نوازشریف کی تاحیات نااہلی بھی قبول سیاست کے فیصلے عدالتوں میں ہونا اچھی روایت نہیں : شاہد خاقان عباسی

15 اپریل 2018

جلالپور پیروالا(آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمیں نواز شریف کو تاحیات کرنے کا فیصلہ قبول ہے، سیاست کے فیصلے عدالتوں میں ہونا اچھی روایت نہیں ہے، پاکستان صرف جمہوریت اور عوام کے فیصلے پر چلے گا، نئے صوبے بنانے کا فیصلہ تمام جماعتیں مل کر کریں گی، جولائی کے الیکشن میں عوام کا فیصلہ نوازشریف کے حق میں ہو گا۔ ایسے عدالتی فیصلوں کی کبھی عزت نہیں ہوتی یہ تاریخ میں رہ جاتے ہیں۔وہ ہفتہ کو تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا سرائیکی لوگوں نے ہمیشہ مسلم لیگ (ن) سے وفاداری کی ہے۔ سیاست میں بھی ان لوگوں کا ساتھ دیا جنہوں نے پاکستان کی خدمت کی، آپ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اس علاقے کے نمائندے اپنے کام تندہی سے انجام دیں گے ۔ مجھے امید ہے کہ مسلم لیگ (ن) ایک بار پھر الیکشن میں کامیاب ہو گی۔ اگر بات ترقی کی کی جائے تو دعویٰ کرتا ہوں کہ کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ آپ 65سال کے کام ایک طرف رکھ دیں اور نواز شریف کے 5سال کے کام ایک طرف تو 5سال کا پلڑا بھاری ہو گا۔ پاکستان جانتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہی ہے جو پاکستان میں ترقی کر سکتی ہے۔ ہم بھرپور اکثریت سے الیکشن میں کامیاب ہوں گے۔ آج جس سڑک کا افتتاح ہوا وہ بہت پہلے شروع ہوئی لیکن اس کو ہم نے مکمل کیا، نواز شریف نے 2013میں رکے ہوئے منصوبوں کو مکمل کرنے کا فیصلہ کیا، جلالپور اچ شریف روڈ منصوبے پر 5ارب روپے خرچ ہوئے، ہمارے منصوبوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لواری ٹنل 1974میں شروع ہوئی لیکن اس کو مکمل کرنے کا سہرا نواز شریف کے سر پر ہے۔ ہم نے نیلم جہلم منصوبہ بھی مکمل کیا ہے، جو کوئی نہیں کر سکا، ہماری حکومت منصوبے شروع کرتی ہے اور ختم کرتی ہے۔ ہم نے چار سال میں 10900میگاواٹ بجلی کے منصوبے مکمل کئے ہیں۔ منصوبوں میں مشکلات آتی ہیں لیکن ہم بھی ڈٹے رہے اور کام کرتے رہے۔ زرداری، عمران خان اور مشرف کو کوئی مشکل نہیں پیش آئی کیونکہ انہوں نے کوئی کام ہی نہیں کیا۔ شہباز شریف ، عمران خان اور زرداری کے کام دیکھ لیں فرق نظر آجائے گا، جن لوگوں نے جنوبی پنجاب صوبہ کی بات کی انہوں نے اسمبلی میں کبھی نئے صوبے پر بات نہیں کی۔ تاریخ ہے کہ ہم نے نئے صولوں کےلئے کام کیا اور پنجاب اسمبلی سے بل پاس کرایا، تمام سیاسی جماعتیںمل کر بیٹھیں اور نئے صولوں کے حوالے سے فیصلہ کریں۔نئے صولوں کا مطالبہ کے پی، سندھ اور بلوچستان میں بھی ہورہا ہے، آئیں بیٹھیں اور اتفاق رائے سے مسئلہ حل کریں۔ پریس کانفرنس کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ سیاسی جماعتیں بیٹھیں گی تو مسائل حل ہوں گے۔ ایک جماعت ایسے فیصلے نہیں کر سکتی۔ جنہوں نے پارٹی چھوڑی ان کو جولائی میں پتہ لگ جائے گا۔ وفاداریاں بدلنے کا زمانہ گزر چکا ہے، آپ عوام کے سامنے جائیں اور بتائیں۔ ہارس ٹریڈنگ کی سیاست ملک سے ختم ہو چکی ہے۔ جنوبی پنجاب میں بھی ترقی مسلم لیگ (ن) کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ہم نے موٹرویز انفراسٹرکچر، سکول، ہسپتال اور دیگر منصوبے بنائے ہیں۔ گزشتہ حکومت کے پاس بھی وسائل تھے لیکن نیت کی کمی تھی۔ ہم نے سازشوں کا بھی مقابلہ کیا اور کام کر کے دکھایا جو نام نہاد کہہ رہے تھے کہ حکومت ایک مہینہ نہیں چلے گی وہ دیکھ رہے ہیں اور مسلم لیگ (ن) اپنے 5سال پورے کررہی ہے۔ عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے عزت کی سیاست کے ساتھ چلنا ہے یا گالی کی سیاست کے ساتھ۔ سی پیک کا منصوبہ بھی ہم نے شروع کیا جس کے باعث ملک ترقی کر رہا ہے۔ مسائل آج بھی ہیں لیکن ہم ملک سے مخلص ہیں اور مسائل حل کررہے ہیں۔5سال میں دنیا نے دیکھا کہ کیا ہوا۔ 28جولائی کو صبح کوحکومت تھی اور دوپہر کو حکومت ختم ہو گئی۔ آج بھی مسلم لیگ (ن) موجود ہے اور اکٹھی ہے۔ ہم نے پھر سے کام شروع کیا اور نواز شریف کے وژن کو جاری رکھا۔ ماضی کی روایات ہیں کہ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں ہوں یہ اچھی روایت نہیں ہے۔ سیاست کے فیصلے پولنگ سٹیشن پر ہوتے ہیں۔ بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نواز شریف کو نکالا گیا، وزارت عظمی سے ہم نے اس فیصلے کو قبول کیا۔ اب زندگی بھر کےلئے نواز شریف کو نکال دیا۔ یہ فیصلہ بھی قبول ہے لیکن تاریخ آپ کو کچھ اور بتائے گی، نواز شریف پر سزائے موت کا الزام بھی تھا۔ آمر نے بھی نواز شریف کو سزا دی، آج وہ آمر اور سزا دینے والے جج کہاں ہیں اور نواز شریف کہاں ہے۔ پاکستان اگر چلے گا تو صرف جمہوریت سے، قانونی تاریخ بدل نہیں سکتی لیکن ان کو عزت نہیں دی جاتی۔ جولائی میں بھی عوامی فیصلہ نواز شریف کے حق میں آئے گا، احمد پورشرقیہ ضلع بنے گا اور وزیراعلیٰ پنجاب خود آکراس کا اعلان کریں گے۔
شاہد خاقان