کامن ویلتھ گیمز انعام بٹ نے پاکستان کو پہلا گولڈ میڈل جتوا دیا

15 اپریل 2018

لاہور(چودھری اشرف) کامن ویلتھ گیمز 2018ء کے اختتام سے ایک روز قبل ریسلنگ میں محمد انعام بٹ پہلوان نے نائیجیرین پہلوان کو فائنل میں شکست دیکر پاکستان کو پہلا گولڈ میڈل جتوا دیا اس سے قبل ریسلنگ میں ہی طیب رضا نے پاکستان کی جانب سے چوتھا برانز میڈل جیتا۔ ریسلنگ کے مقابلوں کے اختتام کے ساتھ ہی پاکستان کے کامن ویلتھ گیمز کا سفر ایک گولڈ اور چار برانز میڈلز کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق گولڈ کوسٹ کے ریسلنگ سنٹر میں گذشتہ روز ریسلنگ کے آخری مقابلے ہوئے جس میںمحمد انعام بٹ نے 86 کلو گرام فری سٹائل میں جبکہ طیب رضا نے 125 کلو گرام کلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ فائنل میں محمد انعام بٹ کا مقابلہ نائجیریا کے پہلوان میلون بیبو سے تھا جس میں انعام بٹ نے چھ صفر سے کامیابی اپنے نام کی۔ 125 کلو گرام کلاس میں پاکستان کے طیب رضا آخری لیگ میچ میں شکست کھا گئے تاہم بہتر پوائنٹس پر برانز میڈل جیتنے میں کامیاب ہو گئے۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری خالد محمود کی جانب سے دونوں پہلوانوں کو دو دو سو ڈالر نقد انعام اور شاباش دی۔ پاکستان کے لیے پہلا گولڈ میڈل جیتنے والے محمد انعام نے اپنا میڈل پاکستان کے نام کرتے ہوئے کہا کہ اس میڈل کے لیے چار سال سے محنت کر رہا تھا۔ خوشی ہے کہ آج ملک اور قوم کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈل میں کسی ایک کی نہیں بلکہ پوری ٹیم جس میں پاکستان سپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن، پاکستان ریسلنگ فیڈریش اور میرے کوچز کی محنت کے ساتھ والدین کی دعائیں شامل ہیں۔ انعام بٹ کا کہنا تھا کہ مزید محنت جاری رکھتے ہوئے ایشین گیمز کی تیاری کرونگا تاکہ پاکستان کے لیے مزید میڈل جیت سکوں۔ واصح رہے کہ 2010ء کے بعد پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتا۔ کامن ویلتھ گیمز 2018ء میں پاکستان نے مجموعی طور طر ایک گولڈ میڈل کے ساتھ پانچ میڈل حاصل کیے۔ پاکستان کی طرف سے انعام بٹ نے ریسلنگ میں گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ ریسلنگ میں ہی طیب رضا اور محمد بلال جبکہ ویٹ لیفٹنگ میں محمد نوح دستگیر بٹ اور طلحہ طالب نے برانز میڈل جیتے۔ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کیلئے پہلا گولڈ میڈل جیتنے والے پہلوان انعام بٹ نے کہا کہ وہ اپنا ٹائٹل پاکستانی قوم کے نام کرتے ہیں کیونکہ یہ سب قوم کی دعاؤں کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ میری جیت کا کریڈٹ ہر اس فرد کو جاتا ہے جس نے اس کو میرے لیے ممکن بنایا، میرے خاندان والوں، پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کو بھی جیت کا کریڈٹ جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کا میڈل ہے اور میں شکر گزار ہوں کہ اسے حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔اپنی مالی مشکلات کے حوالے سے انعام بٹ نے کہا کہ کامن ویلتھ گیمز سے قبل حکومت سے مالی تعاون کی درخواست کی جو کسی نے نہیں سنی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے 4 ماہ قبل حکومت سے ٹریننگ کے لیے 10 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مجھے کچھ بھی نہیں دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ نہ ہی میرے اپنے پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے اس حوالے سے کوئی تعاون کیا جس کے بعد میں نے خود سے ٹریننگ کی۔انعام بٹ نے کہا کہ قومی ریسلرز نے پاکستان کے لیے بہت محنت کی اور ہم حکومتی تعاون کے مستحق ہیں۔