مریم نواز کی ’’تلخ نوائی ‘‘

15 اپریل 2018

بظاہر پاکستان کی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نئی انٹری ہے لیکن وہ پچھلے کئی سالوں سے ملکی سیاست میں ’’خاموش ‘‘ کردار ادا کر رہی ہیں ان کے والد میاں نواز شریف میں اس حد تک مشرقیت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی ہونہار صاحبزادی مریم نواز کو مسلم لیگی رہنمائوں کے اجلاس میں بٹھانے کیلئے تیار نہیں تھے۔ مشرقی ماحول میں پلی بڑھی لڑکی کو اچانک ملکی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت کیسے دے دی ؟
مسلم لیگی رہنما چوہدری نثار علی خان نے بتایا کہ سب سے پہلے انہوں نے میاں نواز شریف کو اس بات کا قائل کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے اعلی ٰسطح کے اجلاسوں میں اپنی نشست کی پشت پر بٹھایا کریں تاکہ وہ قدرے حجاب میں رہ کر اجلاس کی کارروائی کے نوٹس لے کر جائزہ لیں۔ اس کے بعد ہی مریم نواز مسلم لیگ(ن) نے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت شروع کی پھر دیکھتے ہی دیکھتے مسلم لیگ(ن) کا تمام انتظام و انصرام مریم نواز کے ہاتھ میں آگیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کی ایک ٹیم بنائی جس نے دنوں میں عمران خان کے ’’ میڈیا سیل‘‘ کو پسپائی پر مجبور کر دیا ۔مریم نواز گو تجربہ کے لحاظ سے تو جونیئر سیاست دان ہیں لیکن انہوں نے سوشل میڈیا پر نواز شریف کے سیاسی مخالفین کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا لیکن جب وہ ٹویٹ پر اپنا پیغام دیتی ہیں تو وہ نہ صرف زور دار ہوتا ہے بلکہ سیاسی حلقوں میں موضوع گفتگو بھی رہتی ہیں۔
بعض اوقات ان کے بیانات میں ’’تلخ نوائی ‘‘ ہوتی ہے یہ ’’ تلخ نوائی ‘‘ وقت کے جبر کی پیدا کردہ ہے۔ وہ اپنے والد میاں نواز شریف کے ہمراہ احتساب عدالت میں پچھلے6،7ماہ سے 50سے زائد پیشیاں بھگت چکی ہیں بلکہ پچھلے چند دنوں سے تو مسلسل روزانہ احتساب عدالت میں پیش ہو رہی ہیں ۔ انہیں اپنے والد کے ہمراہ اپنی والدہ بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لئے برطانیہ جانے کی اجازت نہیں ملی لیکن اس کے باوجود وہ حوصلے اور جرأت سے صورت حال کا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ یہ ان کے مضبوط اعصاب ہی ہیں کہ وہ ’’ جبر کے ماحول‘‘ میں جرأت و استقامت سے ہر قسم کے نتائج کی پرٍوا کئے بغیر ہر روز عدالت کے دروازے پر کھڑی ہوتی ہیں انہوں نے میدان سیاست میں قدم رکھا تو ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے لیکن وہ احتساب عدالت میں چٹان کی طرح اپنے عظیم والد کے ساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔ انہیں ’’قید وبند ‘‘ کی صعوبتوں کا خوف دلا کر سیاسی طور پر سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن وہ ’’شیرنی‘‘ کی طر ح بپھر جاتی اور اپنے سیاسی مخالفین پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں ’’تلخ نوائی ‘‘ ہوتی ہے۔
اس’’ تلخ نوائی ‘‘ کا ایک پس منظر ہے وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ کن حالات میں ان کے والد میاں نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی اور اب کس طرح 2018ء کے انتخابات میں مسلم لیگ(ن) کا سائز کم کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ بلوچستان کے بعد جنوبی پنجاب میں آزاد گروپ بنانے کے فارمولے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز کے الفاظ کی کاٹ سیاسی مخالفین محسوس کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے جلسوں سے خطاب کر کے اپنی سیاسی دھاک بٹھا دی ہے۔
12اکتوبر1999ء کے ’’پرویزی مارشل لائ‘‘ میں مسلم لیگ (ن) کے پر کاٹنے کی کوشش کی گئی‘ سب سے زیادہ نقصان مسلم لیگ(ن) کوا ٹھانا پڑا ۔مسلم لیگ (ن) جو ملک کی سب سے بڑی جماعت تھی اس کا شیرازہ بکھیر کر ایک سرکاری مسلم لیگ قائم کر دی گئی۔ سرکاری مسلم لیگ کی باقیات موجود ہیں لیکن یہ جماعت اپنی حیثیت کھو بیٹھی ہے۔ اب کی بار مسلم لیگ ن کے اندر بغاوت پیدا کرنے کی کوشش تو کی گئی ہے جس کے نتیجے میں جنوبی پنجاب سے وفاداریاں تبدیل کرنے میں شہرت رکھنے والے چند افراد نے ’’جنوبی پنجاب صوبہ محاذ‘‘ بنا لیاہے لیکن مسلم لیگ ن کی صفوں میں ابھی تک کوئی بڑی دراڑ پیدا نہیں ہو سکی جس سے مسلم لیگ ن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکے۔
