اتوار ‘28 رجب المرجب ‘ 1439 ھ ‘ 15 اپریل 2018ء

15 اپریل 2018

پیپلز پارٹی ہمیشہ آرٹیکل 62 میں ترمیم کا کہتی رہی: شیری رحمن
اس بات پر تو اور بھی بہت سے لوگوں کو حیرت ہے کہ آئین میں کی گئی مختلف ترامیم سے اکثر و بیشتر چھیڑ چھاڑ کی گئی مگر آرٹیکل 62 واحد وہ زرنگار ہے جس پر کسی نے انگلی اٹھائی نہ کسی نے آنکھ سے کوئی اشارہ کیا۔ یہ اس حالت میں بنی سجی سنوری رہی جس طرح وجود میں آئی تھی۔ اب شیری رحمن صاحبہ جو خیر سے سینٹ میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں نے بڑے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکی جماعت یعنی پیپلز پارٹی ہمیشہ پارلیمنٹ میں آرٹیکل 62 میں ترمیم کا کہتی رہی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اگر اس وقت کسی نے اس صدا پر کان دھرا ہوتا تو آج شاید یہ وقت دیکھنا نہ پڑتا اور ”لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا“ والی حالت نہ ہوتی۔ اب سانپ نکل گیا تو لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ۔”اب کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“ اس آرٹیکل سے جو وار ہونا تھا وہ ہو چکا۔ اب یہ دو دھاری تلوار نیام سے نکل چلی ہے اور چلتی رہے گی۔ اس کو روکنا یا نیام میں ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ہو گا۔ جو لوگ اس سے محفوظ رہیں گے وہ اس کی حمایت میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیں گے جو لوگ اس کی زد میں آئینگے۔ وہ خوب شوروغل مچائیں گے۔ اب یہ ایک نیا موضوع سیاستدانوں اور عوام کے درمیان عرصہ دراز تک زیربحث رہے گا۔ تاحالانکہ پارلیمنٹ میں اکثریت رکھنے والی کوئی جماعت اس شکرے کے پر نہ کترے۔ اس کی پرواز فی الحال کچھ عرصہ جاری رہے گی۔
........................
گجرات میں خانہ بدوشوں کی شادی‘ لیموزین سمیت 20 سے زیادہ جدید لش پش گاڑیوں میں بارات آئی۔
یہ پکھی واس مانگنے والے وہ لوگ ہیں جو جھونپڑیوں میں رہتے ہیں انہیں ہم جھگی نشین کہتے ہیں۔ اب یہ لوگ بھی جدید دور کے ہم قدم ہو کر چلنے لگے ہیں۔ بظاہر گندی جگہوں پر پھٹے پرانے کپڑوں معمولی جھونپڑیوں میں ملبوس یہ لوگ عام طور پر بڑے غریب اور مسکین نظر آتے ہیں مگر اندر خانے ان کا وسیع کاروبار بھیک مانگنے سے لے کر منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ اور اغوا تک پھیلا ہوا ہے۔ جبھی تو کوئی باقاعدہ کاروبار نہ کرنے کے باوجود انکے پاس ہمہ وقت اچھی خاصی رقم رہتی ہے۔ اب تو لینڈ مافیا بھی ان کی مدد سے خالی سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنے کی کامیاب پلاننگ کرتا ہے۔ کسی بھی قیمتی جگہ پر چند جھگیاں ڈال کر بظاہر یہ غریب گھرانے بیٹھ جاتے ہیں پھر آہستہ آہستہ لینڈ مافیا وہاں اپنے پنجے گاڑتا ہے۔ چوری چکاری‘ ڈکیتی وغیرہ میں بھی یہ ملوث رہتے ہیں۔ حالانکہ یہ ان کا فن نہیں ہے۔ کسی زمانے میں یہ پکھی واس خانہ بدوش مٹی اور لکڑی کے کھلونے گھوگھو گھوڑے وغیرہ بنا کر‘ چھوٹی موٹی آرائشی اشیا بنا کر یا ڈگڈگی بجاتے ہوئے بندر‘ ریچھ‘ بکری اور کتے کے کرتب اور پتلیوں کا تماشہ دکھا کر اپنا پیٹ پالتے تھے یہی ان کی روایت تھی جو اب بدل چکی ہے۔ گجرات میں جہاں ان پکھی واسوں کی شادی کی تقریب ہوئی اس میں جس طرح لیموزین سمیت درجنوں قیمتی گاڑیوں پر مشتمل برات آئی وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ خوب جی بھر کر پیسہ بھی لٹایا گیا۔ ویسے بھی جب پورا معاشرہ دکھاوے کے مرض کی لپیٹ میں آیا ہو تو ان بے چاروں سے گلہ کیسا۔ ابھی کچھ دن پہلے ایک تاجر خاندان کا دولہا سونے کے جوتے پہن کر بارات لایا اسکے بٹن اور تاج بھی سونے کا تھا۔ ایسے نودولتیوں کو دیکھ دیکھ کر یہ پکھی واس بھی اگر اپنے پنکھ پھیلانے لگے ہیں تو گلہ کیسا۔
