نوازشریف کارگل آپریشن سے آگاہ‘ مشرف کے طیارے کا رخ نہ موڑتے تو حکومت بچ سکتی تھی : چوہدری شجاعت

15 اپریل 2018

لاہور (نیوز ڈیسک) سابق وزیراعظم اور ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ پہلی بار وزارت عظمیٰ کا حلف لینے سے پہلے اسلام آباد کے ہوٹل میں نواز شریف نے ایک پارٹی میٹنگ بلائی وہاں میں نے تقریر کرتے ہوئے انہیں تین نصیحتیں کی تھیں کہ چاپلوسی کی باتوں میں نہ آئیں، منافقوں سے دور رہیں اور آپ میں ”میں“ نہیں آنی چاہئے۔ افسوس سے کہنا چاہوں گا میاں صاحب نے تینوں باتوں پر الٹ ہی عمل کیا۔ اپنی کتاب ”سچ تو یہ ہے“ میں چودھری شجاعت لکھتے ہیں کہ 1990ءمیں اسلامی جمہوری اتحاد کو دوتہائی اکثریت حاصل ہوئی۔ اس وقت پنجاب کے اندر سوچ تھی کہ نواز شریف وزیراعظم بنتے ہیں تو وزیراعلیٰ چودھری خاندان یا گروپ سے ہونا چاہئے لیکن نواز شریف ہمارے گروپ سے خائف تھے۔ انہوں نے عین وقت پر غلام حیدر وائیں کا نام بطور وزیراعلیٰ پیش کر دیا۔ انہیں اس بات کا رنج بھی تھا لیکن نواز شریف کے سامنے کچھ کہنے کی ان میں ہمت نہ تھی۔ 18 اپریل 93ءکو نواز شریف کی برطرفی کے ساتھ ہی غلام حیدر وائیں بھی فارغ ہو گئے۔ منظور وٹو اس وقت پنجاب اسمبلی کے سپیکر تھے۔ وہ وائیں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے آئے۔ میرے کہنے پر پرویزالٰہی نے پنجاب میں معاملات سنبھالنے کی حامی بھر لی۔ کچھ دنوں بعد وہ بڑی تعداد میں ارکان کو واپس لے آئے لیکن نوا زشریف نے بہت دیر کر دی تھی۔ اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں بھرپور طریقے سے اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ پیپلزپارٹی کی حکومت اور منظور وٹو کو یہ پسند نہ تھا چنانچہ ہمارے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ کتاب کے ایک اقتباس میں چودھری شجاعت نے لکھا سابق صدر رفیق تارڑ ہمارے عزیز ہیں۔ فاروق لغاری کے استعفے کے بعد جب نئے صدر کے انتخاب کا مرحلہ آیا تو ایک روز رفیق تارڑ میرے گھر آئے اور بتایا کہ مجھے نواز شریف نے کہا کہ آپ کو صدر بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ میں نے رفیق تارڑ کو صدر بننے کی پیشگی مبارکباد دیدی۔ 99ءمیں کارگل آپریشن سے متعلق نواز شریف کا یہ کہنا کہ انہیں بے خبر رکھا گیا قطعاً درست نہیں ہے۔ نواز شریف کو فوج نے دو مواقع پر کارگل آپریشن پر بریفنگ دی تھی۔ جنرل (ر) عبدالمجید ملک نے مجھے بتایا میٹنگ کے اختتام پر نواز شریف نے کہا آئیے ہم سب مل کر آپریشن کی کامیابی کیلئے دعا کریں۔ اپنی کتاب میں وہ مزید لکھتے ہیں کہ نواز شریف کا جنرل مشرف کو برطرف کرنے کا فیصلہ انفرادی تھا۔ اگر وہ انہیں مشرف کے جہاز کا رُخ تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرتے تو انکی حکومت بچ سکتی تھی۔ فوج کا انہیں برخاست کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ظفراللہ جمالی سے صدر مشرف کی ناراضی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ق لیگ کے سربراہ لکھتے ہیں کہ مشرف کو پہلی شکایت ہی تھی کہ وہ سست مزاج آدمی ہیں۔ دوسری شکایت اس وقت پیدا ہوئی جب جمالی نے دورہ امریکہ کے بعد صدر کو جو بریفنگ دی وہ مشرف کو اپنے ذرائع سے ملنے والی بریفنگ سے مختلف تھی۔ شجاعت نے مزید لکھا سابق چیف جسٹس افتخار چودھری سے میری ملاقات جسٹس (ر) مشتاق کے گھر ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد ہی پرویزالٰہی اور میں نے جنرل مشرف اور جنرل حامد سے بات کی کہ جسٹس افتخار چودھری بہتر آدمی ہیں انہیں ہی چیف جسٹس بنا دیا جائے۔ مشرف نے کہا میری ان سے ملاقات کرائیں۔ میں افتخار چودھری کو لیکر ایوان صدر چلا گیا۔ وہاں افتخار چودھری نے صدر مشرف کو کہا کہ وہ ان کے اعتماد پر پر پورا اتریں گے جس کے بعد انہیں چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا۔ انہوں نے کتاب میں مزید لکھا جب سپریم کورٹ نے افتخار چودھری کو بحال کر دیا تو مشرف نے مجھے فون کیا اب کیا کرنا ہے۔ میں نے کہا ابھی اپنی اہلیہ کو لیکر چیف جسٹس کے گھر جائیں اور انہیں گلے لگا کر مبارکباد دیں۔ میری رائے یہ ہے کہ اگر مشرف چیف جسٹس کی بحالی کو انا کا مسئلہ نہ بناتے اور ان کے گھر جا کر مبارکباد دیتے یا شوکت عزیز رضاکارانہ مستعفی ہو جاتے تو بحران ختم ہو جانا تھا اور ایمرجنسی کی نوبت ہی نہ آتی۔
شجاعت