قومی انتخابات میں عام آدمی کا داخلہ کیسے ممکن ہے

15 اپریل 2018

سٹیزن کونسل آف پاکستان ایک غیر سیاسی تنظیم ہے لیکن وہ پاکستانی عوام کو درپیش سیاسی ، غیر سیاسی ، معاشی اور تعلیمی مسائل پر مذاکراتی مجالس کا اہتمام کرتی رہتی ہے۔ سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خان نے چند روز قبل ایک انوکھے موضوع پر مذاکراتی مجلس کا اہتمام کیا۔ اس موضوع کا مرکزی خیال یہ تھا کہ آنے والے قومی انتخابات میں روایتی اور دولت مند سیاستدانوں کے بجائے متوسط طبقے کے پڑھے لکھے اور دانشور پاکستانی عوام کو صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں کیسے پہنچایا جائے۔ اگر یہ کسی طرح ممکن ہو جائے تو آئندہ دو تین انتخابات میں پاکستانی قوم کی جان روایتی اور وراثتی سیاست دانوں سے چھوٹ جائے گی اور قائداعظم کے ملک پاکستان کو ایک ایماندار اور وفادار قیادت کا تحفہ مل جائے گا۔ رانا امیر احمد خان نے اپنے ایک انکشاف میں کہا کہ پاکستان کی کُل آبادی میں سے صرف 20 یا 30 فیصد ووٹ پڑتے ہیں۔ قیادت کی نا اہلیاں اور پیداگیریاں دیکھ کر پاکستانی عوام کی اکثریت ووٹ ڈالنے کے لئے آتی ہی نہیں۔ گزشتہ انتخابات میں مسلم لیگ نون نے 18 فیصد جبکہ پیپلزپارٹی نے 12 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ باقی سیاسی جماعتوں کو ان سے بھی بہت کم ووٹ پڑے لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتیں یہی سیاسی جماعتیں چلائے جا رہی ہیں۔ جب تک پڑھا لکھا متوسط طبقہ قانون ساز اداروں میں منتخب ہو کر نہیں آئے گا۔ پاکستانی قوم لٹیرے سیاستدانوں کے قبضہ قدرت میں رہے گی اور خوار ہوتی رہے گی۔ سب سے پہلے میجر(ر ) شبیراحمد صاحب کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی ۔ میجر شبیر صاحب کو پاک فوج میں بے مثال کارکردگی پر تمغہ جات سے نوازا جا چکا ہے۔ مشرقی پاکستان میں آخری دن تک وہ کیچڑ میں کھڑے ہو کر جنگ کرتے رہے اور پھر گرفتار ہو کر بھارتی کیمپوں میں قید رہے ۔ میجر شبیر صاحب نے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں کسی سیاسی جماعت یا سیاسی لیڈر کی بات نہیں کروں گا۔ کیونکہ ان میں سے کوئی قائداعظم کے اعلی کردار کے نزدیک بھی نہیںجا سکا۔ میں سیاست کی بنیادی باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ کسی بھی ملک میں ریاستی حکمران اور آئین مثبت رول ادا کرتے ہیں۔ سیاسی زندگی ایمانداری سے کیسے گزارنی ہے یہی اصل جمہوریت کی روح ہے۔ اسلام سبق دیتا ہے کہ حصول زر کے لالچ میں انسانی جانیں قربان مت کرو بلکہ انسانی بھلائی کے لئے دولت کو استعمال کرو۔ ہماری پوری سول سوسائٹی گمراہی کا شکار ہے۔ اس سے یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ ایماندار لوگوں کو منتخب کرے گی۔ یہاں سیاست عوامی بھلائی کے لئے نہیں بلکہ اپنے ذاتی مفادات کےلئے کی جا رہی ہے۔ اس وقت عمران خان جرا¿ت رندانہ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ عمران خان کو ابھی حکومتی سطح پر آزمایا نہیں گیا۔ اسی لیے اسے اکثریتی ووٹ دے کر اس کا سیاسی امتحان لیا جا سکتا ہے۔ اس ملک میں عورتوں، بچوں اور غریبوں کے ساتھ جو سیاسی سلوک کیا جا رہا ہے اسے دیکھ کر دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ اسلامی قوانین کی بنیاد انسانی اصولوں پر قائم ہے۔ چور کا ہاتھ کاٹنے سے قبل یہ تحقیق ضروری ہوتی ہے کہ اس شخص کو چوری کی ضرورت کیوں درپیش ہوئی۔ اگر اس شخص نے مجبوراً چوری کی ہے تو چور کا ہاتھ کاٹنے کے بجائے حکمرانوں سے یہ سوال ضروری ہے کہ وہ غریب عوام کو روزگار کے ذرائع کیوں مہیا نہیں کر رہے۔
