امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس نے شام پر میزائلوں کی بارش کر دی‘ متعدد عمارتیں تباہ

15 اپریل 2018

دمشق+ واشنگٹن (بی بی سی+ اے ایف پی+آن لائن+ نوائے وقت رپورٹ) امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر میزائلوں سے حملہ کر دیا، حملوں میں امریکی بحریہ اور جنگی طیاروں نے حصہ لیا اور متعدد عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ بحیرہ روم سے شام کی کیمیائی تنصیبات پر کروز میزائل داغے گئے۔ شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا، پہلا ہدف کیمیائی سائنسی لیب تھا۔ کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں اور 2 تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا۔ دمشق میں متعدد دھماکے سنے گئے۔ کئی مقامات سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔حملوں سے متعلق روس کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں کی گئی۔ شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے میزائل حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ امریکہ نتائج بھگتنے کیلئے تیار رہے۔ روسی صدر ولادی پیوٹن نے شام پر حملے کی سخت ترین طریقے سے مذمت کی ہے۔ روسی سرکاری ٹی وی کےمطابق صدر نے حملے کو جارحیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈرامہ تھا اور یہ حملے کا بہانہ تھا۔ روس کے ڈپٹی چیئرمین دفاعی کمیٹی ٹوما نے کہا ہے ٹرمپ اور ہٹلر ایک ہیں بلکہ ٹرمپ ہٹلر ثانی ہیں۔ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس ہوا اور روس نے فوجی ایکشن کی مذمت کرنے کی قرارداد پیش کی۔ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے شام پر مغربی ممالک کا حملہ ایک جرم ہے جو بے سود رہے گا۔ انہوں نے کہا امریکہ اور اتحادی شام میں جرائم سرزد کرکے کچھ حاصل نہیں کریں گے۔ شام پر حملے کرنا جرم ہے اور امریکی صدر‘ برطانوی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر مجرم ہیں۔ ترکی نے بشارالاسد کیخلاف حملے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ترکی وزارت خارجہ کے بیان میں اسے مناسب کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ ایران کی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے امریکہ‘ شام کیخلاف جو جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں یہ آزادی اور مزاحمتی تحریکوں کیخلاف ہے۔ یہ جنگ اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکے گی۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے امریکہ اور اتحادیوں سے کہا ہے وہ شام میں عام شہریوں کی حفاظت کی کوشش کریں۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے ہم طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتے ہیں۔ شام کے متعدد مسافر طیارے دمشق سے ایران پہنچانے کی اطلاعات ہیں۔ شام پر میزائل حملے پر سلامتی کونسل کا اجلاس آج ہو گا۔ غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق سلامتی کونسل کا اجلاس روس کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے شام پر امریکی اتحادیوں کے حملے کی حمایت کر دی۔ سعودی وزارت خارجہ نے کہا ہے امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس کے شام پر حملے کی حمایت کرتے ہیں۔ حملے شامی حکومت کے جرائم کے خلاف کئے گئے ہیں۔ حملے معصوم شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ردعمل ہے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا ہے اب تک کی معلومات کے مطابق شام پر حملے کامیاب رہے‘ یہ حملے صحیح اور جائز تھے۔ ان کارروائیوں کا مقصد شام کی حکومت کو واضح پیغام پہنچانا تھا۔ شام پر امریکی حملے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا روس نے شام کی جانب سے کیمیائی حملے نہ کئے جانے کی یقین دہانی پوری نہیں کی۔ سارے حالات کے بعد شام میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ کارروائی کا مقصد شام میں حکومت کی تبدیلی اور شام کی خانہ جنگی میں مداخلت نہیں ہے۔ شام میں بشارالاسد کی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکا اس لئے عالمی برادری شہریوں پر کیمیائی حملے کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا عالمی برادری شام کے تنازع کا خاتمہ چاہتی ہے‘ کسی بھی وزیراعظم کے لئے اپنی فوج کو حملے کا حکم دینا آسان نہیں ہوتا‘ یہ کارروائی برطانیہ اور اس کے عوام کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا دیگر ملکوں کے لئے بھی یہ پیغام ہے عالمی برادری کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال برداشت نہیں کرے گی۔ امریکی عہدے دار نے بتایا حملے میں ٹوما ہاک میزائل استعمال کئے گئے‘ بی بی سی کے مطابق ایک اندازے کے مطابق 100سے 120میزائل فائر کئے گئے تاہم ان میں سے کتنے اہداف تک پہنچے کتنے مار گرائے۔ اس بارے میں دونوں دھڑوں کی جانب سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ حملے دمشق اور حمص کے قریب کئے گئے۔ شام نے 13میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے شام پر حملہ کیمیائی حملے کا جواب ہے۔ فوجی کارروائی جاری رکھنے پر تیار ہیں۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزامے نے کہا ہے کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ حملے کے سوا کوئی اور آپشن نہیں تھا۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی شام پر فضائی حملوں کی حمایت کر دی جبکہ شام نے کہا ہے کہ حملہ کرکے جنگی اصولوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ امریکہ کا دہشت گردوں کی طرح سامنا کر رہے ہیں۔ اے پی پی کے مطابق شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو¿ کے ادارے او پی سی ڈبلیو کے ساتھ اپنے مکمل تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ادارے کی ٹیم کے ارکان غوطہ شرقی کے شہر دوما کے جس حصے میں بھی جانا چاہیں گے ان کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں گی ۔کیمیائی ہتھیاروں کے عدم پھیلاو¿ کے ادارے او پی سی ڈبلیو نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایک تحقیقاتی ٹیم شام روانہ کی ہے۔ اس دوران اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے کہا ہے کہ ان کی حکومت اس ٹیم کے ارکان کو دوما کے کسی بھی حصے اور محلے میں جانے کے لئے پوری سہولت فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ او پی سی ڈبلیو کی ٹیم کی شام روانگی میں ہر طرح کی تاخیر اس ادارے پر امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے دباو¿ کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ملکوں کی کوشش تھی کہ یہ ٹیم دوما کا دورہ نہ کرسکے - شام کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ دمشق اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کے ساتھ مکمل تعاون اور او پی سی ڈبلیو کے ایک رکن کی حیثیت سے اپنے سبھی وعدوں پر عمل کرنے کے لئے تیار ہے ۔ دریں اثناءشام کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے مبصر گروپ سیرین آبزرویٹری نے کہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں جنگجو اپنے خاندانوں سمیت شامی قصبے دوما سے نکل گئے ہیں۔ آبزرویٹری کے مطابق شدت پسند گروپ جیش الاسلام کے ہزاروں کارکنوں اور عام شہریوں کو شمالی شام کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حملوں میں امریکی بحریہ اور جنگی طیاروں نے حصہ لیا ۔ بحیرہ روم سے شام کی کیمیائی تنصیبات پر کروز میزائل داغے گئے۔ امریکی میڈیا اور دفاعی حکام کے مطابق حملے میں ٹوماہاک کروز میزائل، بی ون بمبرز، بحری جہاز اور امریکی جنگی طیاروں کا استعمال کیا گیا۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا تھا شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس میں دمشق کا سائنسی تحقیق ادارہ ، حمص کے مغرب میں واقع کیمیائی ہتھیار رکھنے کا مرکز اور حمص کے نزدیک ہی کیمیائی ہتھیاروں کے ساز و سامان رکھنے کی جگہ اور اہم کمانڈ پوسٹ شامل ہیں ۔ امریکی وزیر دفاع جمیز میٹس کے مطابق فضائی حملہ شام کے صدر بشارالاسد کو پیغام پہچانے کے لیے ون ٹائم شوٹ تھا۔ جیمز میٹس نے کہا شام پر حملوں میں کیمیائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ کیمیائی تنصیبات جہاں بھی ہوں گی نشانہ بنائیں گے ، شام پر مزید حملوں کی پلاننگ نہیں۔ مستقبل میں حملوں کا تعلق صدر بشارالاسد کے رویے پر ہوگا۔پینٹا گون کا کہنا تھا دمشق میں پہلا ہدف کیمیائی سائنسی لیب تھا۔ کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ کیمیائی تنصیبات کی تباہی بشارالاسد حکومت کے لیے دھچکا ہوگی۔ جنرل ڈنفورڈ نے کہا اہداف کو نشانے کے بعد شام پر حملے روک دیئے ہیں۔ حملوں سے متعلق روس کو آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا شام پر حملہ روس کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔ حملہ گزشتہ ہفتے کئے گئے کیمیائی حملوں کا جواب تھا۔ شام پر حملوں کا تسلسل برقرار رہے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ مہذب دنیا کا ساتھ دینا ہے یا تاریک راستے کا۔امریکی صدر نے کہا امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا مشترکہ آپریشن کیا جارہا ہے۔ ہم یہ کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کا کہنا تھا شام پر طاقت کے استعمال کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ اپنی فوج کو حملے کی اجازت دی ہے۔ پوری کوشش ہوگی حملے میں عام شہریوں کا نقصان نہ ہو۔ حملوں کا مقصد شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔ فرانس کے صد ر امانویل میکرون نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا حملے کی منظوری اس لیے دی کیونکہ درجنوں مرد، عورتوں اور بچوں کا کیمیائی ہتھیاروں سے قتل عام کیا گیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا ایک ریڈ لائن کراس کی گئی ہے۔گزشتہ برس اپریل میں بھی امریکہ نے 59 کروز میزائلوں سے حمص کے قریب واقع شامی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا ۔ یہ کارروائی حلب میں شہریوں پر کیمیائی مادے سے مبینہ حملے کا ردعمل تھی۔ شامی صدر بشارالاسد نے کہا کہ 30 میزائل آئے ، ایک درجن سے زائد میزائل تباہ کر دیئے۔ٹرمپ نے کہا شامی صدر بشارالاسد کا کیمیائی حملہ انسان نہیں شیطان کا کام ہے جبکہ امریکہ کیمیائی ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کو سختی سے روکے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں شام پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے کہا امریکی مسلح افواج کو شامی آمر بشارالاسد کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات پر حملے کا حکم دیا ہے۔ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر یہ مشترکہ آپریشن کیا جارہا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری، پھیلاو¿ اور استعمال کو سختی سے روکنا ہے، ہم شامی حکومت کے خلاف اس طرح کی کارروائی اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک وہ ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بند نہیں کردیتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے صدر بشار الاسد کے کیمیائی حملوں کے بارے میں کہا کہ اس بدترین اور شیطانی حملے میں بچوں اور بڑوں کے دم گھونٹ دیے گئے اور شدید اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ شیطان کے جرائم ہیں۔ میں روس اور ایران سے پوچھتا ہوں کہ کون سا ملک معصوم مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل عام میں ملوث ہونا چاہے گا، یہ دونوں ممالک مجرم بشارالاسد کی سب سے زیادہ مدد کر رہے ہیں، اسے اسلحہ دے رہے ہیں اور مالی معاونت کررہے ہیں۔ شام پر حملے کے بعد روس نے حملے کو کھلی جارحیت قرار دےتے ہوئے کہا امریکہ کو کسی نہ کسی قسم کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑیگا۔ غےر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ میں روسی سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا بدترین خدشات حقیقت کا روپ لے رہے ہیں۔ ایسے اقدامات نتائج کے بغیر نہیں جانے دیں گے۔ روسی صدر کی بے عزتی کرنا نا قابلِ قبول ہے۔روسی وزارت خارجہ کا کہنا تھا مغربی ممالک کی جانب سے شام پر حملہ ایسے وقت میں کیا ہے جب شام کا پرامن مستقبل کا امکان تھا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹرس نے کہا سرد جنگ کا آغاز پھر ہو گیا ہے۔ حملے کے اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ ارکان کی جانب سے امریکی کانگریس سے بغیر مشورے کے حملے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر ٹم کین نے اسے غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا اس سے مسٹر ٹرمپ کو ایران اور شمالی کوریا پر بمباری کے لیے حوصلہ افزائی ملے گی۔ کانگریس کے ریپبلیکن رکن تھامس میسی نے بھی اسے غیر آئینی قرار دیا۔واشنگٹن ڈی سی میں شام میں حملے کے خلاف وائٹ ہاو¿س کے باہر احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ شام کے صدر بشار الاسد نے امریکہ اور اس کے دو اتحادیوں کی جانب سے شام پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کینیڈا کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حمایت کرتا ہے۔ نیٹو کے سربراہ نے شام پر حملوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔برطانوی وزیراعظم نے کہا شام پر حملے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ شام پر حملے کا فیصلہ برطانوی عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا شام پر حملہ کھلی جارحیت ہے۔ حملے کے نتائج کی ذمہ داری واشنگٹن، پیرس اور لندن پر ہو گی۔ روسی سفیر کا کہنا تھا کہ امریکہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ امریکہ اور اتحادیوں نے کہا ہے کہ بشار الاسد کی فوج نے سات سال کی خانہ جنگی کے دوران 50بار کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔شامی صدر کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت ملتی رہی تو یہ تمام اقوام اور عوام کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سر براہ حسن نصر اللہ کہتے ہیں کہ شام میں اسرائیلی حملہ دراصل ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے مترادف ہے۔برطانیہ نے شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے روسی دعوے کی تردید کی تھی۔شام نے کہا تھا کہ امریکہ اور یورپ دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ادھر روسی جنگی جہاز کا بحیرہ روم میں سفر جاری ہے جس کے جلد شام پہنچنے کا امکان ہے۔ برطانوی وزیراعظم نے کہا اب تک کی معلومات کے مطابق شام پر حملے کامیاب رہے۔یہ حملے صحیح اور جائز تھے،ان کارروائیوں کا مقصد شام کی حکومت کو واضح پیغام پہنچانا تھا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس نے شام کی جانب سے کیمیائی حملے نہ کیے جانے کی یقین دہانی پوری نہیں کی۔سارے حالات کے بعد شام میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
شام