سانحہ ماڈل ٹاﺅن‘ روزانہ سماعت : پنجاب کی کمپنیاں آج نیب کو ریکارڈ دیدیں : چیف جسٹس

15 اپریل 2018

لاہور (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ نے ریلوے میں مکمل آڈٹ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ وزیر سعد رفیق اور سیکرٹری ریلوے سے آئندہ ہفتے تک خسارہ کے حوالے سے تحریری جواب طلب کر لیا۔ جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ریلوے میں 60 ارب کی مبینہ کرپشن کے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ خواجہ سعد رفیق جب عدالت کے روبرو پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ سعد رفیق روسٹرم پر آئیں اور لوہے کے چنے بھی لائیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ یہ بیان آپ کیلئے نہیں، سیاسی مخالفین کیلئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ نے یاد کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یاد نہیں ہم نے سمن کیا تھا۔ وہ وقت چلا گیا جب عدالتوں کی بے قیری کی جاتی تھی۔ خواجہ سعد رفیق نے بولنے کی اجازت مانگی تو چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے اتنا جارحانہ انداز نہ اپنائیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جارحانہ انداز نہیں اپنا رہا، اپنا م¶قف دینے کی کوشش کر رہا ہوں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں ابھی تک ریلوے میں کتنا خسارہ ہوا ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ ریلوے کا ریونیو 50 ارب اور خسارہ 35 ارب کے قریب ہے۔ ریلوے میں نقصانات کی بہت ساری وجوہات ہیں، آپ آڈٹ کرائیں گے تو ہماری کارکردگی سے مطمئن ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے کام کر رہے ہیں 12 سال بعد ریلوے بہترین ادارہ بن جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا تو کیا پھر عدالت آپ کو انتخاب لڑے بغیر 12 سال کے لیے ریلوے کا وزیر مقرر کر دے؟ تعیناتیوں کے حوالے سے خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ ہم نے میرٹ پر ڈی جی لیگل کو ریلوے میں تعینات کیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں ان کے بھائی کن کن عہدوں پر ہیں۔خواجہ سعد رفیق نے بتایا کہ ایک ایم این اے اور ایک ہائیکورٹ کا جج ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے بعد آپ مزید کوئی بات نہ کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلی مرتبہ قانون کی بالادستی نظر آرہی ہے جس سے کچھ لوگوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ چیف جسٹس نے وفاقی وزیر ریلوے سے استفسار کیا کہ آپ کے دور میں کئی حادثے ہوئے، فوجی ٹرین حادثے میں کتنے افراد شہید ہوئے۔وفاقی وزیر ریلوے نے بتایا کہ 17 فوجی شہید ہوئے جو ڈرائیور کی تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے بھی ساری ذمہ داری ڈرائیور پر ڈال دی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے عدالت سے کہا کہ مجھے بولنے کی اجازت دے دی جائے، غلط فہمی ہے جو میں دور کرنا چاہتا ہوں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے سامنے اتنا جارحانہ انداز نہ اپنائیں، آپ نے دیکھا آپکی باڈی لنگویج کیا تھی، آپ اداروں کی عزت نہیں کریں گے تو کوئی آپ کی بھی عزت نہیں کرے گا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ میں م¶قف دینے کی کوشش کررہا ہوں۔ آپ ہمارے بھی چیف جسٹس ہیں، میں نے عدلیہ کے لئے جیل کاٹی ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپکو دوبارہ جیل ہوسکتی ہے، جب تک عدالت نہیں کہے گی آپ چپ رہیں گے، سعد رفیق نے پوچھا کیا پھر میں بیٹھ جا¶ں؟ جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ جب تک ہم کہیں گے آپ یہیں کھڑے رہیں گے۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر وزیر ریلوے نے کہا کہ اگر مجھے نہیں سننا تو پھر میں چلا چاتا ہوں۔ خواجہ سعد رفیق کی بات پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ چلے جائیں ہم توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، آپ جس نیت سے آئے ہیں وہ ہم جانتے ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ ریلوے کے خسارے بجٹ کا مکمل آڈٹ کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔آپ کچھ دن پہلے کہاں گئے تھے۔آپ جس نیت سے آئے ہیں ہم جانتے ہیںجہاں دو تین روز پہلے گئے تھے وہاں نہیں جانا چاہئے تھا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ رشتہ داری اور شہر داری ہے میں چائے پینے گیا تھا۔ ہہیں پتہ ہے کہ کونسی چائے پینے گئے تھے اور کیا سفارش کروانے گئے تھے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بس اس بات کو چھوڑیں ورنہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کہاں گئے تھے۔ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ اب جہاد کا راستہ اپنایا ہے کوئی کچھ بھی کہے یا کرے بس سب کچھ میرٹ پر ہو گا۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے سمبڑیال میں روز نامہ نوائے وقت کے صحافی کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم عمران عرف مانی کی گرفتاری کیلئے 10 دن کی مہلت دیدی۔ آئی جی پنجاب نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ملزمان ثقلین اورشاہد کو گرفتار کر لیا ہے مگر مرکزی ملزم تا حال مفرور ہے۔ سماعت عدالت نے آئی جی پنجاب سے استفسار کیا کہ ملزم ابھی تک گرفتار کیوں نہیں ہوا۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے وزراءاورسرکاری افسروں کے زیراستعمال لگژری گاڑیوں پرازخودنوٹس لے لیا اور ملک بھرکے وفاقی وصوبائی محکموں سے لگژری گاڑیوں کے استعمال پررپورٹ طلب کر لی۔ عدالت نے وزیرریلوے کی بریفنگ کے دوران لگژری گاڑیوں کے استعمال کا نوٹس لیاسپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کتنے وفاقی وزراءحیثیت سے زیادہ گاڑیاں استعمال کر رہے ہیں؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کتنے سرکاری افسران کے زیراستعمال حیثیت سے زائد لگژری گاڑیاں ہیں؟ عدالت نے ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز کے زیر استعمال گاڑیوں کی بھی تفصیلات طلب کر لیں۔ سپریم کوٹ نے سانحہ ماڈل ٹا¶ن سے متعلق ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام مقدمات دو ہفتے میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید احتشام قادر نے سانحہ ماڈل ٹا¶ن کے دونوں مقدمات اور استغاثہ کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔ چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکم دیا کہ شام 4 بجے تک رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ماورائے قانون کوئی اقدام نہیں کریں جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ میرے ججزکی عزت نہ کرنے والا کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے۔ اظہرصدیق ایڈووکیٹ کے بلااجازت بولنے پرچیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ عدالت نہیں جہاں لوگوں کی بے عزتیاں کریں۔ ایک منٹ میں میں وکلاءکا لائسنس معطل کردوں گا، عزت نہ کرنے والے کوکالا کوٹ پہننے کا حق نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصو صی عدالت کے جج اعجاز اعوان کی چھٹی منسوخ کرتے ہوئے انہیں روزانہ کی بنیاد پر سانحہ ماڈل ٹا¶ن سے متعلق مقدمات کی سماعت کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس نے پنجاب پولیس کو صوبے کے تمام عطائی ڈاکٹروں کو ایک ہفتے میں گرفتار کرکے رپورٹ پیش کر نے اور پنجاب حکومت کو تمام سرکاری ہسپتالوں میں صاف پانی کی فراہمی پر علمدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے اور ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ نامکمل ٹیسٹنگ والی ادویات کو 6 ہفتوں میں مکمل کیا جائے۔ ہرنئی آنے والی دوا کی 30 یوم میں ٹیسٹنگ مکمل کر کے ہسپتالوں کو فراہم کی جائے۔ لاہور رجسٹری میں سرکاری ہسپتالوں کی ابتر صورتحال پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔ پنجاب حکومت کی جانب سے مشیرِصحت خواجہ سلمان رفیق پیش ہوئے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ مشیرِ صحت خواجہ سلمان رفیق بیانِ حلفی دیں کہ وہ 30 روز میں ہسپتالوں میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ مشیرِ صحت نے جواب دیا کہ میں عدالت کو یقین دلاتا ہوں کہ عدالتی حکم پر من و عن عملدرآمد ہوگا۔ عدالت نے محکمہ صحت کی تمام خالی اسامیاں مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پبلک سروس کمشن کے ذریعے محکمہ صحت میں بھرتیوں کا عمل مکمل کیا جائے۔ عدالت نے چیف سیکرٹری کے بیان کی روشنی میں حکم جاری کیا۔ چیف سیکرٹری نے عدالت میں موقف پیش کیا کہ الیکشن سے قبل بھرتیاں نہیں کی جاسکتیں تاہم پنجاب پبلک سروس کمیشن کو اس حوالے سے استثنا حاصل ہے جس پر عدالت نے محکمہ صحت میں بھرتیاں مکمل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس نے پنجاب ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں ادویات کی بروقت ٹیسٹنگ نہ ہونے پر بھی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، لیبارٹری کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں بتایا گیا کہ اب تک 1300 ادویات میں سے 1077 کی ٹیسٹنگ مکمل کرلی گئی ہے اور صرف 270 ادویات کی ٹیسٹنگ مکمل ہونا باقی ہے۔ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور اور نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلرز نے سپریم کورٹ کے نوٹس پر رضاکارانہ طور پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دےدیا۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیئے ہیں کہ جانوروں کے ڈاکٹر کو انسانوں کے ہسپتال میں تعینات کر دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک موقع دیتے ہیں عزت سے جائیں اور استعفے دے دیں ورنہ عدالت انہیں معطل کرنے کا حکم دے گی۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ سرچ کمیٹی ازسر نو امیدواروں کا جائزہ لیکر اپنی سفارشات سپریم کورٹ کو پیش کرے۔اگر دوبارہ سرچ کمیٹی کی سفارشات میں غلطی نظر آئی تو خود سے تعیناتی کا حکم دیں گے چیف جسٹس نے وائس چانسلرز کو مخاطب کرتے کرتے ہوئے کہا کہ خود سے سوچ لیں اور موقع دیتے ہیں استعفی دے کر اپنی عزت بچائیں۔ عدالتی حکم پر نشتر میڈکل یونیورسٹی ملتان کے وی سی ڈاکٹر ظفر تنویراور یو نیورسٹی آف ہیلتھ سائینسسز لاہور کے وی سی ڈاکٹر فیصل مسعود نے رضاکارانہ طور پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ عدالت نے دونوں یونیورسٹیوں کے سینیر ترین پروفیسر کو عبوری وائس چانسلر تعینات کرنے حکم دیا۔ صاف پانی کمپنی میں مبینہ بے ضابطگیاں سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت میں بیوروکریسی سے صاف پانی کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں میں تعینات کئے جانے والے بیوروکریٹس کو طلب کر لیا۔ صاف پانی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سے عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے بھی لینڈ کروزر رکھی ہوئی ہے..چیف ایگزیکٹو نے عدالت کو بتایا کہ میرے پاس فارچونر گاڑی ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ گاڑی جو آپکے پاس ہے، کتنے کی ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ 65 لاکھ کی گاڑی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ جتنے بیوروکریٹس کمپنیوں میں گئے ہیں انہیں انکے گریڈ کے مطابق تنخواہ ملے گی۔ زیادہ تنخواہ واپس کرنا ہوگی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہریوں کو بنیادی حقوق میسر نہیں اور آپ گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ کسی سکول کی چاردیواری نہیں ہے تو کسی کے واش روم نہیں ہیں۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ زائد تنخواہیں لینے والے افسروں سے پیسے وصول کر کے صحت و تعلیم پر لگائے جائیں۔ عدالت نے نیب کے وکیل سے استفسار کیا کہ سنا ہے کوئی وزیر نیب کو گالیاں دے رہا ہے۔کوئی نیب کو گالیاں دے تو سپریم کورٹ سے رجوع کریں،عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کی خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا اوپر صاف پانی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