پروفیسر نصیر چوہدری نے انکشاف کیا کہ روایتی سیاستدان ہم سازش ہو کر انتخابات میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ ان کی کامیابی عوام کی ناکامی کے مترادف ہے۔ پاکستان میں اس وقت چالیس ہزار سے زیادہ این جی اوز ہیں ۔ ان میں سے تیس ہزار نے رجسٹریشن نہیں کروائی ہوئی۔ یہ تمام تنظیمیں عوامی بھلائی اور دیانت دار لوگوںکو قانون ساز اداروں میں لانے کے بجائے پیسے کمانے میں لگی ہوئی ہیں اور عوام سے دھوکہ دہی کی مرتکب ہو رہی ہیں۔ 37 لاکھ پڑھے لکھے لوگ نوکریوں سے محروم ہیں جبکہ پاکستان میں 58 فیصد لوگ بالکل ان پڑھ ہیں۔ لہذا یہ اپنے مفادات کے لئے دیہاتی علاقوں سے بڑے زمین داروں کو منتخب کروا رہے ہیں ۔ یہی اس ملک کی بدقسمتی کا باعث ہے۔ جب تک متوسط طبقے کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ قانون ساز اداروں میں نہیں آئیں گے پاکستان بدعنوان سیاستدانوں کی حکمرانی میں رہے گا۔
ممتاز قانون دان فیروز گیلانی نے اس حوالے سے ایک طویل تقریر کی اور بتایا کہ اسلام کا فلسفہ یہ ہے کہ عوام کی اکثر یت جن کے حق میں ہو، حکومت صرف انہیں ہی ملنا چاہیے۔ اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لئے انہوں نے بہت سے قانونی حوالہ جات بھی بیان کیے اور سپریم کورٹ میں دائر شدہ اپنی ایک درخواست کا بھی ذکر کیا۔ ان کے حوالہ جاتی موقف پر ایک اور کالم لکھا جا سکتا ہے۔ میں اس کالم نگاری کی ذمہ داری اٹھاتا ہوں ۔ اس کے بعد میری باری آئی تو میں نے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ قومی اور صوبائی انتخابات میں امیدوار کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں لہذا متوسط طبقے کے ایک پڑھے لکھے اور دانشور انسان کے لئے اتنے اخراجات برداشت کرنا ممکن ہی نہیں۔میری تجویز یہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران کپڑکے بینر ، ہر قسم کے اشتہارات، اخباری مہم بازی اور ذاتی اخراجات کے تحت جلسہ جات پر پابندی لگا دی جائے اور ہر انتخابی حلقہ میں حکومت کی طرف سے کسی میدان میں دو تین مرتبہ عوامی اجتماع کا اہتمام کیا جائے ۔ جس میں تمام امیدوار اپنا اپنا تقریری نکتہ نظر عوام کے سامنے رکھیں۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہوگا جس میں ایک متوسط پاکستانی بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے سکے گا۔ اس طرح پاکستانی عوام کی جان سیاسی قبضہ مافیا سے چھوٹ جائے گی۔ سابق آئی جی پولیس جناب الطاف قمر صاحب نے میری اس تجویز کی زبر دست حمایت کی اور پھر یوں ہوا کہ تمام حاضرین مجلس نے بھی سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خان سے درخواست کی کہ اس تجویز کو موثر بنانے کے لئے ایک عوامی مہم چلائی جائے۔اب....ع
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا