ ہے کہ اِن بٹیروں کو کیا سوجھی کہ یوں اچانک بیٹھے بٹھائے انہیں عوام کے حقوق بھی یا د آگئے ،صوبے کی ضرورت بھی آن پڑی ۔۔۔۔جب سوچا جائے تو زہن لا محالہ بی بی سی کے تجزیئے والی بات کی طرف ہی جاتا ہے جسے پھر دھرا ئے دیئے دیتے ہیں،بی بی سی کے تجزئیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں الیکشن سے پہلے فصلی بٹیروں کا سیاسی وفاداریاں تبدل کرنا کوئی نئی بات نہیں مگر مسلم لیگ ن کے حوالے سے موجودہ صورتحال میں اس کے پیچھے بظاہر ایک بڑا منصوبہ لگتا ہے ۔جی ہاں یہ سب منصوبہ بندی کے تحت ہی ہو رہا مگر منصوبہ بندی یا وجوہات میں پڑنے کی بجائے ہمیں اِس لعنت یعنی لوٹا کریسی کے خاتمے کی طرف آنا چاہیے جنوبی پنچاب کے آٹھ ارکان ِ اسمبلی کو وفاداریاں تبدیل کئے کافی دِن ہوچکے ہیں مگر ابھی تک انہوں نے کسی دوسری سیاسی پارٹی کو جوائن نہیں کیا،ظاہر ہے give and take کی باتیں چل رہی ہوں گی جویقینا انتخابات سے پہلے پہلے طے پا جائیں مگر ہم اِس کے برعکس سوچ رہے ہیں،ہمار ے نزدیک تو ہونا یہ چاہیے کہ کوئی بھی دوسری پارٹی کو انہیں ویل کم کہنا چاہیے نہ اِ ن سے رابطہ، اگر یہ رابطے کی کوشش کریں بھی تو انکار ہونا چاہیے ، یہی نہیں بلکہ اِن پر اُسی طرح لعنت بھیجی جانی چاہیے جس طرح پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی گئی،اگر پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے پر لعنت بھیجی جا سکتی ہے توپھر اِ ن لوٹوں پر بھی بھیجی جانی چاہیے، اگر یہ لوٹے آ ج ن لیگ سے بے وفائی کر سکتے ہیں تو کل کلاں کو پی ٹی آئی یا کسی بھی دوسری جماعت سے بھی کر سکتے ہیںاِ ن کا کیا بھروسہ ،دوسر ااِن کے حلقوں کے عوام کی بھی آنکھیں کُھل جانی چاہیں اورآنے والے الیکشن میں اپنے لئے باوقار و وفادار نمائندوں کا انتخاب کرنا چاہیے