شہباز شریف اور ناراض عناصر سے رابطے کی ضرورت

15 اپریل 2018

عام انتخابات میں دو ماہ سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے اور اقتدار کی بساط پر مختلف کردار اپنے اپنے انداز میں کھل کھیلتے صاف نظر آ رہے ہیں۔ گذشتہ جمعرات کی شام اہلیان لاہور کے لئے انتہائی تکلیف دہ شام تھی جب ایک مذہبی تنظیم کے دھرنے اور احتجاج نے خواتین، بچوں، مریضوں، ہسپتالوں سے 36 گھنٹے تک ڈیوٹی دے کر گھروں کو لوٹنے والے ڈاکٹروں اور عام شہریوں کو رُلا دیا۔ وزیراعلیٰ اور مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف دوسرے مسائل کے ساتھ ساتھ جنوبی پنجاب کے الگ صوبے جیسے اچانک مسئلہ بن جانے والے معاملے میں الجھے تھے۔ اراکین اسمبلی کو قابو کرنے کی کوششوں کاحصہ بنے تھے اور ان کی بڑی کابینہ میں کام کے چند وزرا دھرنے والوں اور بعض دوسرے معاملات کو سدھانے میں لگے تھے۔ ایسے میں یہ نہیں دیکھا گیا کہ عوام کو عذاب سے جلد نجات دلائی جائے لگتا ہے کہ جوں جوں 31 مئی کی تاریخ قریب آتی جائے گی۔ سیاسی کشمکش ہر سطح پر بڑھتی جائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان نے دوسری وجوہات کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف پر ایک الزام یہ بھی لگایا ہے کہ وہ چند قریبی احباب کے علاوہ کسی اور کو اہمیت نہیں دیتے تھے جبکہ میاں صاحب نے احتساب عدالت میں معمول کی پیشی کے بعد ان حضرات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں کو پہلے سے جانتے تھے اس لئے ان کو کبھی اہمیت نہیں دی۔ مسلم لیگ (ن) کے لئے ان دنوں کوئی ایک مسئلہ نہیں۔ مختلف عدالتوں میں احتساب کے حوالے سے کیس چل رہے ہیں۔ اپنی حکومت ہونے کے باوجود آہستہ آہستہ افسران پہلو تہی کر رہے ہیں۔ میاں نوازشریف کے ساتھ اب وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کی طرف سے بعض انتظامی فیصلے تحقیق تفتیش کی زد میں ہیں پچاس کے لگ بھگ کمپنیوں کے ریکارڈ کا معاملہ ہے۔ احد چیمہ جیسے متعلقہ اہم افسر نیب کے پاس ہیں پنجاب کے مختلف محکموں کے سرکاری ملازمین صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے جائز اور نا جائز مطالبات منوانے کے لئے آئے دن ”دھرنا سیاست“ کے پتے استعمال کر رہے ہیں۔ اس پس منظر میں میاں صاحب کا صحیح مو¿قف سامنے لانے کے لے ایک اہم کردار ان کے سرکاری اور نجی میڈیا ونگ کو ادا کرنا تھا لیکن گذشتہ دو تین ماہ کی متعلقہ افسران کی کارکردگی اس لئے زیادہ مو¿ثر نہیں نظر آتی کہ اس شعبے میں ایسے لوگ آ چکے ہیں جو اس بات سے لا تعلق ہیں کہ میڈیا میں کیا شائع ہو رہا ہے اور کس اعتراض کی کس انداز سے وضاحت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔ اگر چودھری نثار اور پرویز رشید کی محاذ آرائی کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہر چند مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے لئے یہ مشکل وقت ہے لیکن یہ نہیں دیکھا جا رہا کہ یہ مشکل وقت کن حضرات کی وجہ سے آیا ہے۔ ارکان اسمبلی شاکی ہیں تو لیگل ونگ، میڈیا ونگ، پولیکل ورکرز ونگ کے ایسے انگنت حضرات شاکی ہیں جو کسی لالچ کے بغیر ملک و قوم کے مفاد میں مسلم لیگ (ن) کے حامی تھے مگر اب خاموش ہوتے جا رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے پس منظر میں بھی یہی شکوہ اور شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ لاہور میں ایک حصے کو جدید تر بنانے کے لئے اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے مگر شہر کے بعض حصوں میں خاص طور پر جو مسلم لیگ کے گڑھ تھے جن میں شاد باغ تا اکبری منڈی کا علاقہ بھی شامل ہے کسی بڑے ترقیاتی میگا پروجیکٹ سے محروم رہے ہیں۔ خاص طور پر ایک موریہ دو موریہ پل چوک جو اکبری منڈی برانڈرتھ روڈ اور موچی دروازہ سمیت علاقے کے تاجروں اور دوسری طرف شاد باغ کے اطراف کی آبادیوں کے شہریوں کے لئے ہمیشہ سے عذاب بنا رہا ہے۔ فلائی اوور یا انٹر چینج منصوبہ کا متقاضی تھا وقفے وقفے سے اعلانات بھی ہوئے۔ بینر بھی لگے مگر پھر صورتحال جوں کی توں رہی اب اس علاقے کے لوگ ناراض ہیں۔ ہم نے ان کالموں میں کئی بار لکھا کہ ان لاہوریوں کی طرف بھی دھیان دیجئے جو آپ کے حامی ہیں لیکن مختلف شعبوں میں اجنبی افسروں نے میاں صاحب کو شاید دوسرے کاموں کی طرف متوجہ رکھا ہے۔ اب جبکہ 31 مئی کی تاریخ قریب ہے اور عدالتوں سے بھی تاحیات نااہلی جیسے فیصلے آ رہے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے نئے صدر میاں شہبازشریف کو ان ناراض عناصر کی طرف دھیان دینا ہوگا جو معاشرے کے مختلف حصوں میں موجود ہیں اور جو پہلے حامی تھے مگر قدر نہ ہونے کے باعث یا تو مخالف کیمپ میں جا رہے ہیں یا گوشہ نشین ہوتے جا رہے ہیں۔