ساتویں ماسکو کا نفرنس برائے بین الاقوامی سلامتی

15 اپریل 2018

روس کے دارالحکومت ماسکو میں کانفرنس برائے بین الاقوامی سلامتی 2012ءسے ہر سال منعقد ہوتی ہے۔ ساتویں ماسکو کانفرنس اس سال 4تا5اپریل2018ءکو منعقد ہوئی۔ راقم کو بحیثیت سلامتی تجزیہ کار شرکت کا موقع ملا۔ روس اور برطانیہ کے مابین سفارتی چپقلش کے پس منظر میںعام خیال تھا کہ اس سال کی کانفرنس پھیکی پڑجائے گی۔ برطانیہ کے شہر سالسبری میں روسی نژاد جاسوس سرگئی سکر یپال اور انکی بیٹی یولیا کو زہر دینے کی کوشش کی گئی۔ گودونوں باپ بیٹی ہلاکت سے بچ گئے لیکن بر طانیہ نے بلا تحقیق روس پہ الزام دھر دیا کہ اقدام قتل ماسکو کی جانب سے ہوا۔ سرگئی سکریپال روس کے لئے جاسوسی کررہے تھے لیکن حال ہی میں انکشاف ہواتھا کہ وہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو (MI-5) کے لئے بھی جاسوسی کررہے تھے۔ حکومت برطانیہ نے روسی سفارتکاروں کو بر طانیہ سے ملک بدر کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ اور یورپی یونین نے بھی اظہار یکجہتی میں روسی سفارتکاروں کو ناپسند یدہ عناصر کادرجہ دیتے ہوئے ملک چھوڑنے پہ مجبور کیا۔روس نے بھی جوابی کاروائی میں امر یکہ ، یورپی یونین اور برطانوی سفارتکاروں کو ماسکو سے ملک بدر کردیا۔اس کشیدہ ماحول میں ساتویں ماسکو کانفرنس برائے بین الاقوامی سلامتی کامنعقد ہونا ہی ایک معجزہ تھا لیکن روسی وزارت دفاع قابل ستائش ہے کہ ا س نے احسن طریقے سے کانفرنس منعقد کی اورروائتی روسی مہمان نوازی کا اظہار کرتے ہوئے 950شرکاءجن میں30ممالک کے وزیر دفاع اور بہت سی مسلح افواج کے سربراہان شامل تھے کے ساتھ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے شرکاءنے جن میںراقم بھی شامل تھا مقالات پیش کئے۔ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے حکومتی اہلکار تشریف نہیں لائے لیکن ان کی کمی مختلف تھنک ٹینکس Think Tanks کے سربراہان نے شرکت کر کے پوری کی۔پاکستان کے وفد کی قیادت وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر کررہے تھے۔ جنہوں نے بھرپور طریقے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میںپاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کا ذکر کیا۔ اسکے علاوہ انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پہ بھارتی مظالم کی مذمت کی اور عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ بھارت کی جانب سے ظلم اور تشدد کو رکوائیں اور اقوام متحدہ کی قرار دادیں برائے کشمیر پہ عمل درآمد کویقینی بنائیں۔روس میں پاکستان کے سفیر نے اس اہم کانفرنس کے دوران صرف وزیر محترم کے ساتھ وقت گزارا۔ ان کے نزدیک پاکستان کی جانب سے دوسرے مدعوعین غیر ضروری تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سفارتکاری ناکام ہے سفیروں کو صرف حکومتِ وقت کی خدمت پیاری ہے دوسرے مہمانان کس حال میں ہیں یہ پوچھنا ان سفیروں کی شان کے خلاف ہے۔بھارتی وفد کی قیادت شریمتی نرملا ستھرا من کی لکھی لکھائی تقریر کے بھی پڑھنے میں وہ متعدد بار اٹک اٹک کر شرمندگی کاباعث بنیں۔پاکستان کا نام لئے بغیر انہوں نے بھارتی طوطے کی ر ٹ جاری رکھی کہ ہمارا پڑوسی دہشت گردی اور شدت پسندی کی سرپرستی کرتا ہے۔ اسے باز آنا پڑے گا۔ افغانستان میں بھارتی رول کاراگ الاپتی رہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی جنہوں نے گزشتہ برس پاکستان کو اپنی تقریر کے دوران تنقید کا نشانہ بنایا تھا اس مرتبہ پاکستان پہ کچھ مہربان تھے اور اپنا ہاتھ ہلکار کھا۔
