دریا درست ہے نہ کنارہ درست ہے

15 اپریل 2018

شاید عمران خان نے پہلی بار سیاست کی اب آخری بار بھی اسی طرح کی سیاست کرے گا۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے چیئرمین سینٹ نہ آیا تو مسلم لیگ ن کی طرف سے بھی نہیں آیا۔ زرداری صاحب کی سیاست تو کامیاب ہوئی۔ سیاست عمران خان کی بھی کامیاب ہوئی۔ پاکستان کا سب سے بڑا سیاستدان آصف زرداری ہے۔ اب عمران خان بھی سیاستدان بن چکا ہے۔ تحریک انصاف چیئرمین سینٹ کے لئے اپنا امیدوار کھڑا کر سکتی تھی۔ مگر وہ ہار جاتا۔ ہار تو زرداری صاحب کو بھی نظر آ رہی تھی۔ پچھلی دفعہ بھی زرداری صاحب نے اپنا چیئرمین سینٹ بنوا لیا تھا۔ یہ ایک بڑی معرکہ آرائی ہے کہ سینٹ کا چیئرمین اپوزیشن سے منتخب ہوا ہے۔
زرداری صاحب اب نوازشریف کے تعاقب میں بہت دور جا چکے ہیں۔ اگر زرداری عمران ”گٹھ جوڑ“ ن لیگ کے چیئرمین سینٹ کے لئے ایسی کوشش کرتا تو بلاول کو کوئی ”بات“ کہنا پڑ جاتی اور مزا آ جاتا۔
وہ عمران خان اور نوازشریف کے ساتھ ایک جیسا سلوک کر رہا ہے۔ یہ بھٹو کا سیاسی سٹائل ہے۔ بےنظیر بھٹو کا انداز سیاست اپنے گھر والوں سے ملتا جلتا تھا ۔مگر انہیں ایک انفرادیت حاصل تھی۔ اکثر عورتوں کے لئے خاتون لیڈر کا لقب استعمال ہوتا ہے۔ ان کے پاس سیاسی نسوانیت کا کمال تھا۔ انہوں نے بڑی بہادری سے سیاست کی۔ اب زرداری صاحب کوئی انوکھا ہی سیاسی منظر دکھانے والے ہیں۔ انہوں نے مہارت قیادت اور سیاست کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ بھی ایک کارنامہ ہے کہ آصف زرداری نے ایوان صدر میں اپنی مدت اقتدار بڑی خوش اسلوبی اور دوستانہ کیفیتوں میں گزاری، 2018ءکے متوقع انتخابات میں بھی سیاسی سلیقہ اسی طرح استعمال کیا گیا تو نوازشریف کے لئے سیاست میں رہنا مشکل ہو جائے گا۔
مگر عمران خان نے بھٹو سٹائل اپنایا تو انجام بہتر نہ ہوگا۔ پیپلزپارٹی کے لیڈر برادرم شوکت بسرا نے بھی عمران، زرداری کے درمیان ایک سیاسی دوستی کو پسند کیا۔ ویسے ایک طبقہ ہے جو نوازشریف کو آتا دیکھ رہا ہے ۔ اتنی آہستگی کبھی نوازشریف کی سیاست میں نہ تھی۔
نوازشریف کو مریم نواز اور شہبازشریف کے لئے بھی فکر مندی ہے۔ اب جو الجھنیں نوازشریف، اور مریم نواز کے لئے انہیں بہت تنگ کر رہی ہیں۔ انہیں لگتا ہے اب سیاست اور حکومت شریف فیملی میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتی۔ ”جمہوریت جمہوریت“ کا شور مچانے والے خفیہ رائے دہی کی حفاظت کر نہیں سکے وہ ہارس ٹریڈنگ کو کیسے روکیں گے۔
پہلے سیاسی لوگوں کے پاس اتنا پیسہ نہ تھا۔ اب پیسہ آیا ہے تو اس کے لئے تو اس کی باہمی تجارت اور حکومتی وضاحت کے لئے بہت کچھ کرنا پڑ رہاہے۔ بظاہر صورتحال بڑی سادہ ہے۔ شہبازشریف اس راستے پر ہیں جہاں ابھی نوازشریف کے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے۔ اب ووٹوں کی سیاسی خرید و فروخت میں بڑی آسانی ہے۔
سیاستدان الیکشن کمشن کو ہومیو پیتھک ادارہ سمجھتے ہیں۔
اب تو لوگ ٹی وی چینلز پر غیر سیاسی گفتگو سننے کی خواہش بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ اب لوگ کسی شاعر ادیب اور گلوکارہ کو اپنے لئے آئیڈیل نہیں سمجھتے کسی کھلاڑی کے لئے شاید کوئی امنگ بیدار ہوتی ہو۔ کھلاڑی بھی صرف کرکٹ کا ہو، ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور اس کا بھی وہی حال کیا ہے جو قومی زبان، قومی لباس اور قومی کلچر کا کیا ہے۔
اب اگر ہیرو کوئی ہے تو وہ کرکٹ کے حوالے سے معرکہ آرائی کرتا ہے۔ فلموں والے ہیرو اور ہیروئن اب کہیں چھپ گئے ہیں۔ پچھلے دنوں تحریک انصاف عائشہ گلا لئی کو جس طرح شہرت ملی اس کی کوئی مثال فوراً ذہن میں نہیں آتی۔
یہ بھی پارلیمنٹ میں ہمیشہ ہمیشہ بیٹھنے والے سیاستدان کی اصطلاح ہے کہ پارلیمنٹ برائے فروخت بیٹھ رہی ہے مگر اب کے کارروائی کھلم کھلا ہو رہی ہے۔ اب کالم لکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کیونکہ سارے سیاستدان ایک جیسی باتیں کر رہے ہیں مگر میرے خیال میں کالم میں ندرت ہونی چاہئے۔ اس کالم کا عنوان نامور سینئر ترین شاعر اور منفرد کالم نگار ظفر اقبال کی غزل کا ایک مصرعہ ہے ان کے لئے آصف فرخی کہتے ہیں۔ ”چھوٹی سمٹی سکڑتی ہوئی محدود اور پابند زندگی ہمارے دور کا مزاج بن گئی ہے۔ دنیا کی چادر سے پاﺅں پھیلا کر باہر جھانکیں تب اندازہ ہو گا کہ غزل گو یعنی ظفر اقبال کیا کارنامہ سرانجام دے رہا ہے۔
دریا درست ہے نہ کنارہ درست ہے
کوئی مجھے بتائے یہاں کیا درست ہے
سر پیر اس کا یوں تو کوئی نہیں مگر
یہ آپ کی بلا ہے لہٰذا درست ہے
اودھم مچا رکھا ہے اچکوں نے ہر جگہ
اس مال و زر پہ آپ کا پہرہ درست ہے
٭٭٭٭٭