پاکستانی کوچز سلیکشن میں بہترین انتخاب نہیں کرتے اچھی ٹیم کی تشکیل ترجیح ہے : شہباز سینئر

15 اپریل 2018

لاہور (حافظ محمد عمران/نمائندہ سپورٹس) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل شہباز احمد سینئر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کوچز سلیکشن کے معاملے میں بہتر انتخاب نہیں کرتے وہ غلط آپشنز کی طرف جاتے ہیں‘ٹیم ہینڈلنگ میں بھی مہارت نہیں رکھتے۔ کامن ویلتھ گیمز میں ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش رہی۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام گیم بیٹ میں گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اچھی ٹیم کی تشکیل اولین ترجیح ہے چیمپئنز ٹرافی کیلئے تربیتی کیمپ ہالینڈ میں لگانے کا مقصد سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اولمپئین سمیع اللہ نے کہاکہ کامن ویلتھ گیمز میں ٹیم ماضی کی نسبت بہتر نظر آئی تاہم ابھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ملک میں عالمی معیار کی ہاکی اکیڈمیز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈائریکٹر ڈومیسٹک اینڈ ڈیویلپمنٹ اولمپئین نوید عالم کا کہنا تھا کہ ٹیم اچھا کھیلی‘ ماضی کے غلط فیصلوں سے قومی کھیل کو نقصان پہنچا ہے۔ ایگزیکٹیو بورڈ کے رکن قاسم خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی فزیکل فٹنس میں بہتری آئی ہے۔مزید اچھے نتائج کی امید ہے اچھی ٹیم بنانے میں تین چار سال کا وقت لگے گا۔ پاکستان میں ہر شخص نچلی سطح پر کوچنگ کیے بغیر قومی ٹیم کی کوچنگ کرنا چاہتا ہے دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔
آج ہاکی پلئیرز کو سرکاری اداروں میں مستقل ملازمتوں کی ضرورت ہے۔ یہ کام آسانی سے ہو سکتا ہے چند لاکھ روپے میں کسی بھی ادارے میں ہاکی ٹیم بن سکتی ہے۔