سندھ‘ خیبر پی کے ‘ بلوچستان میں بھی نئے صوبوں کے مطالبات ہیں: وزیراعظم

15 اپریل 2018

بہاولپور (بیورورپورٹ )وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نئے صوبے کے لیے تمام جماعتوں کو بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کے بارے میں سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلہ کریں گی ،ْجنوبی پنجاب میں صوبے کا مطالبہ کر نے والے لوگ پانچ اسمبلیوں میں رہے ،ْ معاملے کو اس وقت اٹھاناچاہیے تھا ،ْ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں ہونا اچھی روایت نہیں ہے ،ْہمیں تاحیات نااہل ہونے کا فیصلہ بھی قبول ہے ،ْ تاریخ آپ کو کچھ اور ہی بتائے گی ،ْ نواز شریف کے 5 برس کا کام ایک جگہ رکھ دیں تو پھر بھی نواز شریف کا پلڑا بھاری ہوگا ،ْ حکومت کی مدت پوری نہ کر نے کی باتیں کر نیو الے لوگ گھروں میں بیٹھے ہیں ،ْ حکومت نے اپنی مدت پوری کرلی ہے ،ْ پاکستان صرف اور صرف جمہوریت اور عوام کی رائے پر ہی چلے گا تو ترقی کرے گا ،ْسیاست کے فیصلے جولائی میں پولنگ سٹیشن پر ہونگے ،ْاحمد پور شرقیہ کو ضلع بنانے کا حتمی اعلان وزیراعلیٰ کرینگے۔وہ نیشنل ہائی وے کے جلال پور۔پیر والا تا اوچ شریف سیکشن کے افتتاح کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کررہے تھے ۔ جب 2013ء میں حکومت آئی تو محمد نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ تمام زیر التواء منصوبے مکمل کئے جائیں گے جبکہ کوئی سیاسی جماعت ایسا نہیں کرتی کیونکہ اس کو اس کا کریڈٹ نہیں ملتا لیکن آپ کی جماعت مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ملک میں جاری تمام زیر التواء ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کئے جائیں گے۔ جب ہماری حکومت آئی تو ملک میں بجلی کا بحران تھا اور اس حوالے سے آج بھی ترسیل کے بعد مسائل درپیش ہیں تاہم بجلی بنانے کی کوئی مشکل نہیں ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر 20 ہزار میگاواٹ بجلی بنائی گئی تھی لیکن ہم نے قومی گرڈ میں 10 ہزار 400 میگاواٹ اضافی بجلی شامل کرنے کے لئے کئی منصوبے مکمل کئے ہیں۔ جب کام کریں تو مشکل تو آئے گی ہی۔مشرف، زرداری اور عمران خان کو کوئی مشکل درپیش نہیں کیونکہ انہوں نے کوئی کام ہی نہیں کیا، حکومتیں سب کے پاس ہیں لیکن پنجاب میں شہباز شریف کا کام دیکھیں اور دیگر صوبوں میں عمران خان اور آصف زرداری کا کام دیکھیں تو آپ کو واضح فرق نظر آئیگا۔ صوبوں کے قیام کے حوالے سے کوئی ایک سیاسی جماعت فیصلہ نہیں کر سکتی بلکہ اس طرح کی آئینی ترامیم تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے کرنی چاہئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سندھ، بلوچستان سمیت خیبرپختونخوا میں بھی اسی طرح کے مطالبات ہیں۔ جولائی میں انتخابات ہو رہے ہیں اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو دعوت ہے کہ وہ مل بیٹھ کر فیصلہ کریں کہ ملک کی بہتری کے لئے صوبوں کے قیام کی ضرورت ہے، صرف پریس کانفرنسوں سے یہ معاملات حل نہیں ہوں گے، عوام کی نمائندگی کا حق مسائل کے حل سے ہی ادا ہوتا ہے۔ خیبرپی کے میں ہزارہ صوبہ سمیت بلوچستان اور سندھ میں بھی صوبوں کی بات ہوتی ہے جو سیاسی ڈائیلاگ ہے۔صوبوں کے قیام کا فیصلہ تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے ہو گا۔ ہمارے جو بھائی صوبے کے قیام کے حوالے سے پریشان ہیں، ان کی پریشانی دور ہو گئی ہے، آپ کو جولائی میں عوام کے فیصلہ سے پتہ چل جائے گا کہ عوام ایسی سیاست پسند نہیں کرتے اور وفاداریاں بدلنے کا وقت گزر چکا ہے۔ آپ جس سیاسی جماعت میں پانچ سال رہے ہیں اور اب چھوڑنا چاہتے ہیں تو عوام کے پاس جائیں اور انہیں بتائیں کہ پانچ سال جس جماعت میں رہے اب اسے کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ہارس ٹریڈنگ کی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے۔ انتخابات میں بھی آپ نے ہی فیصلہ کرنا ہے جھوٹ یا سچ کی سیاست کے ساتھ چلنا ہے۔ یہ وہ فیصلے ہیں جو عوام نے کرنے ہیں اور جو فیصلہ آپ کریں گے وہی ملکی تقدیر کا فیصلہ ہو گا۔ 2008ء اور 2013ء کے انتخابات میں کئے گئے فیصلوں کا فرق بھی آپ کے سامنے ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کا منصوبہ پہلے کیوں نہیں شروع ہو سکا، قومی معیشت پہلے کیوں نہ بہتر ہوئی، لوگوں کو روزگار کیوں نہ مل سکا۔ مخالفین عزتیں تو اچھال سکتے ہیں لیکن ملک کے لئے کچھ نہیں کر سکتے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سابق آمر پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف پر سزائے موت کا مقدمہ چلایا گیا لیکن آج وہ آمر کہاں ہے اور فیصلہ کرنے والے جج کہاں ہیں اور نواز شریف کہاں ہے، یہ فرق ہے سیاستدانوں اور آمروں میں۔ جولائی میں بھی فیصلہ محمد نواز شریف کے حق میں ہو گا۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...