کامن ویلتھ گیمز میں ہاکی کی کارکردگی تسلی بخش، نتائج ماضی کی نسبت بہتر رہے: شہباز سینئر

15 اپریل 2018

لاہور(حافظ محمد عمران/نمائندہ سپورٹس) پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اولمپئین شہباز احمد سینئر کا کہنا ہے کہ پاکستانی کوچز سلیکشن کے معاملے میں بہتر انتخاب نہیں کرتے وہ غلط آپشنز کی طرف جاتے ہیں اور ٹیم ہینڈلنگ کے فن میں بھی مہارت نہیں رکھتے۔ کامن ویلتھ گیمز میں ٹیم کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے۔ ایک اچھے کوچ کی سب سے بڑی خوبی ٹیم ہینڈلنگ ہوتی ہے۔ کامن ویلتھ گیمز میں ہماری ٹیم کی ہینڈلنگ بہتر انداز میں ہوئی ہے۔ کینیڈا کیخلاف کچھ عرصہ قبل ہمیں بڑے مارجن سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہاں ہم نے کینیڈا کیخلاف کامیابی حاصل کی۔ بھارت اور انگلینڈ کا مقابلہ کرتے ہوئے بھی نتائج ماضی کی نسبت بہتر رہے۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام گیم بیٹ میں گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اچھی ٹیم کی تشکیل اولین ترجیح ہے چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے لیے تربیتی کیمپ ہالینڈ میں لگانے کا مقصد بھی ہر ممکن سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ایونٹ کے لیے غیرملکی سپیشلسٹ کوچز او ٹرینرز کی بھی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ سینئر ٹیم کی مصروفیات اور اخراجات کو دیکھتے ہوئے جونئیرز کے کچھ منصوبے تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں لیکن کوشش کرونگا کہ جن پلئیرز کو آسٹریلیا بھیجا تھا انہیں یورپ کے دورے پر بھی بھیجا جائے۔ رولینٹ آلٹمینز ایک پرفارمر اور کامیاب کوچ ہے اسکے کریڈٹ پر بڑی فتوحات ہیں اسکی خدمات حاصل کرنے کا مقصد تجربے اور کوچنگ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔ سلیکشن میں اسکی رائے کو خاصی اہمیت دی جائے گی کیونکہ میدان میں ٹیم کو اس نے ہی لڑانا ہے میں نے اپنے کوچز کی رائے کو ہمیشہ ہی اہمیت دی ہے۔ ہماری سلیکشن کمیٹی میں اصلاح الدین، ایاز محمود، مصدق اور قاسم خان جیسے سنجیدہ افراد شامل ہیں یہ غیر ملکی کوچ کے ساتھ ملکر بہتر انداز میں کام کر سکتے ہیں۔ ملک میں ہاکی سینٹرز کے قیام کا خواہشمند ہوں تاکہ اچھے کھلاڑیوں کی بہتر تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا جا سکے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ ہے لیکن اس معیار کے باصلاحیت پلئیرز سامنے نہیں آ رہے جو دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔فلائنگ ہارسکے نام سے عالمی شہرت یافتہ اولمپئین سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ کامن ویلتھ گیمز میں ہماری ٹیم ماضی کی نسبت بہتر کھیلتے ہوئے نظر آئی تاہم ابھی بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے فارورڈ لائن کو منظم اور اجتماعی کھیل کا عادی بنانا ہو گا۔ برطانیہ اور بھارت کے خلاف اچھا کھیل پیش کیا۔ تاہم ویلز اور ملائشیا کے خلاف برابر نہیں کھیلنا چاہیے تھا۔ ملک میں عالمی معیار کی ہاکی اکیڈمیز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چیمپئنز ٹرافی کے لیے تربیتی کیمپ ہالینڈ میں لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ رولینٹ آلٹمینز کے آنے کے بعد امید تھی کہ سپورٹ سٹاف میں مزید غیر ملکی شامل ہونگے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک اینڈ ڈیویلپمنٹ اولمپئین نوید عالم کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی اپنا چہرہ صاف کیا ہے آج ایک مرتبہ پھر پاکستان ہاکی اچھے انداز میں زیر بحث ہیں ماضی مین ہونیوالے غلط فیصلوں سے قومی کھیل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ ہم نے دو سال میں اپنے نظام کو فعال کیا ہے۔ لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ جو جس کام کے لیے مناسب ہو گا اسے وہی ذمہ داری دی جائے گی۔ ہمیں پرفارمرز کی ضرورت ہے ہاکی کوچ سیاست کے بجائے کوچنگ کرے۔ اوپر کی سطح سے بہتر فیصلوں کے مثبت اثرات نیچے تک آئیں گے۔شائقین کو بہتری کی امید نظر آئی ہے شہباز سینئر کی قیادت میں بہتر مستقبل کے لیے ملکر کام کر رہے ہیں۔ ہاکی کو دوبارہ ملک کا مقبول کھیل بنانے کا عزم ہے۔ ایگزیکٹیو بورڈ کے رکن قاسم خان نے کہا ہے رولینٹ آلٹمینز کے ساتھ ہر کھلاڑی کی سلیکشن پر بات ہوتی ہے منتخب اور ڈراپ ہونے والے پلئیرز کی خامیوں اور خوبیوں کے بارے بتایا جاتا ہے۔ پاکستانی ٹیم کی فزیکل فٹنس میں بہتری آئی ہے۔ آنیوالے دنوں میں مزید اچھے نتائج کی امید ہے ہمیں ایک اچھی ٹیم بنانے میں تین چار سال کا وقت لگے گا۔ پاکستان میں ہر شخص نچلی سطح پر کوچنگ کیے بغیر قومی ٹیم کی کوچنگ کرنا چاہتا ہے دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ آج ہاکی پلئیرز کو سرکاری اداروں میں مستقل ملازمتوں کی ضرورت ہے۔ یہ کام آسانی سے ہو سکتا ہے چند لاکھ روپے مین کسی بھی ادارے میں ہاکی ٹیم بن سکتی ہے

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...