پی آئی اے اور پی ٹی وی کی صورتحال اورسپریم کورٹ کا نوٹس

15 اپریل 2018

پی آئی اے اور پی ٹی وی پاکستان کے دو ایسے ادارے ہیں جو ہوا کے دوش پر دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم لئے بغیر کسی رکاوٹ کے ہرجگہ پہنچ جاتے ہیں۔ پی ٹی وی اپنے قیام سے لے کر اب تک تمام تر تنقید کے باوجود اپنی قومی ذمہ داری نبھا رہا ہے۔ ملک میں خواہ کسی طرز کا سیاسی نظام ہو،پی ٹی وی اسی کی غمازی اور ترجمانی کرتا نظر آئے گا ۔ پی آئی اے کی طرح پی ٹی وی کے حوالے سے یوں تو بہت سے پہلوﺅں پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے جس پر انشااللہ آئندہ کالموں میں اظہار خیال ہو گا۔ آ ج پی آئی اے کے حوالے سے جو حقائق میرے سامنے ہیں وہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہیں۔گزشتہ کئی سالوں سے پی آئی اے جس بحران کا شکار رہا ہے وہ پاکستانی میڈیا باالحضوص نجی چینلز کے لیے اہم موضوع بحث رہا ہے۔
دیر آئید درست آئید کے مصداق اب تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی جمعرات کے دن جس انداز میں پی آئی اے کی صورتحال کا نوٹس لیا ہے اس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ اب اداروں کی چیف ایگزیکٹوز کی باری آنے والی ہے۔ عدالت نے دس سال کے دوران تعینات رہنے والے پی آئی اے کے ایم ڈیز کے بیرون ملک جانے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ کے علم میں یہ بات بھی لائی گئی ہے کہ پی آئی اے کے ایک سابقہ ایم ڈی مفرور بھی ہیں۔ جرمن نژاد یہ ایم ڈی پی آئی اے کا ایک جہاز بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سن 2000سے لے کر اب تک ان اٹھارہ سال کے دوران پی آئی اے کو 360ارب روپے نقصان ہوا ہے۔ عدالت نے پی آئی اے کیس میں معاونت کے لیے ممتاز ماہر معاشیات ڈاکٹر فرخ سلیم کو معاون مقرر کیا ہے تا کہ وہ آئندہ سماعت کے مو قع پر عدالت کی مدد کریں۔
چند ہفتے پہلے ڈاکٹر فرخ سلیم نے ایک ٹی وی پروگرام میں پاکستان کے قومی اداروں میں ہونے والے خساروں کی جو تفصیلات دی ہیں وہ دہلا دینے والی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کا سالانہ نقصان45ارب روپے ہے جبکہ اس کا روزانہ خسارہ 13کروڑ روپے ہے۔ بنگلہ دیش کی سرکاری ائیر لائن کا روزانہ منافع150کروڑ ٹکہ ہے۔ پی آئی اے کے اثاثہ جات 150ارب روپے جبکہ پی آئی اے پر 480ارب کا قرض ہے۔ پی آئی اے سالانہ تقریباً تین لاکھ ٹکٹ مفت دیتا ہے جس سے پی آئی اے کو سالانہ پانچ ارب روپے نقصان ہو رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان ریلویز سالانہ 41ارب روپے کا نقصان کر رہی ہے جبکہ انڈین ریلوے سالانہ ستر سو کروڑ انڈین روپے منافع کماتی ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کو سالانہ 180ارب روپے نقصان ہوتا ہے۔
