بھارت کے اندر تحریک کشمیر‘ امن شہداءکی قربانیوں کا صدقہ!

15 اپریل 2018

غالب کے مصرع میں تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ”حد چاہئے ظلم میں عقوبت کے واسطے“ ظلم حد سے بڑھ جائے تو پھر وہ لمحہ آتا ہے جب مظلوم ”اِدھر آستم گر ہنر آزمائیں، توتیر آزما ہم جگر آزمائیں “ کی للکار کے ساتھ ظالم کے سامنے سینہ سپر ہوجاتا ہے آج وادی کشمیر پر نظر ڈالی جائے تو پورے بانکپن کے ساتھ اس حقیقت کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے 70 سال سے بھارتی فوج کا ظلم سہنے والے آج اس کے لئے لوہے کے چنے ثابت ہورہے ہیں ۔ موت کے گھاٹ اتارنے، جیلوں میں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے، پیلٹ گنوں سے معذور کرنے اور عفت مآب خواتین کو بے آبرو کرنے جیسے گھٹیا ترین حربے استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ¿ حریت کی لُو مدھم نہیں کی جاسکی بلکہ اب تو ”سرینگر کی بیٹیاں‘ نڈر دلیر بچیاں نکل پڑی ہیں بہر آزادی وطن“ بھارتی فوجیوں پر پتھر برسا رہی ہیں ادھر بھارتی فوجی نفسیاتی عوارض کا شکار ہوکر خود اپنا شکار یعنی خودکشیاں کرکے خود کو سپرد جہنم کررہے ہیں۔پاکستان پر دراندازی کے الزامات کی بارش کرنے والے بھارتی حکمران دم بخود اور بھارتی میڈیا پر سیاپا جاری ہے بھارت کے مختلف شہروں سے کشمیر آکر تحریک آزادی کا عملی حصہ بننے والے نوجوان ان کے لئے ایک ڈراﺅنا خواب بن چکے ہیں۔ غاصب بھارتی فوجیوں سے لڑتے ہوئے رُتبہ¿ شہادت سے سرفراز ہونے والے محمد توفیق شہیدکے بھارتی شہر تلگانہ سے تعلق نے بھارت کے حکومتی ایوانوں میں سراسیمگی پھیلا دی ہے اور بھارتی میڈیا مجنونانہ کیفیات کا شکار ہوگیا ہے، بھارتی حکمران کنٹرول لائن اور ورکنگ باﺅنڈری پر روز انہ شیلنگ اور فائرنگ سے پاکستان سے ”تصوراتی دراندازی“ کے آگے بند باندھ دینے کے گمان میں مبتلا ہورہے ہیں حالانکہ تادم تحریر ایک بھی ثبوت اس حوالے سے پیش نہیں کیا جاسکا۔ سوال پیدا ہوتا ہے پٹھانکوٹ کے راستے مجاہد بن کر آنے والوں کو کیسے روکا جاسکے گا بالفرض ضلع گورداسپور میں واقع کشمیر میں داخلے کے اس واحد راستے کی ناکہ بندی کربھی لی جائے تب بھی جان دینے کا جذبہ لے کر آنے والے کے لئے ہزار راستے کھلے ہوتے ہیں ہاں انتہا پسند ہندو اور ان کی پشت پناہ حکمران بی جے پی پورے بھارت میں مسلمانوں اور دلتوں پر جو مظالم ڈھا رہے ہیں اس کے خلاف جوابی ردعمل کا آغاز ہوگیا ہے ادھر عالمی سطح پر سکھوں کی خالصتان تحریک نے بھارتیوں کیلئے پریشان کن صورتحال پیدا کررکھی ہے بھارتی نوجوانوں کو کشمیر آنے سے روکا گیا تو کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں گے نہیں، ہرگز نہیں بلکہ پھر تلگانہ کا محمد توفیق کشمیر آکر لڑنے کی راہ مسدود پاکرتلگانہ میں ہی بھارتی فوج سے نبرد آزما ہوگا اور وہ گھڑی جو بھارتیوں کے لئے محشر کی ہوگی دور نہیں جب بھارت کے اندر مزاحمتی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوں گی اور انتہا پسند بھارتی حکمران ناخنِ تدبیر لینے کی بجائے داخلی صورتحال سے پریشان ہوکر پاکستان سے جنگ چھیڑ سکتے ہیں یہ میرا ذاتی تجزیہ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے مودی اور اس کے پاکستان اور مسلمان دشمنی کے جنون میں مبتلا انتہا پسند ساتھیوں سے ایسا ہی بدگمان کیا جاسکتا ہے۔ ایک طرف بھارت اسلام آباد میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی اپنی سازش کو دوہرا رہا ہے 2016ءمیں اس کانفرنس کو اوڑی اور پٹھانکوٹ پر ”دہشت گردانہ حملوں کو آڑ بنا کر نہ صرف خود شرکت سے انکار کیا بلکہ بنگلہ دیش اور بھوٹان کو ساتھ ملا کر کانفرنس کا انعقاد ملتوی کرادیا تھا اب 2018ءمیں ہونے والی کانفرنس میں نہ صرف مودی نے خود شرکت سے انکار کیا بلکہ نیپال کے وزیراعظم کے پی شرما پر زور ڈال رہا ہے وہ بھی شرکت نہ کرے۔ دوسری طرف پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے ٹائمز آف انڈیا نے یہ من گھڑت رپورٹ شائع کی ہے کہ تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ سری لنکا میں پاکستانی سفارت خانے کا ویزہ قونصلر عامر زبیر صدیقی جنوبی بھارت میں امریکہ اور اسرائیلی سفارت خانوں پر ممبئی طرز کے حملوں کی منصوبہ بندی کررہا ہے، ذاکر حسین نامی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس نے اس منصوبہ کی نشاندہی کی۔ اس رپورٹ کا جائزہ لیا جائے یہ کسی عقل سے عاری شخص نے گھڑی ہے بھارت میں امریکی اور اسرائیلی سفارت خانوں کو نقصان پہنچا کر پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا یہ دراصل امریکہ اور اسرائیل کو پاکستان کے مزید خلاف کرنے کی عیارانہ کوشش ہے پاکستان کے کسی سفارت کار نے اگر بھارت میں ممبئی حملوں جیسے حملوں کی منصوبہ بندی کرنی ہے تو اس کا نشانہ بھارت کی تنصیبات ہوں گی تاکہ بھارت کو نقصان ہو امریکی اور اسرائیلی سفارت خانوں کو نقصان پہنچانے سے بھارت کا بھلا کیا بگڑے گا بھارتی دانشور اور میڈیا کے بزرجمہر بغور جائزہ لیں تو ان پر اس رپورٹ کے تیار کرنے والوں کی حماقت از خود روشن ہوجائے گی پاکستانیوں کو قدرت نے اس فہم و فراست سے مالامال کررکھا ہے کہ اہداف کیا ہیں اور کیسے نشانہ بنانا ہے۔ پاکستانیوں کو نشانہ بنانا ہوگا تو امریکی و اسرائیلی سفارت خانے ہی کیوں کیا بھارت کے اہداف کم ہیں جن سے بھارتی حکمرانوں اور فوج کو ان کے پاکستان مخالف کرتوتوں پر سبق دیا جاسکے۔
پاکستانی فوج نے جس سرعت کے ساتھ دہشت گردی کے عفریت پر قابو پایا ہے پوری دنیا میں یہ ایک منفرد حقیقت ہے۔ جنرل قمر باجوہ سے بیرون ملک یہ سوال نہ کیا جاتاتو اچنبھے کی بات ہوتی ساری دنیا دہشت گردی کا شکار ہے پاکستانی فوج نے اس حوالے سے بے مثال کامیابی حاصل کی پاکستانی فوج کے پاس ایسا کیا ہے جنرل باجوہ نے اس سوال کا جواب حب الوطنی اور عظمت کردار کا آئینہ دار ہے کہ پاکستانی فوج کے پاس زندہ جذبوں کی صورت ایسی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں ہیں جو اپنے بیٹوں، بھائیوں، باپوں اور شوہروں کو مادر وطن پر نچھاور کرنے کیلئے ہمہ وقت بخوشی تیار رہتی ہیں اور جب تک یہ اور ان کے ہمالہ سے بلند سمندروں سے گہرے اور صحراﺅں سے کئی گنا وسعتیں دامن میں لئے جذبے موجود ہیں دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔ بلاشبہ پوری قوم پاک فوج کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہے ۔ شہداءمیں تقسیم اعزازات کی تقریب سے خطاب میں جنرل قمر باجوہ نے شہداءکو محض خراج عقیدت ہی پیش نہیں کیا بلکہ ایک ناقابل تردید سچائی بیان کی ہے کہ آج ملک بھر میں امن شہداءکی قربانیوں کا نتیجہ ہے ملک کے اندر اور باہر سے ملکی سلامتی کے درپے عناصر دوبارہ امن تہہ و بالا نہیں کرسکیں گے اس حوالے سے میرا ذاتی یقین ہے یہ امن شہداءکی قربانیوں کا صدقہ ہے۔