کراچی میں 562 کچی آبادیاں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے جرائم اور منشیات پنپتی ہے

15 اپریل 2018

کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان مورٹگیج ری فنانس کمپنی کے شیئرز ہولڈرز معاہدوں پر دستخط کی تقریب کراچی کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک سمیت مختلف بینکوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ تفصیلات کے مطابق تقریب کے مہمان خصوصی ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد تھے۔ پی ایم آر سی تقریب میں نیشنل بینک کے صدر سعید احمد سمیت بھی شریک ہوئے۔ پاکستان مورٹگیج ری فنانس کمپنی میں حکومت پاکستان اور اسٹیٹ بینک کے علاوہ 10 بینکس شراکت دار ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ سندھ کچی آبادی محکمے کے مطابق کراچی میں 562 کچی آبادیاں ہیں۔ ان کچی آبادیوں میں بنیادی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں ، جرائم اور منشیات پنپتی ہے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مرکزی بینک نے پی ایم آر سی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2020 وڑن میں ہاؤسنگ ،زراعت اور ایس ایم ای بنیادی نکات میں شامل ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں چیئرمین پی ایم آر سی رحمت علی حسنی نے کہا کہ پی ایم آر سی کی شکل میں پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ ہاؤسنگ کو نئی شکل دے گا، یہ متوسط و کم آمدنی والے افراد کی ضروریات کو پورا کرے گا۔ رحمت علی حسنی نے کہا کہ پی ایم آر سی میں نجی شعبے کی شمولیت 51 فیصد ہے، ورلڈ بینک نے 140 ملین ڈالرز کی کریڈٹ لائن دی ہے۔ سی سی او پی ایم آر سی مسٹر روپن نے کہا کہ 2013 سے کمرشل اور اسلامی بینکوں کی ہائوس فنانس نے ترقی کی ہے۔ گھروں کی لاگت کا معاملہ بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھر بنانے کی لاگت کم کرنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 4 سے 6 لاکھ گھروں کی طلب بڑھ رہی ہے، پی ایم آر سی مئی 2018 سے کام کرنا شروع کردے گی۔ تقریب میں عالمی بینک کی پاکستان میں نمائندہ ناموس ظہیر بھی شریک تھیں۔ ناموس ظہیر نے کہا کہ ہاؤس فنانس عالمی بینک کی فنانشل انکلوڑن پالیسی کا حصہ ہے۔ عالمی بینک پاکستان میں گرین مورٹگیج کلچر کو فروغ دے گا۔ تقریب کے اعزازی مہمان اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ثمر حسنین تھے۔ اس موقع پر بینکوں کے نمائندگان نے اپنے صدور کی موجودگی میں بطور شیئرہولڈرز معاہدوں پر دستخط کیے۔ معاہدہ کرنے والے بینکوں میں نیشنل بینک، حبیب بینک لمیٹڈ، بینک الحبیب، ایچ بی ایف سی، الائیڈ بینک لمیٹڈ، عسکری کمرشل بینک، بینک الفلاح، سمٹ بینک اور یو بی ایل شامل تھے۔ پی ایم آر سی کی جانب سے سی ایف او اور کمپنی سیکریٹری ذوالفقارعالم نے معاہدوں پر دستخط کیے۔