مارشل لا لگ سکتا ہے نہ الیکشن تاخیر کا شکار ہونگے: افتخار چودھری

15 اپریل 2018

ٹوبہ ٹیک سنگھ، کسووال (نامہ نگار+ نمائندہ خصوصی) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارے نام نہاد لیڈروں نے ’جو خود کو قوم کا رہنما سمجھتے ہیں ‘ملک و قوم کے مفاد کی بجائے اپنی جیبیں بھرنے اور جائیدادیں بنانے کا کام کیا، پی پی پی کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں نہایت بے دردی کے ساتھ ملکی وسائل کو لوٹا کہ ایک مقدس مذہبی فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے جانے والے حاجیوں کو بھی نہ چھوڑا، صرف یہ ہی نہیں بلکہ اس طرح کی کئی اور مثالیں بھی موجود ہیں، لیکن بدقسمتی یہ کہ ہماری قوم ان کی لوٹ کھسوٹ کو بھول کر انتخابات کے وقت ان کے جھوٹے نعروں اور وعدوں سے پھر دھوکے میں آجاتی ہے، ملکی آئین کو پامال کرنے والا آمر آج دوبئی میں بیٹھ کر اپنی سیاست کی دکان چلا رہا ہے، اس میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ قوم کو جواب دے سکے کہ اس نے دس سال تک کس طرح پاکستانی شہریوں کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کیا، بے گناہ لوگوں کو اٹھا اٹھا کر امریکہ کے حوالے کیا، ملک کی ماں بیٹیوں کی عزت کے بارے میں نہیں سوچا، عافیہ صدیقی کی مثال آپ کے سامنے ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے مقامی ہوٹل میں اپنی سیاسی پارٹی پاکستان جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی کی تنظیم سازی اور آئندہ عام انتخابات کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کی صدارت ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر رانا محمد انور ایڈووکیٹ نے کی ،جبکہ اس موقع پرشیخ احسن الدین ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ خالد محمود، سابق صدور میاں فرخ اقبال، میاں محمد شعیب ،عامر ندیم سدھو ،رانا ظفر الرحمن ،خاتون رکن سعدیہ شریف ،سنیئر اراکین حافظ عبدالباسط ،چوہدری عبدالنعیم ،عامر چوہان ،رانا محمد وکیل،رانا محمد یونس،عمر فاروق باجوہ سمیت وکلاء اور شہریوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ کچھ لوگ باتیں کررہے ہیں کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوجائیں گے اور عبوری حکومت طوالت اختیار کرے گی، آئین میں اسکی کوئی گنجائش نہیں ہے ،اور نہ ہی اب پاکستان میں مارشل لاء لگ سکتا ہے ،پاکستان میں مارشل لاء کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہوچکا ہے۔ افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار لوگوں کو انصاف اور فوری ریلیف کی فراہمی کیلئے بھرپور کردار ادا کررہے ہیں ،ملک میں آج جمہوریت کالے کوٹ والے وکلاء کی تحریک کی مرہون منت ہے۔ پاکستان کی کوئی بھی سیاسی پارٹی آئین کے مطابق کام نہیں کررہی اس لئے انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی بنائی۔ اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری رانا محمد انور ایڈووکیٹ نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت پاکستان جسٹس ڈیمو کریٹک پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ محمد اسلم بھنگو نے اپنی کتاب تحریک پاکستان کے وقت مسلمانوں پر کیا گزری سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کوبطور تحفہ پیش کی۔دریں اثنا سابق چیف جسٹس آف پاکستان و صدر پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی افتخار محمدچوہدری نے کسووال میں آگ سے جھلس کر جاں بحق ہونے والی 8 سالہ بچی نورفاطمہ کے والدین کے گھر جاکر تعزیت کی۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی واپسی پر اہل محلہ کی درجنوں خواتین اور لوگوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ہمارے بے گناہ بچوں ، بھائیوں کورہا کیا جائے۔ اگر رپورٹ نیگٹیو آئی ہے تو زیر حراست افراد کو رہا کردینا چاہیئے۔