شرکاءنے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اورعالمی سطح پہ ان کی پایسی کی خامیوں کو اجاگر کیا۔ تمام شرکاءنے صدر پیوٹن کودوبارہ روس کا صدر منتخب ہونے پہ مباردکباد پیش کی جبکہ برطانیہ کی جانب سے روسی جاسوس کے معاملے میں روس پر الزامات اور اس کے خلاف اقدامات کی دھجیاں اڑائیں۔ساتویں ماسکو کانفرنس برائے عالمی سلامتی میں داعش کی شکست اور شام میں داعش کے علاوہ مغرب کی جانب سے فضائی حملوں پہ زیادہ توجہ تھی۔ غوطہ اور دوسرے شامی علاقوں میں مقامی لوگوں کی کسمپر سی اور خستہ حالی کواجاگر کیا گیا۔جن روسی کمانڈروں نے شام کے فضائی اور زمینی حملوں میں قیادت کی تھی انہوں نے اپنے تجربات سے آگاہ کیا۔ شام کے عوام اور حملوں سے متاثرین سے اظہار یکجہتی اور انکی حمائت کا اعادہ بھی کیا گیا۔ایک موضوع جوزیادہ توجہ کا مرکز بناجس میں راقم نے بھی شرکت کی وہ تھی سوفٹ پاورSoft Powerبمقابلہ ہارڈ پاور۔ جہاں ہارڈ پاور میں طاقت کے استعمال سے دشمن کو زیر کیا جاتا ہے۔اسکے برعکس سوفٹ پاور کے ذریعہ وہ اقدامات بروئے کارلائے جاتے ہیں، جن میں طاقت کے برعکس نرمی برتی جاتی ہے۔سوفٹ پاور کے ذریعہ حریف کو اچھے اقدامات سے قائل کیا جاتا ہے کہ وہ تشدد سے باز آئے۔2012ءمیں ہارورڈیونیورسٹی Harvard Universityکے پروفیسر جوزف نائی نے سوفٹ پاور کا پرچار کیا تھا کہ حریف کو یہ باور کیا جائے کہ پراپیگنڈہ بھی پراپیگنڈہ نہ محسوس ہو۔ پروفیسر نائی نے بیان کیا تھا کہ معلومات یا انفارمیشن کی موجود ہ گھڑی میں اعتبار لازمی ہے۔ جھوٹ پکڑا جاتا ہے۔ انکے مطابق قومی سلامتی کے ہتھیار سفارتکاری ،اسٹر اٹیجک مواصلات اور رابطے، بین الاقوامی امداد اور معاشی ترقیاتی منصوبے ہیں۔
کچھ مقررین نے یاد دلایا کہ امر یکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیوبش نے2001 میں پاکستان سے سوال کیا تھا کہ آیاآپ ہمارے ساتھ ہیں یاہمارے مخالف ؟ ان کا یہ سوال دراصل دھمکی تھی جسکی وضاحت یوں کی گئی تھی کہ اگر آپ نے ہمارا ساتھ نہ دیا تو آپ پہ بمباری کرکے آپ کو زمانہ قدیم میں پہنچایا دیا جائے گا۔ یہ دراصل ہارڈ پاور یا طاقت کے استعمال کی دھمکی تھی۔ جارج بش یہ دھمکا رہے تھے کہ اگر پاکستان نے ان کا ساتھ نہ دیا تو اس پہ پابندیاں لاگو کردی جائیں گی جن کا اسے شدید خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔راقم نے تاریخ سے یہ واقعہ سنایا کہ بھارت میں خاندان مغلیہ کے دور حکومت میں شہنشاہ جلال الدین اکبر اگر کسی ریاست پہ قبضہ کرنا چاہتے توبجائے فوجوں کے ساتھ چڑھائی کرنے کے وہ اپنا ایک ایلچی روانہ کرتے جو بغیر سواری کے ایک ہاتھی لے کر مطلوب ریاست کے راجہ کے دربار میں پیش ہوتا، ہاتھی کے ہودے پہ سواری کے بجائے شہنشاہ اکبر کے پاﺅں کی جوتی ہوتی۔ اگر راجہ شہنشاہ اکبر کی جوتی عزت اور احترام سے اٹھالیتاتو اسکے معنی تھے کہ اس نے خاندان مغلیہ کی اطاعت قبول کی۔ یوں اکبر نے17ریاستیں بغیر جنگ کے فتح کیں۔ میرا بیانیہ یہ تھا کہ گوشہنشاہ اکبر کا یہ اقدام سوفٹ پاور تھا لیکن دراصل یہ دھمکی تھی لہذا اسکا شمار ہارڈ پاور میں ہونا چاہیے۔
روسی وزارت دفاع داد کی مستحق ہے کہ اس نے اتنی بڑی کانفرنس اتنے احسن طریقے سے انجام دی۔ کاش اس کانفرنس میں کئے گئے وعدوں سے وفا بھی کی جائے۔