لوڈشیڈنگ کے خلاف پیپلز پارٹی کا 20 اپریل سے پنجاب میں احتجاج کا اعلان
یہ تو لگتا ہے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ جب خیر سے خود پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں لوڈشیڈنگ نکتہ عروج پر تھی جس کی سب سے زیادہ ذمہ داری بھی انہی کے سر جاتی ہے تو مسلم لیگ (ن) والے احتجاج کرتے تھے۔ آج جب وہی جماعت لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کرے گی جس کا یہ تحفہ ہے، تو لوگ اس پر ہنسیں گے نہیں۔ بجلی کی قلت موجود ہے مگر پہلے سے بہت زیادہ کم ہے۔ وہ وقت بھی سب کو یاد ہے جب 18 سے 20 گھنٹے بجلی غائب رہتی تھی۔ یو پی ایس بھی جواب دے جاتے تھے۔ اس وقت وزیراعلیٰ پنجاب مینار پاکستان پر کیمپ لگا کر ہاتھ والا پنکھا جھلتے ہوئے پی پی پی کی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے تھے۔ آج تو وہ حالت نہیں مگر پھر بھی عوام احتجاج کر رہے ہیں یہ ان کا حق ہے۔ کم از کم پیپلز پارٹی والے تو اپنی حکومت کی کارکردگی یاد رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کریں۔ حکومت بھی خوف خدا کرے۔ اپنے بجلی کی قلت کے خاتمے کے دعو¶ں کی لاج رکھے۔مخالفین تو اس وقت پنجے جھاڑ کر حکومت کے پر نوچنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ محکمہ بجلی ہی کچھ کارکردگی دکھائے۔ بجلی کی چوری اور لائن لاسز کم کر کے ہی نیک نامی کمائیں۔ ورنہ یہی حالت جاری رہی تو لوگ ایک بار پھر سڑکوں پر ہونگے۔ گرمی جیسے جیسے بڑھ رہی ہے لوگوں کے دماغ بھی کھولنے لگے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ یہ کھولتا ہوا لاوا الیکشن کے دن پولنگ سٹیشنوں پر بہہ نکلے پھر جو ہو گا اس کا انجام سب کو معلوم ہے۔ خود پیپلز پارٹی والے یہ انجام پہلے ہی بھگت چکے ہیں۔
........................
ارجنٹائن کے مال خانے سے ساڑھے 13 من منشیات غائب۔ چوہے کھا گئے: پولیس
یہ تو ارجنٹائن کی پولیس بھی ہماری پولیس کی ہی پیٹی بھائی نکلی۔ جو کام یہاں ہوتا ہے وہاں بھی ہوتا ہے۔ گویا پولیس جہاں کی بھی ہو اس کا کلچر یکساں ہے۔ یہ تو پولیس کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے۔ وہ چاہے کر کے دکھائے کوئی اس پر اعتراض کر سکتا ہے نہ سوال۔ ہم تو اپنی پولیس کو روتے رہتے ہیں مگر اب یقین آ رہا ہے کہ دیگر ممالک میں بھی پولیس والوں کے یہی لچھن ہیں۔ اب ارجنٹائن کے مال خانے سے ساڑھے 13 من منشیات غائب ہوئی۔ تحقیقات ہوئیں تو پولیس والوں نے ہمارے پولیس والوں کی طرح جھٹ سے جواب گڑھ لیا کہ چوہے منشیات کھا گئے۔ یہ تو شکر ہے صرف منشیات تھی ورنہ ہمارے ہاں مال خانوں سے اسلحہ‘ گاڑیاں‘ بارود‘ سونا‘ چاندی تک چوہے کھا جاتے ہیں۔ کیا معلوم ارجنٹائن کے چوہوں کو لوہا کترنے کا فن نہ آتا ہو ورنہ وہ اس کام میں بھی مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔ اب اتنی مقدار میں منشیات کھانے کے بعد اس شہر میں چوہوں نے اودھم کیوں نہ مچایا۔ عام آدمی بھی جی بھر کر نشہ کرے تو ناچنے لگتا ہے۔ سڑکوں پر نالیوں میں پڑا ملتا ہے یا کہیں کتوں اور بلیوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر شب بسری کرتا نظر آتا ہے۔ صاف پتہ چلتا ہے کہ پولیس والوں نے خود یہ منشیات بیچ کر رقم کھری کی ہو گی۔ ہمارے ہاں بھی تو یہی ہوتا ہے۔ مال خانوں سے کروڑوں روپے کی قیمتی اشیا پولیس والے ہضم کر جاتے ہیں۔ گاڑیوں اور دیگر مشینری کے پرزے نکال لیتے ہیں صرف ڈھانچہ عبرت کا نشان بنا وہاں رہنے دیتے ہیں۔ جن مال خانے میں کچھ بھی نہ چھوڑا ہو تو ان میں آگ لگ جاتی ہے۔ یہ کام بھی شارٹ سرکٹ پر ڈال دیا جاتا ہے۔ شکر ہے چوہے آگ لگانے کے الزام سے مبرا ہیں۔
........................