پی آئی اے کے شعبہ انجینئرنگ میں بھی بڑے پیمانے پر غیر ضروری پرزہ جات خریدنے کے حوالے سے بڑے سکینڈلز کی خبریں آتی ہیں۔کیٹرنگ کے حوالے سے بھی کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان سب کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب اکثر پبلک سروس اداروں کے سربراہوں کے پاس نہیں ہے۔ایک دانش مند کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ادارے کا سربراہ یہ فیصلہ کر لے کہ قومی اور ادارہ جاتی مفاد کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دوں گا تو ہر ادارہ ٹھیک ہو سکتا ہے۔ کیونکہ" برف ہمیشہ چھوٹی سے پگھلتی ہے"۔
پی آئی اے کے عروج و زوال کی کہانی فی الحقیقت پاکستان کے سیاسی نظام کے اتار چڑھاﺅ سے مطابقت رکھتی ہے۔ 1965کی پاک بھارت جنگ سے پہلے پی آئی اے دنیا کی نمبر1ائیر لائنز تھی۔ 1965 سے 1971 تک بھی پی آئی اے کا شمار دنیا کی ممتاز ائیر لائنز میں تھا۔ 1971کی پاک بھارت جنگ اور پھر مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے بعد بین الاقومی طور پر پاکستان کو جو ہزیمت اٹھانی پڑی اس کے اثرات ملک کے سیاسی اور معاشی نظام کے ساتھ ساتھ تمام اداروں پر پڑنے لگے۔ غیر مستحکم سیاسی نظام کی بدولت فیصلہ سازی متاثر ہوئی، ترجیحات کا صحیح تعین نہ ہوا اور بتدریج ملک کے ہر ادارے میں سیاسی مداخلت اور کرپشن نے گھیرا ڈال لیا۔ہر دور میں بے جا بھر تیاں ہوئیں۔ ہوائی جہازوں اور پرزہ جات کی خرید میںکمیشن کی وبا سرایت کر گئی۔پی آئی اے یونین متحارب سیاسی جماعت کے طور پر کام کرنے لگی۔پی آئی اے کے ایم ڈی اور چیئرمین ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر تعینات ہونے لگے اس طرح یہ عظیم قومی ادارہ اس سطح پر پہنچ گیا کہ قوم کی اکثریت کا اعتماد اب پی آئی اے سے اٹھ چکا ہے۔ پی آئی اے کی پیشہ وارانہ طور پر تنظیم نو کے ساتھ اس کی مالیاتی امور کو بھی بہتر بنانا ضروری ہے۔
پی آئی اے کو1964 میں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہ پہلی غیر کیمونسٹ فلائٹ کمپنی تھی جسے چین تک پرواز کی اجازت ملی۔ پی آئی اے نے صومالیہ ائیر لائنز، مالٹا ائیر لائنز، یمن ائیر لائنز ،سنگاپور ائیر لائنزاور متحدہ عرب امارات ائیر لائنز کے قیام میں مدد دی۔
پی آئی اے ایک ایسا ادارہ ہے جس کا منافع خود اس کے اندار موجود ہے۔ جس ائیر لائن کے ذریعے ہر سال لاکھوں حاجی اور عمرے کے مسافر سفرکرتے ہوں اور بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانی وطن آنے اور یہاں سے واپس جانے کے لیے پی آئی اے میں نشست حاصل کرنے کے لیے سفارشیں ڈھونڈتے ہوں وہ ائیر لائن کس طرح خسارے میں جا سکتی ہے۔ سپریم کورٹ سے عوام توقع رکھتے ہیں کہ وہ پی آئی اے اور دوسرے اداروں کی صورتحال کا جائزہ لے کر ان اداروں کو قومی امنگوں کے مطابق بنانے کے لیے ان کی انتظامیہ کی گرفت کریں گی۔
حال ہی میں سپریم کورٹ نے پی ٹی وی جیسے قومی ادارے میں بھی لوٹ مار اور اقربا پروری کا نوٹس لیا ہے۔ اس قومی ادارے کو بھی تباہی سے بچانے کے لیے اگر بر وقت اقدامات نہ کئے گئے تو پی ٹی وی کا حشر بھی پی آئی اے اور سٹیل ملز سے مختلف نہ ہو گا۔ امید واثق ہے کہ سپریم کورٹ پی آئی اے کی طرح ، ریلویز، سٹیل ملز اور پی ٹی وی کے معاملات پر بھی خصوصی توجہ دی گی تا کہ ان اداروں کو بھی مکمل تباہی اور بربادی سے بچایا جاسکے۔

EXIT کی تلاش

خدا کو جان دینی ہے۔ جھوٹ لکھنے سے خوف آتا ہے۔ برملا یہ اعتراف کرنے میں لہٰذا ...