سبسڈی پر اربوں روپے ضائع کرنے کے بجائے فصلوں کی پیداواری لاگت کم کی جائے: حاجی بشیر

15 اپریل 2018

لاہور (پ ر) پاکستان فلور ملزایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین اوربابائے فلور ملزحاجی محمد بشیراور خلیق ارشدنے کہا ہے کہ رمضان پیکیج کے نام پر کروڑوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے، لہذارمضان کے دوران ٹارگٹڈسبسڈی دی جائے۔وہ گزشتہ روزایگریکلچرجر نلسٹس ایسوسی ایشن (آجا)سے خطاب کررہے تھے۔ فلور ملزایسوسی ایشن کے سابق چیئرمینزکا کہناتھا کہ رمضان پیکیج میں سستے آٹے کے نام پرپانچ سو روپے فی من سبسڈی دینا پڑتی ہے جس میں زیادہ تر کرپشن کی نذرہوجاتاہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سبسڈی پراربوں روپے ضائع کرنے کی بجائے فصلوں کی پیداواری لاگت کوکم کیا جائے۔ کسانوں کو سستی کھاد،پانی،بجلی،ڈیزل،بیج اور زرعی آلات دئیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں گندم کی قیمت دو سو دس ڈالر اورپاکستان میں تین سو پچاس ڈالر فی ٹن ہے۔اس لئے گندم کو برآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گندم کی ایکسپورٹ پالیسی پرنظرثانی کی جائے اورویلیوایڈڈمصنوعات کو ہمسایہ ممالک سمیت دیگر ممالک میں برآمدکرانے کے لئے اقدامات کرے۔افغانستان میں گندم ایکسپورٹ کرنے کے لئے اسٹیک ہولڈرفلورملزمالکان سے مشاور ت کی جائے۔صحافیوں کوبتایاگیا کہ فلور مل آٹے کے معیار کو برقراررکھنے کے لئے گندم کے سات اورآٹے کے پانچ لیبارٹری ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