میاں نواز شریف نے یہ بات برملا کہی ہے کہ انھیں اڈیالہ جیل کی قید و بند کی صعوبتوں سے ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن وہ اس حد تک پرعزم دکھائی دیتے ہیں کہ جیل کی کال کوٹھری بھی ان کے لئے ’’حجلۂ عروسی ‘‘سے کم نہیں۔ نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کی قید اٹک قلعہ میں جرات و استقامت سے جھیلی‘ جبکہ ان کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی تھی۔ اب جبکہ پاکستان کے بیس کروڑ عوام کے منتخب وزیر اعظم کو احتساب عدالت میں ایسے مقدمات میں الجھا دیا گیا ہے جن کو استغاثہ کیلئے ثابت کرنا ناممکن ہے لیکن وہ ہر روز اپنی بہادر بیٹی مریم نواز کے ساتھ کھڑے ہو کر ان تمام قوتوں کو جو انھیں سیاسی میدان میں شکست نہیں دے سکتیں، یہ باور کرانے کی کوششیں کرتے ہیں کہ وہ جیل جانے سے خوفزدہ ہیں اور نہ ہی ان کے اعصاب اس قدر کمزور ہیں کہ وہ سرنڈر کر دیں۔
میاں نواز شریف کی سیاسی زندگی میں متعدد بار مشکل مراحل آئے لیکن وہ ہر بار سرخرو ہو کر نکلے۔ پاکستان کی ستر سالہ سیاسی تاریخ میں سترہ وزرائے اعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کر پائے۔ نواز شریف ان ہی وزرائے اعظم میں سر فہرست ہیں جنھیں تین بار اپنے اقتدار کی مدت کو مکمل نہیں کرنے دیا گیا۔ مریم نواز اس وقت مشکل ترین وقت میں اپنے باپ کے ساتھ ثابت قدمی سے نہ صرف کھڑی ہیں بلکہ انھیں اپنی سیاسی عمر سے بڑے مشورے بھی دے رہی ہیں۔ اس وقت عملاً مریم نواز ہی میاں نواز شریف کی سیاسی مشیر ہیں‘ نواز شریف کے بیشتر سیاسی فیصلوں میں ان کی رائے شامل ہوتی ہے۔ پارٹی کے اندر چند سینئر مسلم لیگیوں کیلئے یہ صورتحال قابلِ قبول نہیں ہے لیکن یہ زمینی حقائق ہیں کہ مریم نواز ہی مسلم لیگ ن کی کرتا دھرتا ہیں۔مریم نواز کی تلخ نوائی سے جہاں کچھ اپنے’’نالاں‘‘ ہیں وہاں وہ قوتیں بھی مریم نواز کے ٹوئیٹس اور اخبار نویسوں کے ساتھ مختصر گفتگو سے پریشان دکھائی دیتی ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے نامور صحافی و ادیب نے کیا خوب کہا تھا …؎
شورش مری نوا سے خفا ہے فقیہہ شہر
لیکن جو کر رہا ہوں بجا کر رہا ہوں میں
مریم نواز کے انداز سیاست سے ان کی اپنی پارٹی کے بعض سینئر لیڈروں کو بھی تحفظات ہیں لیکن حالات کی سنگینی پر کئے جانے والی ان کی تلخ نوائی سے کسی کو انکار نہیں۔ سب ہی اس بات پر متفق ہیں کہ ان کے لیڈر کو ’’فکس اپ‘‘ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور انھیں ’’ناکردہ گناہوں‘‘ کی ’’پاداش‘‘ میں سزا دینے کی تیاریاں مکمل ہونے کو ہیں۔ مریم نواز اپنے والد میاں نواز شریف کے لئے حوصلے و استقامت کا پہاڑ ہیں۔
میاں صاحب کی اہلیہ ہزاروں میل دور کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جرأت و استقامت سے لڑائی لڑ رہی ہیں جبکہ میاں نواز شریف اور مریم نواز ثابت قدمی سے ہر قسم کے مصائب کا مقابلہ کر رہے ہیں۔میاں نواز شریف اور مریم نواز اپنے سیاسی و غیر سیاسی مخالفین سے’’ چومکھی‘‘ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ جس طرح ان کے وکلاء احتساب عدالت میں قانونی جنگ میں انھیں انصاف دلانے کی بھرپور کوشش میں مصروف ہیں‘ اسی طرح میاں نواز شریف اور مریم نواز پبلک کی سطح پر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
میاں نواز شریف نے اگلے روز یہ سوال اٹھایا ہے کہ اڈیالہ جیل والوں کو کیسے پتہ چلا کہ کوئی آ رہا ہے؟ چھ ماہ کی مدت ٹرائل مکمل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ناکردہ گناہوں کی پاداش میں سزا دی جا رہی ہے۔ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ پورا ملک جانتا ہے کس کے غیر متزلزل عزم و حوصلہ نے وطن عزیز سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا۔ آج امن کی واپسی ممکن ہوئی ہے تو اس میں بندہ ناچیز کا بھی کردار ہے ۔ ہم نے ملک سے اندھیروں کا دیس نکالا کیا۔ اگر عمران خان ہمارا ساتھ دیتے تو ہم انہیں بھی اپنے ساتھ آگے لے چلتے‘ کیونکہ ملک کا مفاد ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے‘ مگر عمران خان نے گالی گلوچ کی سیاست کے سوا کچھ نہ کیا۔
مبصرین کے مطابق اس بات کا کریڈٹ مریم نواز کی سوشل میڈیا ٹیم کو جاتا ہے جس نے کپتان کی سوشل میڈیا ٹیم کو لگام دے دی۔ مریم نواز نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ انتقامی فیصلوں کی ان سے حمایت کی توقع رکھنا عبث ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اداروں سے تصادم چاہتے ہیں اور نہ ہی ان کے بیانات سے تصادم کی بو آتی ہے‘ بلکہ جبر کے ماحول میں انھیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مگر ان تمام اوچھے ہتھکنڈوں کے باوجود نواز شریف جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے اپنے شیوہ پر قائم اور مخالفین کے سامنے ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